ڈرون حملوں کے خلاف دفتر خارجہ کا شدید ردّعمل،امریکی ناظم الامور کی طلبی،وزیراعظم نواز شریف برہم

10 جون 2013

پاکستان کو ڈرون گرانے پر مجبور نہ کیاجائے


 پاکستان نے ڈرون حملوں پر امریکہ سے شدید احتجاج کیا ہے۔ وزیراعظم نوازشریف کی ہدایت پر امریکی ناظم الامور رچرڈ ہوگلینڈ کو دفتر خارجہ طلب کیا گیا اور امریکہ سے ڈرون حملوں پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ڈرون حملے دہشت گردی کے خلاف جنگ پر منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں، معصوم جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔ یہ حملے پاکستان کی سالمیت اور خودمختاری کے بھی خلاف ہیں۔ امریکی ناظم الامور کو احتجاجی مراسلہ دیا گیا۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی نے احتجاج ریکارڈ کرایا۔ امریکی ناظم الامور کو یہ بھی کہا گیا کہ ڈرون حملے پاکستان، امریکہ دوستی میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ اے پی اے کے مطابق کہا گیا کہ چاہتے ہیں کہ پاکستان، امریکہ تعلقات خوشگوار رہیں۔ بی بی سی کے مطابق پاکستان نے احتجاج کرتے ہوئے کہاکہ امریکہ کو ڈرون حملوں کے بارے میں اپنی حکمت عملی بدلنا ہو گی۔ رچرڈ ہوگلینڈ پر واضح کیا گیا کہ ڈرون حملے امریکہ اور پاکستان کے تعلقات پر بھی منفی اثرات ڈال رہے ہیں اور خطے میں استحکام کے لئے امریکہ کو پاکستان میں ڈرون حملے بند کرنا ہوں گے، یہ نئی حکومت کا پہلا احتجاج ہے۔جرمن وزیر خارجہ گیڈو ویسٹر ویلی سے ملاقات کے دوران وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ ڈرون حملوں کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بالکل ناقابل قبول ہیں۔ ڈرون حملے ہماری خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں ہم نے ان پر کئی بار احتجاج کیا ہے، یہ بند ہونے چاہئیں۔
 امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کے کئی حلقوں کی طرف سے ڈرون حملوں کو غیر قانونی قرار دے کر ان کی مذمت کی گئی اور انہیں بند کرنے کے پر زور مطالبات بھی کیے گئے، گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی حقوق کی ہائی کمشنر نیوانیتھم پلے نے پاکستان میں ہونیوالے حملوں کو غیر منصفانہ اور قابل مذمت قرار دیا تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور فوجی اپریشنز میں ڈرون طیاروں کا استعمال اور انسانی حقوق کی پامالی پر رنجیدہ ہیں۔اس تکلیف دہ صورتحال سے وہ بہت ڈسٹرب ہوتی ہیں۔
ڈرون حملوں کے حوالے سے دل دہلا دینے والی سنسنی خیز تفصیلات سامنے آتی رہتی ہیں جن سے انسانی حقوق کی علمبرداری کے دعوے کرنیوالوں کی حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے۔ امریکی میڈیا اور انتظامیہ نے بار بار ڈرون حملوں میں بے گناہ افراد کی ہلاکتوں کا اعتراف کیا ہے، ایسی ہلاکتوں پر جہاں مقامی و عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آتا ہے وہیں بے قصور مارے جانیوالوں کے لواحقین انتقام پر آمادہ ہوکر خودکش بمبار بن جاتے ہیں۔اس صورتحال کی عکاسی ” ڈرٹی وارز“ نامی نئی دستاویزی فلم سے ہوتا ہے۔ بروکلین نیو یارک سے تعلق رکھنے والے جیرمی شیہل نے اے ایف پی کو اپنے انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ خفیہ اپریشنز سے فائدے سے زیادہ نقصان ہورہا ہے۔لوگ امریکہ کو اپنا دشمن سمجھ رہے ہیں کئی سال ان موضوعات پر بحث کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ہم حقیقی دہشت گرد مارنے سے زیادہ نئے دشمن پیدا کر رہے ہیں۔جیرمی کا کہنا ہے کہ اوباما خفیہ اپریشنز کے ذریعے لوگوں کی ہلاکتیں روکنے میں ناکا م رہے ہیں۔ ڈرون حملوں کے دوران شدت پسندوںکو ٹارگٹ کرنے کی ساکھ ا مریکی ٹی وی، این بی سی کی رپورٹ کے بعد بر ی طرح مجروح ہوئی ہے۔
