ملک میں منافرت ، شدت اور انتہا پسندی کیوں ؟

10 جون 2013

عوام کو جان مال عزت کا تحفظ نہیں ۔ امن و امان کی صورتحال خطرناک حد تک خراب ہے لیکن ملک میں علاقائی ، صوبائی ، لسانی ، نسلی اور مذہبی منافرت قومی سلامتی کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے ۔ نائن الیون کے بعد تو ان نفرتوں کا سیلاب امڈ آیا ہے اس کے لیے ملک میں رہنے بسنے والے سب ذمہ دار ہیں لیکن حالات پر جو زیادہ قوت اور اختیار رکھتا ہے وہ اتنہا ہی ذمہ دار ہے ۔ بلاشبہ اس میں سیاسی و دینی جماعتیں ، سیاسی کارکنان ، مساجد کے خطیب ، علما اور اساتذہ کی بھی ذمہ داری ہے لیکن سب سے زیادہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے ۔ خصوصاً انٹیلی جنس ادارے ، قانون نافذ کرنے والے ادارے ، پالیسی سازی کے ذمہ داران اس صورتحال سے اپنے آپ کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتے ۔ گزشتہ بارہ سالوں میں شدت جذبات اور نفرتوں کا طوفان امڈ تا چلا آیا ہے بحیثیت ملت ہم نے اس کے مقابلے کی کوئی موثر کوشش نہیں کی ۔ ان نفرتوں کو محبتوں میں بدلنے اور اس کے اسباب جاننے کی حقیقی کوشش نہیں ہوئی کہ یہ لاوا کیوں پھٹا ہے ۔ وہ کونسے عوامل ہیں جو اس آگ کو بھڑکارہے ہیں اور ہم سب کس طرح مل جل کر اس آگ کو بجھا سکتے ہیں ۔
 آج ایک آدمی کے لیے عزت سے رہنا ، حصول انصاف اس کے لیے ناممکنات میں ہے۔ایک عام انسان کے لیے کرپشن ، بدعنوانی کے ہر عنوان اور اقربا پروری نے جینا مشکل تر بنادیاہے ۔ یہ عجیب و غریب منظر ہے کہ حکومتیں سرکاری ادارے ، تجزیاتی ادارے اعلان کرتے ہیں اور ٹھوس اعداد و شمار پیش کرتے ہیں کہ ملک کے اربوں کھروں روپے کرپشن کی نظر ہو گئے ہیں۔ سرکاری تحقیقاتی ادارے ، انکوائری کمیشن ، بلیک منی کا تعین تو کرتے ہیں لیکن معیشت کو صاف ستھرا بنانے کے لیے عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے کچھ بھی تو نہیں ہوتا۔ صنعت ، زراعت ، سمگلنگ اور غلط پالیسیوں کا شکار ہور ہی ہیں ۔ کمیشن ، کمیٹیاں بنتی ہیں ، خرابیوں کو نشان زد کیا جاتا ہے لیکن سب کچھ کے باوجود کوئی کاروائی نہیں ، کوئی محاسبہ نہیں ، کوئی بھی تو موثر اقدام نہیں ہوتا ۔ چوریاں ، ڈکیتیاں ، مال مویشی کی چوری ، ڈاکہ زنی او ر ڈاکو زنی میں عزتیں تار تار ہونا اور بے گناہ انسانوں کی جانیں ضائع ہونا معمول بن گیاہے لیکن عملاً ایسی بے بسی ، ایسی بے حسی الامان الحفیظ... کرپشن اور بدانتظامی نے جیسے اعصاب شل کر دیئے اور انسانوں کو حیوان اور بے حس بنا دیا گیاہے ۔ملک میں بڑھتی ہوئی نفرتوں کی آگ ، عدم برداشت ، شدت اور انتہا پسندی کی سات وجوہات ہیں ان کا سدباب کر کے ہی ملک کو امن کا گہوارہ بنایا جاسکتاہے ۔
1۔سب سے پہلی وجہ یہ ہے کہ اجتماعی طور پر اور من حیث القوم ہم نے اسلام سے روگردانی کی ہے ۔ اسلام کے بارے میں سب نے ہی زبانی جمع و خرچ بہت کیاہے لیکن اسلامی تعلیمات اور احکامات کے حوالہ سے جن رویوں ، اقدامات کے تقاضے ہیں ہم نے اس سے یکسو روگردانی کی ہے ۔
2۔دوسری وجہ یہ ہے کہ افراد ، ذاتی خاندان ، شخصیات کے استحکام پر توجہ مرکوز رہی ہے لیکن اداروں کو مستحکم کرنے اور انہیں پروان چڑھانے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی بلکہ ایک ایک کر کے اداروں اور اجتماعی سوچ ، ملک و ملت کے نقصان کے احساس کا خاتمہ کیا گیاہے ۔ حل یہ ہے کہ شخصیات اور ذاتی خواہشات کو تحفظ دینے کی بجائے قومی اداروں اور قومی رویوں کو درست کیا جائے ۔
3۔تیسری بڑی وجہ یہ ہے کہ بار بار جمہوری ، آئینی اور قانونی عمل معطل کیا جاتارہاہے لیکن اب ملک میں ایک طویل صبر آزما جدوجہد ، قربانیوں کے بعد آئین ، عدلیہ ، جمہوری عمل حاصل ہواہے ، ماضی میں آئین توڑے گئے ۔ عدلیہ مفلوج اور قید کی گئی ، فوج بار بار مسند اقتدار پر زبردستی بیٹھ جاتی رہی جس سے ملک کا مزاج بگڑ گیا اور ادارے تباہ ہو گئے ۔ جب تک دستور اور عدلیہ کے فیصلوں پر عملدرآمد کے احترام کی روایت قائم نہ ہو گی اس وقت تک عام قوانین کا احترام بھی پیدا نہ ہو سکے گا۔
