وزیراعلیٰ بلوچستان کا مسائل کے حل اور ناراض نوجوانوں کو منانے کا مشن

10 جون 2013

ڈاکٹر عبدالمالک بلا مقابلہ وزیراعلیٰ بلوچستان بن گئے۔ ناراض بھائیوں سے مذاکرات کا پلان موجود ہے جلد رابطہ کرینگے۔ جے یو آئی (ف) کے امیدوار عبدالرحمان نے مقابلہ سے کاغذات واپس لے لئے۔ بہت مصیبتیں جھیلیں خدا کرے بلوچستان کو سکھ کا سانس ملے۔ مسخ شدہ نعشوں اور لاپتہ افراد کا مسئلہ حل ہونا چاہئے نواز شریف نے مدد کی یقین دہانی کرائی ہے۔بلوچستان کے وزیراعلیٰ نے حلف اٹھا کر اپنی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔ ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ نوابوں، سرداروں اور خانوں کی بجائے بلوچستان میں ایک عوامی رہنما کو وزارت اعلی کی مسند ملی ہے جو بلوچستان کے زمینی حقائق، عوام کے مصائب حکمرانوں کی مجبوریوں اور سیکورٹی اداروں کی منہ زوریوں سے بخوبی آگاہ ہے طالب علم لیڈری سے مختلف وزارتوں تک کے سفر میں انہوں نے جو تجربات حاصل کئے اب موقع ہے کہ وہ ان تجربات سے فائدہ اٹھائیں اور زخموں سے چور عوام اور صوبے کے دکھوں کا مداوا کریں تاکہ عوام تادیر انہیں یاد رکھیں۔ انہیں اس وقت صوبے کی تمام سیاسی جماعتوں ، بلوچ اور پٹھان سیاسی قوتوں کی اور مرکز میں بھی حکومت کی بھرپور سیاسی حمایت حاصل ہے ۔ اس لئے وہ عوام کے مسائل حل کرنے اور ناراض بلوچ نوجوانوں کو منانے میں خلوص دل اور تندہی سے کام لیں یہی ان کا سب سے بڑا امتحان ہے اور یہ کامیابی ان کی سب سے بڑی فتح ہو گی ۔پوری قوم اس پر انہیں مبارکباد پیش کرے گی۔