” امرےکی خفےہ ادارے سی آئی اے کو پتہ ہی نہےں کہ پاکستان مےں ڈرون حملوں مےں کون مر رہا ہے۔ سی آئی اے حکام نے 2010 ءسے 2011 ءکے درمےان ڈرون حملوں مےں جاںبحق ہونے والے ہر چار مےں سے اےک شخص کو بغےر تصدےق کئے عسکرےت پسند قرار دےا۔ سی آئی اے حکام کو کبھی بھی پتہ نہ چل سکا کہ مرنے والے دہشت گرد تھے ےا بے گناہ تھے ےا اس کا کسی تنظےم سے کوئی تعلق تھا۔سی آئی اے حکام صدر باراک اوباما کے سامنے اپنی کامےابےاں ظاہر کرنے کے لئے مرنے والوں کو دہشت گرد قرار دےتے ہےں حالانکہ انہےں مرنے والوں کی تعداد کا بھی درست علم نہےں ہوتا۔اےک ہی حملے مےں مرنے والوں کی تعداد کہےں سات تو کہےں بےس سے پچےس بتائی جاتی ہے۔ٹی وی پر ڈرون طےارہ کنٹرول کرنیوالے اےک سابق فوجی برنےڈن برنےٹ کا انٹروےو بھی نشر کےا ہے۔برنےڈن برنےٹ نے ڈرون حملوں مےں پندرہ سو افراد کو ہلاک کرنے کا اعتراف کےا ہے۔اسکا کہنا ہے کہ اسے ےہ سوچ کر خوف آتا ہے کہ وہ سولہ سو افراد کو موت کے گھاٹ اتار چکاہے“۔
بلاشبہ ڈرون حملوںمیں دہشت گردوں کو ٹارگٹ کیاجاتا ہے۔ اگر ایک دہشت گرد کی ہلاکت کے نتیجے میں دس بارہ مزید پیدا ہوجائیں تو اس کا فائدہ؟ امریکہ کے اس اقدام کو پوری دنیا نفرت اور حقارت کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔مزید براں اس سے پاکستان کی خود مختاری اور سالمیت کی بھی خلاف ورزی ہوتی ہے۔سابق صدر جنرل(ر) پرویز مشرف نے رواں سال اپریل میں اپنی پاکستان آمد پر بعداز خرابی بسیار اعتراف کیا کہ امریکہ اور پاکستان کے مابین ڈرون حملوں کے حوالے سے ایک مشروط معاہدہ موجود ہے جبکہ ان کے جاں نشیں آصف علی زرداری نے ایسے کسی بھی معاہدے سے لا علمی کا اظہار کیا ہے۔ نواز حکومت اس حقیقت کی تہہ تک پہنچیں کہ واقعی مشرف دور میں ڈرون حملوں کے حوالے سے پاک امریکہ معاہدہ ہوا تھا۔ اگر یہ معاہدہ موجود ہے تو اس کی قانونی حیثیت کیا ہے؟۔اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق اعلان جنگ کے بغیر کسی ملک میں بمباری نہیں کی جاسکتی۔بمباری تو دشمن ملک کی حدود میں کی جاتی ہے۔ پاکستان اور امریکہ ایک دوسرے کے دشمن نہیں ،دوست اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اتحادی ہیں۔امریکہ تو پاکستان کو اس جنگ میں اپنا فرنٹ لائن اتحادی قراردیتا ہے۔یواین کے قوائد کے تحت امریکہ کی جانب سے پاکستانی حدود میں ڈرون حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔یوں مشرف امریکہ ڈرون معاہدے کی کوئی حیثیت نہیں رہ جاتی۔اگر ایسا کوئی معاہدہ موجود ہے تو مشرف اور ان کی ق لیگی حکومت ڈرون حملوں کی مذمت اور ان پر احتجاج کیوں کرتی رہی؟
2013کے انتخابات میں مسلم لیگ ن سب سے بڑی اور تحریک انصاف دوسری بڑی پارٹی بن کر سامنے آئی۔ دونوں نے انتخابی مہم کے دوران ڈرون حملے رکوانے کے وعدے کئے تھے۔اب دونوں پر اپنے وعدے ایفا کرنے کا دباﺅ ہے۔ تحریک انصاف کے پاس تو یہ جواز موجود ہے کہ ڈرون حملے رکوانا مرکز کی ذمہ داری ہے یوں نواز شریف حکومت پر سارا دباﺅآجاتا ہے۔امریکہ ان کی مجبوری کو سمجھے اور حقائق کا ادراک کرے کہ ” ڈرون حملے فائدے سے زیادہ نقصان کا باعث بن رہے ہیں“۔ مسلم لیگ (ن)کی حکومت کی طرف سے ڈرون حملوں پر شدید احتجاج سامنے آیا ہے۔میاں نوازشریف نے جرمن وزیر خارجہ گیڈوویسٹر ویلی سے ملاقات کے دوران کہا ہے کہ ڈرون حملوں کو برداشت نہیں کیاجاسکتا۔امریکہ اس تناظر میں حالات کو سمجھنے کی کوشش کرے۔ پاکستان کو ڈرون گرانے پر مجبور نہ کیاجائے معاملات پوائنٹ آف نو ریٹرن پر پہنچے تو اس کی ذمہ داری پاکستان پر نہیں ہوگی ایسی صورتحال دونوں ممالک کے مفاد میں نہیں ہے۔ وزیراعظم نوازشریف سے ملاقات کے بعد جرمن وزیر خارجہ نے قومی سلامتی اور امور خارجہ کے مشیر سرتاج عزیز سے ملے۔اس موقع پر ویلی نے کہا کہ ڈرون حملوں کا معاملہ پاکستان کیلئے بہت حساس ہے۔ڈرون حملوں کے حوالے سے اوباما نے جو پالیسی مرتب کی ہے اس پر پاکستان امریکہ مذاکرات ہونے چاہئیں،جرمن وزیر خارجہ کی ڈرونز کے حوالے سے تشویش پاکستان کے موقف کی تائید ہے۔جرمنی کو اصولی اور اخلاقی طورپر یہ معاملہ یورپی یونین کے پلیٹ فارم پر اٹھاناچاہئے تاکہ وہ امریکہ کو ڈرون حملوں سے باز رکھنے میں اپنا کردارادا کرے اورایسی ممکنہ صورتحال سے بچا جاسکے جس سے عالمی امن متاثر ہونے کے خدشات واضح ہورہے ہیں۔