مفلس لوگوں کا خیال کریں

10 جون 2013

بلقیس ریاض ۔۔۔
کچھ دن پہلے میں اسلام آباد میں تھی، میری مہترانی مضموم سی صورت بنائے میرے قریب آن کر دردمندانہ لہجے سے بولی۔ بیگم صاحبہ اگر کچھ کہوں تو آپ برا تو نہیں مانیں گی۔ میں کسی کتاب میں غرق تھی میں نے نظر اُٹھا کر اس کی جانب دیکھا تو اس کی آنکھوں میں آنسو تھے اور آنکھوں میں کئی سوالات مچل رہے تھے اس کی رونی صورت دیکھ کر میرا دل پسیج گیا۔”بولوکیا کہنا چاہتی ہو“۔”جی ڈر بھی بہت لگ رہا ہے کہوں کہ نہ کہوں دو گھر اور کرتی ہوں مگر کوئی بھی میری فریاد نہیں سنتا۔ میں نے اس کی جانب دیکھا تو وہ زارو قطار رونے لگی میں نے نرمی سے کہا۔ اچھا کہو کیا کہنا چاہتی ہو۔ پچھلے مہینے آپ یہیں تھیں اور ان دنوں بارش کی وجہ سے میری جھگی گر گئی تھی سارا کپڑا تھا اور بستر بارش کی وجہ سے بھیگ گئے تھے کچھ رات کو چوری ہو گئے مجھے تو یوں لگا کہ بے آسرا ہو گئی ہوں نہ چھت اور نہ ہی بستر وغیرہ میں بچوں کو لے کر اپنی ماں کی جھگی میں چلی گئی ہوں وہاں میری بھابھی، بھائی اور بچے بھی ہیں بہت مشکل سے گزارا ہو رہا ہے آپ سمجھدار ہیں ایک کنبے کے ساتھ رہنا کتنا مشکل ہے“”تو جھگی کو مرمت نہیں کروایا“”کس سے کروانا تھا مشکل سے دو وقت کی روٹی پوری ہوتی ہے۔ میرا میاں خود ہی مرمت کر رہا ہے۔ جُھگی تو ٹھیک ہو جائے گی مگر بستر وغیرہ تباہ ہو گئے ہیں۔ مجھے تو حیرت ہوتی ہے کہ ہم غریبوں کے پاس کھانے کے لئے روٹی نہیں ہوتی اور ہم جیسوں کو بھی لوٹ لیتے ہیں جھگی گری تو رات کے اندھیرے میں کافی چیزیں بھی غائب ہو گئیں ”پھر کیا چاہتی ہو“ وہ خاموش سی پھٹی پھٹی نگاہوں سے مجھے دیکھنے لگی۔ ”بولو.... کھل کر بات کرو“بالآخر وہ بول پڑی۔”باقی بیگموں کی طرح ڈانٹیں گی تو نہیں اگر ان سے سوال بھی کروں تو سننے کےلئے تیار نہیں ہوتیں اور اگر میری فریاد سن بھی لیں تو کہتی ہیں، تم لوگوں کو مانگنے کی عادت پڑ گئی ہے ایسے حالات میں ان سے کیا بحث کروں“ وہ پھر دکھی انداز سے بولی۔ بیگم صاحبہ ہم جیسی عورتوں کے حالات اگر اچھے ہوتے تو ہم نوکریاں کیوں کرتیں یہ بات کسی بیگم کی سمجھ میں نہیں آتی ہے کہ ہم لوگ کتنے مظلوم ہیں۔“”اب کیا چاہے ہمیں“بس ایک بستر مل جائے تو کرم نوازی ہو گی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس طرح کے کئی لوگ مظلوم ہیں اور اس ملک میں بستے ہیں۔ جو مفلسی اور غربت کے ہاتھوں زندگی کے دل پورے کر رہے ہیں ہمارے ملک میں لاکھوں کروڑ لوگ صاحب حیثیت ہیں ان کو چاہئے کہ اس طرح کے لوگوں کی بھی جی بھر کر مدد کریں۔ مفلس لوگ ڈھونڈیں اور بجائے بڑے بڑے اداروں میں دینے کے اسی طرح کے لوگوں کی بھرپور مدد کریں یہ لوگ خیرات کے مستحق ہوتے ہیں اداروں میں روپیہ کئی ہاتھوں سے گزر کر ادارے میں پہنچتا ہے کچھ لوگ اتنے مفلس ہوتے ہیں کہ اپنا بھرم رکھنے کے لئے کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھلاتے ان کی جوان لڑکیاں بن بیاہی ہی والدین کے آنگن میں زندگی کے دن پورے کرتی ہیں اس طرح کے لوگوں کو بھی دیکھنا چاہئے اور ان کی مدد اس طریقے سے کرنی چاہئے کہ انہیں کسی قسم کی شرمندگی محسوس نہ ہو کوئی چھوٹا موٹا کام کروا کے معقول رقم دی جائے تاکہ ان کا بھرم بھی قائم رہ سکے۔خدا جب انسان کو نوازتا ہے تو اس پر بھرپورآزمائش السلو کی طرف سے آ جاتی ہے اس کی ذات پاک سے دیکھتی ہے کہ میں نے اس بندے کو اتنا نوازا ہے کیا یہ میری مخلوق کے ساتھ انصاف کرے گا غریب اور درد مند انسانوں کی جاجت روائی کرے گا کیونکہ ایک انسان ہی انسان کے کام آتا ہے۔ رئیس لوگ لاکھوں روپے نمود و نمائش پر غرق کر دیتے ہیں فضول رسموں پر پانی کی طرح روپیہ بہا دیتے ہیں ایک شادی کی تقریب میں قمقموں کے علاوہ شامیانوں کی سجاوٹ، اور پھولوں کی سجاوٹ میں بھی خوب روپیہ لٹایا جاتا ہے۔ انسان کی اونچی اڑنے والی نظر آسمان کے تاروں تک پہنچ سکتی ہے۔ لیکن پڑوس کے ایک لٹے ہوئے مظلوم اور مفلوک الحال شخص کے آنسوﺅں تک نہیں پہنچ سکتی۔ یہی المیہ ہے کہ اس کے دئیے ہوئے مال و دولت میں سے کچھ نہیں دیتے اور ان کو یہ علم ہونا چاہئے کہ یہ مال و دولت ان کے پاس اللہ کی امانت ہے۔ جس کا حساب بھی دینا ہو گا۔