عمدہ ڈیزائن ڈیزائنر کا تعارف ہوتا ہے

10 جون 2013

عنبرین فاطمہ ۔۔۔
90ء کی دہائی میں ”فیشن انڈسٹری“ میںایسے با صلاحیت فیشن ڈیزائنر ز نے قدم رکھاجنہوں نے پاکستانی فیشن کو نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی متعارف کروایا۔”نکی اور نینا“ کا شمار بھی فیشن انڈسٹری کے انہی نامور لوگوں میںہوتا ہے جو ملکی فیشن انڈسٹری کی پہچان بن گئی ہیں۔ان کا کام ہی ان کی صلاحیتوں کا برملا اظہار ہے نکی(عالیہ علی) اور نینا(نبیلا جنید)دو بہنیں ہیں اور پاکستان میں ”خواتین کے فیشن“ کے حوالے سے ”بانیان“ کا درجہ رکھتی ہیں۔انہوں نے ”نکی اینڈ نینا فیبرک“سال 2000 ءمیں متعارف کروایاجس کو فیشن کی دنیا میں خاصا سراہا گیا۔”خلیج ٹائمز“ بھی نکی اور نینا کے ٹیلنٹ کا معترف ہے۔نکی اینڈ نینا نے لاہور،کراچی اور دبئی سمیت دیگر ملکوںمیں اپنے آﺅٹ لیٹس کھول رکھے ہیں۔پاکستان سمیت تقریباً پوری دنیا میں جہاں جہاں فیشن کی سمجھ بوجھ رکھنے والا طبقہ ہے وہ ان کے عمدہ ڈیزائنز کو خاصا سراہتا ہے۔پاکستان میں خواتین کے فیشن کو متعارف کروانے کا تجربہ کیسا رہا اور آج کل فیشن کی دنیا میں خواتین کے فیشن کو متعارف کروانے کے لئے کیا کر رہی ہیں ہم نے ”نکی اور نینا“ سے بات کی۔نکی اور نینا نے کہا کہ ہم شروع سے ہی فیشن میں تجربات کرنے پر یقین رکھتی ہیں کبھی کسی کو فالو نہیں کیا کیونکہ دوسروں کو فالو کرنے والے تخلیقی کام کم ہی کرتے ہیں۔ہم نے دنیا میں کہیں بھی اپنے ملبوسات کی نمائش کی اس میں اپنی ثقافت کا رنگ نمایاں رکھا۔انہوں نے کہا ویسے تو ہم ہر طرح کے ملبوسات تیار کرتی ہیں لیکن برائیڈل وئیر کے لئے ہمارے کام کو بہت سراہا گیا۔ہم نے کبھی اس چیز کو نہیں دیکھا کہ کیا چیز فیشن کی دنیا میں مقبول ہے ہاں کونسے کلرز اور فیبرکس چل رہے ہیں ان کو مد نظر رکھ کر کسی بھی جوڑے کو اپنے انداز میں تیار کرتی ہیں۔گھروں کے گیراج میں کسی بھی درزی کو بٹھا کر معروف ڈریزائنرز کے ڈیزائنز چرا کر ملبوسات تیار کرنا ڈریس ڈیزائننگ نہیں ہے۔ہمارے حساب سے ایک اچھا ڈریس ڈیزائنر وہ ہے جس کے ملبوسات کو دیکھتے ہی لوگ پہچان جائیں کہ یہ فلاں ڈیزائنر کا تیار کردہ جوڑا ہے۔نئے آنے والے سب اچھا کام کر رہے ہیں لیکن چند ایک ایسے ہیں جو اپنا سٹائل مارکیٹ میں متعارف کروانے کی بجائے دوسروں کے سٹائل اور ڈیزائنز کاپی کرنے پر تمام تر انرجی ضائع کر دیتے ہیں۔ڈریس ڈیزائننگ آسان کام نہیں ہے یہ ایک تخلیقی کام ہے جو ہر ایک کے بس کا کام نہیں ہے۔نکی نینا نے کہا کہ ملبوسات ایسے ہونے چاہیں جو آپ دس سال کے بعد بھی پہن سکیں اور ہم اس چیز کا خاص خیال رکھتی ہیںکہ ہمارا جوڑا اگر کوئی دس سال کے بعد بھی پہنے تو آﺅٹ آف فیشن نہ لگے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ان دنوں”ریڈی ٹو وئیر“ کا فیشن بہت زیادہ مقبول ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ آج زندگی اتنی تیز ہو چکی ہے کہ کسی پاس اتنا وقت ہی نہیں ہے کہ درزیوںکے چکر لگائے اس لئے آپ دیکھیں گی کہ خواتین بنے بنائے کپڑوں کی خریداری کو پریفر کر رہی ہیں۔پاکستانی اور مغربی خواتین فیشن کے معاملے میں کتنی باشعور ہیں اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ہماری خواتین فیشن کے معاملے میں پہلے سے کہیں زیادہ باشعور ہو چکی ہیں ہماری خواتین یہ دیکھ کر فیشن کرتی ہیں کہ کیا چیز فیشن کی دنیا میں مقبول ہو رہی ہے جبکہ باہر کی خواتین بخوبی جانتی ہیں کہ کونسا رنگ اور فیشن ان کو سوٹ کرتا ہے کونسا نہیں۔ اس کے علاوہ وہ شوخ رنگ نہیں پہنتیں کیونکہ وہ جانتی ہیں کہ ان کی رنگت اس قسم کی ہے جس پر شوخ رنگ نہیں جچتااس حوالے سے ہماری خواتین تھوڑی لاپرواہی کا مظاہرہ کرتی ہیں جوکہ نہیں ہونی چاہیے میرے حساب سے ہر فیشن ہر ایک کے لئے نہیں ہوتا اب لال رنگ اگر کسی کو سوٹ کرتا ہے اور اس نے پہنا ہے تو ضروری نہیں ہے کہ وہ رنگ آپ کو بھی سوٹ کرے اس لئے اپنی شخصیت کو مدنظر رکھ کر ہمیشہ فیشن کریں۔نکی نینا نے مزید کہا کہ ایونٹس کے مطابق ملبوسات کی ڈیزائنگ اور تیاری کی جانی چاہیے اور پاکستان میں اس وقت ایک سے بڑھ کر ایک ڈریس ڈیزائنر ہے جو اعلیٰ درجے کا کام کر رہے ہیںہر ایک کا اپنا سٹائل ہے۔آج کل کے فیشن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چھوٹی قمیضیں اور کھلے پائنچوں والی شلواریںایک مرتبہ پھر فیشن میں مقبول ہو رہی ہیں۔اپنے برائیڈل وئیر کی خصوصیت پر بات کرتے ہوئے نکی نینا کا کہنا تھا کہ ہم مختلف رنگ اور فیبرکس استعمال کرتے ہیں اور مختلف قسم کے کام سے جوڑے کو سجاتے ہیں جس میںدھاگہ،نقشی دبکی،زردوزی ودیگر کام قابل ذکر ہے۔ہم نے آج سے بیس برس قبل جب کام شروع کیا تھا توڈیزائنر وئیر پہننے کا رجحان نہیں تھا اس لئے ہمیں شروع میں خاصی مشکلات کا سامنا رہا۔لوگوں کو بتانااور سمجھانا پڑتا تھا کہ ایک ڈریس ڈیزائنر کے تیار کردہ جوڑے اور برینڈ کیا اہمیت ہوتی ہے۔ہم دونوں بہنوں نے شوقیہ کام کا آغاز کیا اس وقت یہ نہیں اندازہ تھا کہ ہمارا ڈیزائننگ میں ہی مستقبل ہے۔شوقیہ جو بھی ڈریس تیار کرتی تھیں تو لوگوں کا ریسپانس بہت اچھا ملتا تھا بس اسی چیزنے حوصلہ افزائی کی اور ہم نے اسی میں اپنا کیرئیر بنانے کا فیصلہ کر لیا اوردن رات محنت کی۔پوری دنیا میں پاکستانی فیشن متعارف کروانے کے لئے نئے سٹائل معتارف کروائے۔ہمارے بعد کئی ڈیزائنرز آئے جنہوںنے خاصا اچھا کام کیا اور آج ان کا نام بھی ہے۔لیکن بہتری کی گنجائش تو بحرحال ہر وقت رہتی ہے تخلیقی کام کرنے والا ڈیزائنر کبھی بھی اپنے کام سے مطمئن نہیں ہوتا وہ ہر وقت کچھ نیا کرنے کی جستجو میں رہتا ہے۔کبھی کسی فلمی پراجیکٹ کے لئے کام تو نہیں کیا ہاں اتنا ضرور ہے کہ فلمسٹار میرا اور ریما کے شوز کے لئے کپڑے ڈیزائن کئے اس کے علاوہ پاکستان ٹیلی ویژن پر آج کل ”جگن کاظم “مارننگ شو کر رہی ہیں وہ بھی ہمارے تیار کردہ ملبوسات زیب تن کر رہی ہیں۔ اسی طرح ملک کی نامور آرٹسٹ اور ماڈلز ہم سے ملبوسات تیار کرواتی ہیں۔اگر کوئی کلائنٹ ریگولر آپ سے ملبوسات تیار کرواتا رہے تو آپ کو اس کی پسند نہ پسند اور رجحان کا اندازہ ہوجاتا ہے یوں اس کے لئے جوڑا تیار کرنے میں آسانی ہوجاتی ہے۔”انرجی بحران“ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں خاصے مسائل کا سامنا ہے کیونکہ آڈرز وقت پر تیار کرکے کلائنٹ کے حوالے کرنے ہوتے ہیں اور بجلی کی جوصورتحال ہے وہ ہم سب کے سامنے ہے اس لئے جنریٹر کااستعمال کرنا پڑتا ہے یوں کاسٹ اوپر چلی جاتی ہے لیکن اس کے باوجود ہماری کوشش ہوتی ہے کلائنٹ کو کم سے کم ریٹ میں جوڑے دیں۔نئی گورنمنٹ سے خاصی توقعات وابستہ ہیں امید ہے کہ اس مسئلے پر قابو پانے کےلئے جلد از جلد ٹھوس اقدامات کئے جائیں گے اگر انرجی بحران پر کامیابی سے قابو پا لیا جائے تو کئی گھروں کے بجھے ہوئے چولہے پھر سے جل سکتے ہیں کئی صنعتوں اور فیکٹریوں کی رونقیں پھر سے بحال ہو سکتی ہیں۔فیشن کی دنیا میں نئے ڈیزائنرز کے لئے کہا کہ وہ تخلیقی کام کریں اور اپنی ثقافت کو پیچھے نہ چھوڑیں ان کے کام میں اپنی ثقافت کا رنگ نمایاں نظر آنا چاہیے۔