4۔چوتھی وجہ یہ ہے کہ دینی اور سیاسی جماعتیں اصول ، جمہوری روح ، قومی ترجیحات کی بجائے مسالک ، پاور پالیٹکس اور ہر قیمت پر اقتدار کے حصول پر کاربند ہیں اس رویہ نے علاقائی عصبیتیں پروان چڑھانے ، برادریوں کو اہمیت دینے ، مقامی مفادات کو مضبوط کرنے اور اپنے اپنے مسلک کے تحفظ کے لیے شدت جذبات کی پرورش کرنے کا کردار ادا کیا ہے ۔ ملکی مفادات اور قومی نقطہ نظر کی بجائے دینی و سیاسی جماعتیں وقتی مفادات کو ہی عزیز رکھتی ہیں ۔
5۔پانچویں وجہ یہ ہے کہ ملک میں بنائے گئے قوانین غیرمنصفانہ ہیں ۔ قانون کے احترام کے لیے ضروری ہے کہ قانون بھی منصفانہ ہو ۔ برے قوانین میں سے کچھ کی تومجبوری کے تحت پابندی کی جاسکتی ہے لیکن اس کا احترام نہیں کیاجاسکتا۔ جب تک قوانین انصاف پر مبنی نہ ہوں، قانون اچھا نہ ہو، اس وقت تک اس کی اطاعت کس طرح ہوسکتی ہے ۔ یہ ہی فرق ہے اسلامی اور عام قوانین کے درمیان کہ اسلامی قوانین کے بارے میں انسان یہ جانتا ہے کہ یہ اللہ اور اس کے رسول نے ہمیں دیئے ہیں ایسے قوانین مفاد مصلحت و مجبوری پر مبنی نہیں ہیں ان کی اطاعت محض قانون کی نہیں بلکہ اللہ اور رسول کی اطاعت ہے ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ مذہبی قانون کا زیادہ احترام ہوتاہے ۔ آج تک پارلیمنٹ میں ان رپورٹس پر بحث نہیں ہوئی اور نہ ہی قوانین کو دین کے سانچے میں ڈھالنے کی سنجیدہ کوشش کی گئی ہے ۔
6۔چھٹی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اندرونی اور بیرونی عوامل اپنا اپنا شیطانی کھیل کھیل رہے ہیں ۔ امریکہ نے ہمارے ملک کو اپنے چنگل میں لیا ہواہے ۔ اس کے ایجنٹ ، جلوس ، این جی اوز ، خوف اور لالچ کی بنیاد پر ان کے ذہنی غلام پورے ملک میں پھیلے ہوئے ہیں جو ہمیں اس کا غلام بنا کر اس کے ڈو مور ، کِل مور کے ہر حکم کو ماننے پر مجبور کردیتے ہیں ۔ حکمرانوں نے ایک پرائی جنگ کو اپنی جنگ بنا کر ہماری فوج کو اپنے ہی عوام سے لڑا دیاہے ۔ امریکہ اور اس کے حواری ہماری حاکمیت اور خود مختاری کو پامال کر کے ملک کے اندر من مانی کاروائیاں کر رہے ہیں۔ ڈرون حملے روز افزوں ہیں امن کی ہر کوشش کو امریکہ سبوتاژ کر دیتاہے یہ پالیسی اور رجحانات ختم کرنا ہوں گے ۔
7۔ساتویں وجہ یہ ہے کہ ملک میں نظام احتساب باقی نہیں رہا۔ حالیہ عرصہ میں احتساب کے نام پر سنگین مذاق کیے گئے ہیں ۔ احتساب کو سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے کے لیے دباﺅ کاذریعہ بنایا گیا ہے ۔ سپریم کورٹ نے اپنے حالیہ فیصلے میں زرداری ٹولے کو نظام احتساب کے حوالے سے جو فیصلے دیئے ہیں اس سے سب کی آنکھیں کھل گئی ہیں کہ احتساب کے نام پر کیا بھیانک کھیل کھیلے گئے ہیں ۔ عوام میں اعتماد کی بحالی ، نفرتوں کے خاتمہ اور عوام میں شدت اور انتہا پسندی کے جذبات کے خاتمہ کے اور برداشت کے جذبے پیدا کرنے کے لیے ہمہ گیر نظام احتساب خواہ وہ پارٹی کے اندر ہو ، حکومتی سطح پر ہو ، پارلیمنٹ یا عدالت کی سطح پر ہو اسے بحال ہوناچاہیے یہ وہ ذریعہ ہے جس سے ہم منافرت ، شدت اور انتہا پسندی کی آگ کو ٹھنڈا کرسکتے ہیں ۔
حقیقت یہ ہے کہ ملک و ملت انتہائی سنگین صورتحال سے دوچار ہے ۔ حکومت ، سیاسی اور دینی جماعتوں ، پارلیمنٹ پوری قوم اور پوری قیادت کو اس کا احساس ہوناچاہیے ۔ اس ملک کی بقا استحکام اور ترقی میں سب کی زندگی ہے ۔ خدانخواستہ اب بھی اس کا احساس نہ کیا گیا اور قیادت کی بے حسی یا وژن میں محدود یت کی وجہ سے صورتحال متاثر ہوئی تو غالب امکان ہے کہ افراد ملک میں اعتماد کھو بیٹھیں گے تو خدانخواستہ ہمارا مستقبل بڑا تاریک ہے ۔