ہم جہنم سے کیسے نکلیں

10 جون 2013

مکرمی! وزیراعظم پاکستان میاں محمد نوازشریف کے بیان کے مطابق پاکستان اس وقت 16 ہزار ارب روپے کا قرض دار ہے اور خزانہ خالی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس طرح کے نہ ملک ہوتے ہیں نہ چلتے ہیں وجہ اس کی صرف ایک ہے کہ پاکستان کے چاروں صوبے ایک دوسرے پر بلکہ پنجاب پر اس ملک کو قائم رکھنے کا احساس کرتے ہیں۔ پختون خوا کے کچھ لوگ تو شروع ہی سے پاکستان کے خلاف ہیں۔ سندھ کے حکمرانوں نے ملک پر سندھ کارڈ مسلط کر رکھا ہے جس کی وجہ سے انہوں نے ہمیشہ کالا باغ ڈیم کی مخالفت کی اور ایک غلط قسم کا پراپیگنڈہ سے سندھی قوم کو کالا باغ ڈیم سے متنفر کیا حالانکہ اس ڈیم کے مکمل ہونے پر سب سے زیادہ فائدہ سندھ ہی کو ہوگا۔ اسے پانی بھی اب سے دُگنا نہیں توڈیڑھ گنا زیادہ ملے گا۔ اس سے سارے ملک کو سستی بجلی تقریبا ڈیڑھ روپیہ یونٹ کے حساب سے 3600 میگاواٹ بھی دستیاب ہو گی جو نیشنل سرکٹ پر آ کر 50 سنٹی گریڈ میں سندھ کے جھلستے لوگوں کو آرام دے سکتی ہے اور لوڈشیڈنگ بھی جلد سے جلد ختم ہو سکتی ہے۔ پاکستان دنیا میں واحد ملک جو ڈیڑھ روپے یونٹ بجلی حاصل کرنے کی بجائے تقریباً اٹھارہ بیس روپے یونٹ کی بجلی استعمال کرتا ہے یہی چیز خزانہ خالی کر رہی ہے اور لوڈشیڈنگ بھی ختم نہیں ہو رہی، کاروبار بند انڈسٹریاں ختم، مہنگائیاں ، بھوک، خودکشیاں، دہشت گردیاں، بنک ڈکیتیاں، اغوا برائے تاوان، ذہنی خرابی کا باعث ہیں۔ اس ملک کے سیاستدانوں نے کالا باغ ڈیم کے متعلق لب سی رکھے ہیں ان کے نزدیک کالا باغ ڈیم کا نام لینا ہی گناہ ہے۔ ہم لوگ 65 برس سے پتھر سے سر ٹکرا رہے ہیں کیا ایسے حالات میں ملک قائم رہتے ہیں؟ صوبے آپس میں کسی بات پر اتفاق رائے نہیں کر سکتے۔ ٹارگٹ کلنگ اور مذہبی انتہا پسندی مزید سر پر سوار ہے۔ بدامنی کی وجہ سے کسی کی جان محفوظ نہیں ہم نے جنت سے ملک کو جہنم بنا رکھا ہے ۔(بشیر الدین ہمدم لاہور)