”قیمتی پتھروں سے سجے سدا بہار زیور“

10 جون 2013

حمیرا واحد ۔۔۔
خواتین زیورات کو صدیوں سے اپنی آرائش کے طور پر استعمال کرتی آئی ہیں اور تقریب کی مناسبت سے زیور کا استعمال ضروری سمجھتی ہیں۔ زیور ہماری تہذیب و ثقافت میں ایک اہم مقام رکھتا ہے۔ یہ ہمارا ثقافتی ورثہ ہے اور دورِ قدیم سے دورِ جدید تک کا ایک اہم حصہ بھی رہا ہے۔ خواتین زیورات کی دلدادہ ہیں۔اگر ہم یہ کہیں کہ زیورات اور خواتین کا ساتھ لازم و ملزوم ہے تو بے جا نہ ہوگا۔خواتین کا سنگھار زیورات کے بغیر ادھورا رہتا ہے۔ کہتے ہیں خواتین کو کھانے کے لئے بے شک کچھ نہ دو لیکن کپڑے، جوتوں اور جیولری سے محروم نہ رکھوکیونکہ خواتین اس بات پر کوئی سمجھوتا نہیں کرتیں۔ مارکیٹ میں نت نئی اقسام کے متعارف ہونے والے زیورات کی مانگ میں اضافہ بھی انہی خواتین کی بدولت ہوتا ہے۔یوں تو ہر دور میں زیورات کی سبھی قسمیں فیشن میں رہتی ہیں مگر آجکل پتھروں کے زیورات خواتین میں تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں۔مارکیٹ میں پتھروں میں ”روبی“ کے زیورات بھی بڑی تعداد میں پسند کئے جا رہے ہیں اس کی ایک بڑی وجہ ان کی مخصوص سرخ رنگت ہے۔ بڑی بوڑھیوں کے مطابق خواتین میں روبی کی مقبولیت کی بڑی وجہ یہ خیال کی جاتی ہے کہ روبی پہننے سے محبت، خوشی اور ذہنی سکون حاصل ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ نیلم، زمرد، پکھراج، زرقون اور موتی کے زیورات بھی خواتین میں پسند کئے جاتے ہیں۔اس جیولری میں رنگین نگینوں کے علاوہ سفید موتی اور شفاف دودھیا دھات دیکھنے میں خاصی آرٹسٹک لگتی ہے اور خواتین جو ہیرے کی جیولری افورڈ نہیں کر سکتیں ان کے لئے زرقون بہترین انتخاب ہے۔موتی کے زیورات پتھروں کے زیورات میں سب سے قدیم اور قیمتی تصور کئے جاتے ہیں۔ بیرون ممالک میں موتی کے زیورات خواتین بہت شوق سے پہنتی ہیں۔ آسٹریلیا میں سفید موتی کے زیورات مشہور ہیں جن میں سبز یا نیلے رنگ کی جھلک ہوتی ہے جسے پہن کر خواتین اپنے ادھورے سنگھار کو پورا کرتی ہیں۔پتھروں سے مزین زیورات آپ کے لئے ذہنی سکون، محبت اور خوشی کا باعث ہوتے ہیں مگر کسی بھی پتھر کا انتخاب سوچ سمجھ کر کریں یہ قیمتی زیورات بآسانی دستیاب نہیں ہوتے اصل اور نقل پتھر کی پہچان کرنا مشکل ہوتا ہے۔ اگر آپ آجکل کی جیولری استعمال کرنے کی خواہش مند ہیں تو کسی بھی سٹون کو بغیر کسی ماہر کے مشورے کے مت استعمال کریں۔