پیر ، 1434ھ ‘ 10 جون2013

10 جون 2013

ممتاز بھٹو سندھ میں گورنر راج کی دھمکیاں دے رہے ہیں : شرجیل میمن
بلی کو جیسے چھچھڑوں کے خواب آتے ہیں شرجیل میمن کو ایسے ہی گورنر راج کی دھمکیاں نظر آ رہی ہیں۔ شرجیل میمن ممتاز بھٹو کا نام سُن کر حواس باختہ ہو گئے ہیں۔ ابھی تو انہیں گورنر بنانے کی کوئی خبر سامنے نہیں آئی لیکن اگر حقیقت میں انہیں مسلم لیگ (ن) نے گورنر سندھ بنا دیا تو پیپلز پارٹی والوں کی نیندیں اُڑ جائیں گی۔ شرجیل میمن کے تو ابھی سے طوطے اُڑ چکے ہیں اور ایسے واویلا کر رہے ہیں جیسے ان کی کوئی چوری پکڑی گئی ہے۔ پیپلز پارٹی نے پنجاب کے مینڈیٹ پر شبِ خون مارا تھا وہ گورنر راج تھوک کو چاٹنے کے مترادف تھا۔ مسلم لیگ (ن) نے تو ابھی تک کوئی ایسی شرارت سوچی ہی نہیں ورنہ خیبر پی کے میں فضل الرحمن کو ساتھ ملا کر وہ دشمنیوں کے باب کھول سکتی تھی جبکہ سندھ میں تو ایم کیو ایم ہمہ وقت دھینگا مشتی کرنے کیلئے تیار رہتی ہے۔ اسے صرف ایک اشارے کی ضرورت تھی۔ وہ دما دم مست قلندر کر دیتی لیکن مسلم لیگ (ن) نے اصولوں کی سیاست شروع کر دی ہے۔ وہ پیپلز پارٹی کی طرح گورنر راج کا گند نہیں ڈالیں گے۔ لہٰذا شرجیل میمن کو الزام تراشی کی گردان پڑھنے کی بجائے میٹھی لسی پی کر سو جانا چاہئے۔ اگر مسلم لیگ (ن) ممتاز بھٹو کو گورنر سندھ بناتی ہے تو اسے حق حاصل ہے۔ پیپلز پارٹی نے بھی تو پانچ سال پنجاب میں اپنی مرضی کے گورنر تعینات کئے تھے۔ ابھی تک صرف نواز شریف سے ممتاز بھٹو کی ملاقات ہوئی ہے اگر سچی مچی مسلم لیگ (ن) نے ممتاز بھٹو کے سر پر گورنری کا تاج رکھ دیا تو پھر ماہی بے آب کی طرح پیپلز پارٹی تڑپے گی۔ شاعر نے اسی تناظر میں شاید کہا تھا ....
ہم جو بولے ہیں تو وہ آگ بگولہ کیوں ہیں
ہم تھے خاموش تو کیا کیا نہ کہا کرتا تھا
ویسے میاں شہباز شریف غنویٰ بھٹو سے اگر ایک ملاقات کر لیں تو پھر دیکھنا شرجیل میمن سے لیکر نوجوان وزیر اعلیٰ سندھ تک ہر کوئی تڑپنا شروع ہو جائے گا بلکہ بعض کے تو طوطے بھی اُڑ جائیں گے۔ وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے شرجیل میمن کو میٹھی گولی دی تو ہے کہ ہم آپ کے مینڈیٹ کا احترام کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود ان پر خوف کے بادل چھا چکے ہیں۔
٭....٭....٭....٭....٭
احتساب کے بغیر اچھی حکمرانی ممکن نہیں، مقتدر قوتوں کو جمہوریت کے ذریعے ہی آ گے بڑھنا ہو گا : چیف جسٹس
اس وقت جمہوریت کی گاڑی تو اپنے ٹریک پر چل پڑی ہے۔ یہ سپریم کورٹ، فوج، جمہوری قوتوں کی فتح ہے۔ قومی اسمبلی میں تو امین فہیم لگے ہاتھوں ایجنسیوں کو کامیاب الیکشنوں کی مبارکباد دے چکے ہیں۔ پُرامن انتقالِ اقتدار تمام اداروں کی کامیابی ہے۔ اب اگر تمام ادارے مل کر پچھلے عرصے میں جو گند پڑا تھا اُسے صاف کرنے کی کوشش کریں، احتساب کو سب پر لاگو کریں، کسی بھی بااثر سے بااثر شخص کو اس میں ریلیف نہیں دینا چاہئے۔ ایک چھوٹے سے چھوٹے گھر میں بھی اگر احتساب کا رواج نہیں ہو گا تو معاملات گڑبڑ ہونے میں دیر نہیں لگتی یہ تو پھر بھی 18 کروڑ عوام کا ملک ہے یہاں پر جس کسی کا بس چلتا ہے وہ دونوں ہاتھوں سے کھانا شروع ہو جاتا ہے۔ گذشتہ پانچ سالوں میں تو جس بے رحمی کے ساتھ ملک کو لوٹا گیا ایسی بے رحمی سے تو قصاب جانور کی کھال بھی نہیں اتارتے۔ اتنی کرپشن اور لوٹ مار کے باوجود ملک چل رہا ہے۔ چیف جسٹس نے تو کہہ دیا ہے کہ احتساب کے بغیر اچھی حکمرانی ممکن نہیں، اب حکمرانوں کو اچھی حکمرانی کرنے کیلئے احتساب کو مضبوط کرنا چاہئے۔ صرف مخالفین کو اس کا نشانہ نہیں بنانا چاہئے بلکہ ہر ایرے غیرے نتھو خیرے کے گرد گھیرا تنگ کرنا چاہئے کیونکہ ماضی میں عینک والے جنوں سے لیکر سائیکل کو پنکچر لگانے والوں تک ہر کسی کو بلیو پاسپورٹ جاری کئے گئے تھے۔ صاف ظاہر ہے یہ فی سبیل اللہ یا خیرات میں تو نہیں دیے گئے تھے بلکہ بہت ساروں نے جیب بھی گرم کی ہو گی اور یار لوگوں کو بھی حصہ بقدرِ جثہ دیا ہو گا۔ اس لئے کڑے احتساب کی ابتدا کر دیں تاکہ ملکی خزانے کو بھرا جا سکے۔
٭....٭....٭....٭....٭
جے یو آئی کا حکومتی بنچوں پر بیٹھنے کا فیصلہ !
جے یو آئی کی حکومتی وزراءکو دیکھ کر رال ٹپکنا شروع ہو گئی ہے۔ مسلم لیگ نے مولانا کو اقتدار کی مالا میں نتھی کر لیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی اکثریت کو دیکھ کر مولانا کی ویسے بھی ان پر واری جارہے تھے اور وہ خود بخود ہی (ن) لیگی گاڑی کی بتی کے پیچھے لگ گئے تھے۔ مولانا کو بھاگتے بھاگتے سانس چڑھ گیا تھا شکر ہے کہ میاں نواز شریف نے مولانا کو امید دلا دی ہے اب انہیں رات کو اچھی نیند آ جائے گی۔ مسلم لیگ (ن) کو کسی اتحاد کی ضرورت تو نہیں اگر وہ وزارتوں کے حوالے سے جے یو آئی کو چِٹا جواب دے دیں تو پھر بے چارے مولویوں کی امیدوں پر پانی پھر جائے گا۔ ویسے مولوی صاحب نواز شریف کی مسکراہٹ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہاﺅسنگ کی وزارت، اسلامی نظریاتی کونسل کی سربراہی اور کشمیر کمیٹی کی چیئرمین شپ مانگ آئے ہیں، (ن) لیگ دو دن غور کرنے کے بعد اگر نفی میں جواب دیدے تو پھر ارمانوں پر پانی پھر جائے گا اور جے یو آئی یوں گویا ہو گی ....
او جانے والے تُو نے میرے ارمانوں کی دنیا لوٹ لی
مسکرانے بھی نہ پائے تھے تمنا لوٹ لی
ایم کیو ایم کے بارے سُن رکھا تھا کہ وہ اقتدار کے بغیر نہیں رہ سکتے لیکن اس بار وہ سب جھوٹ ثابت ہوا ہے۔ ایم کیو ایم تو اقتدار سے باہر اپوزیشن کے ساتھ بیٹھ گئی ہے لیکن مولانا اب ان کے نقش قدم پر چل پڑے ہیں۔ ان کا حلوہ اقتدار کے باہر ہضم نہیں ہو رہا۔ پروٹوکول کا نشہ ہونٹوں کو لگ چکا ہے یہ اترنے کا نام ہی نہیں لیتا۔ کم سیٹیں ملنے پر تو یوں معلوم ہُوا کہ مولانا سکتے میں چلے گئے ہیں۔ شکر ہے اب آہستہ آہستہ ان کے اور ان کے کارکنان کے حواس ٹھکانے پر آ رہے ہیں لیکن مسلم لیگ (ن) نے اگر وزارتوں کا جھانسہ دیکر انہیں انکار کر دیا تو پھر ان کا اللہ ہی حافظ ہے۔ بس ان کا حال پھر اس نوجوان جیسا ہو گا جسے عین برات کے وقت رشتے سے انکار ہو جائے۔ وہ تڑپتا کم اور کُڑھتا زیادہ ہے۔ اگر ہو سکے تو تجربے کے طور پرکسی ایسے نوجوان کا حال دیکھ لیں پھر خود ہی توبہ کر جائیں گے۔
٭....٭....٭....٭....٭

روحانی شادی....

شادی کام ہی روحانی ہے لیکن چھپن چھپائی نے اسے بدنامی بنا دیا ہے۔ مرد جب چاہے ...