وزیر پانی وبجلی عوام کو مایوس نہ کریں

10 جون 2013

لوڈشیڈنگ کے خاتمے میں ہفتے مہینے نہیں سال لگیں گے۔ سارے سی این جی مالکان چور ہیں۔ وفاقی وزیر پانی و بجلی پرویز اشرف کی طرح جھوٹے وعدہ نہیں کروںگا اگر چوری ہونے والی گیس روکی جائے تو 2 ہزار میگاواٹ بجلی پیداکی جا سکتی ہے۔ چوروں کیخلاف کارروائی کریں گے۔ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، خواجہ آصف۔وفاقی وزیرپانی و بجلی نے اپنے محکمہ میں کرپشن بجلی چوری کی جو نشاندہی کی ہے وہ بجا ہے بجلی اور گیس کے محکموں میں کرپشن اور نااہلی اور کام چوری کا عفریت کچھ اس طرح چھاپا ہوا ہے کہ عوام کو سب سے زیادہ شکایات انہی محکموں سے ہیں۔ ملک میں اربوں روپے کی بجلی اور گیس چوری ہوتی ہے جو ان محکموں کے افسران اور عملے کی ملی بھگت کے بغیر ممکن نہیں مگر ان کیخلاف کارروائی نہیں کی جاتی۔ اب خود وفاقی وزیر خواجہ آصف نے برملا اعتراف کیا ہے کہ سارے سی این جی مالکان بھی چور ہیں تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ عوام کے حقوق پر کس طرح منظم انداز میں ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے۔ اگر بجلی اور گیس کی یہ چوری روکی جائے اور ان ارب پتی کروڑ پتی بجلی اور گیس چوروں کو عبرت کا نشان بنایا جائے تو اس طرح دیگر کو بھی کان ہو جائیں گے۔ اس سے ناصرف قومی خزانہ میں اضافہ ہو گا بلکہ لوڈ شیڈنگ کے اوقات میں بھی کمی آ سکتی ہے۔ اب دیکھنا ہے وفاقی وزیر کس طرح ان مسائل پر قابو پاتے ہیں اورعوام کو ریلیف پہنچاتے ہیں۔ اس وقت عوام کا سب سے بڑا مطالبہ یہ ہے کہ انہیں لوڈ شیڈنگ سے ریلیف ملے اور خواجہ آصف کو چاہئے کہ وہ فوری توجہ دیں۔ لوگوں کو یہ کہہ کر مایوس نہ کریں کہ لوڈشیڈنگ کے خاتمے کی کئی سال لگ جائیں گے۔ سابق حکمرانوں کی طرح کیا ن لیگ بھی اپنی آئینی مدت کے خاتمے پر آنیوالوں کو ورثے میں دے کرجاناچاہتی ہے۔