عمران خان اب کپتان نہیں لیڈر بنیں

10 جون 2013

جس طرح وردی جرنیل کی کھال بن جاتی ہے اور اگر جرنیل سابق آرمی چیف رہا ہو تو کھال اسے ایک پل چین سے نہیں بیٹھنے دیتی یہاں تک وہ گردش حالات کا شکار ہوجاتا ہے۔ کپتانی کا نشہ بھی اترتے اترتے اترتا ہے اور اگر کپتان ورلڈ کپ جیت چکا ہو تو پھر کپتانی کا نشہ زندگی بھر رہتا ہے۔ عمران خان پاکستان کے خوش قسمت کپتان ہیں جو قوم کے ہیروقرار پائے۔ کپتان کے طور پر اس قدر شرمیلے تھے کہ ٹیم سے براہ راست بات نہیں کرپاتے تھے اور ٹیم مینجر کا سہارا ڈھونڈتے تھے۔ کرکٹ اور سیاست میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ کرکٹ گیارہ کھلاڑیوں اور محدود میدان کا کھیل ہے جبکہ سیاست کا میدان خیبر سے کیماڑی تک وسیع ہے جس میں لاکھوں کھلاڑی ہوتے ہیں جن سے لیڈر کو واسطہ پڑتا ہے۔ عمران خان کو آخر کار عوام نے 2013ءکے انتخابات میں لیڈر تسلیم کرلیا ہے اور ان پر بھاری ذمے داری ڈال دی ہے۔ اب ان کا فرض ہے کہ وہ کپتانی کے مزاج اور انداز سے باہر نکل آئیں اور پاکستان کے مثالی لیڈر بننے کی کوشش کریں۔ مثالی عوامی لیڈر بننے کے لیے لازم ہے کہ وہ کامیاب لیڈروں کے اوصاف کو اپنی شخصیت کا حصہ بنائیں۔
پارٹی کو نظم وضبط میں رکھنے کے لیے لازم ہے کہ لیڈر خود نظم و ضبط کا پابند ہو۔ عوامی لیڈر کا ایک فعال اور منظم سیکریٹریٹ ہو جس کا سٹاف تجربہ کار اور پرجوش ہو۔ لیڈر اس سیکریٹریٹ میں خود بیٹھ کر پاکستان کی صوبائی اور ضلعی تنظیموں کی سرگرمیوں کو کنٹرول کرے۔ ضلعی تنظیموں کی ماہانہ رپورٹوں کا مطالعہ کرے اور ان پر ہدایات تحریر کرے۔ لیڈر کارکنوں اور عہدیداروں کے خطوط، ای میلز، ایس ایم ایس اور فون کالز کا جواب دے تاکہ پارٹی کے ساتھ لیڈر کا رابطہ استوار رہے۔ لیڈر مختلف ڈویژن کا دورہ کرکے ورکرز کنوینشن کرے تاکہ اسے زمینی حقائق کا علم ہوتا رہے اور کارکن متحرک رہیں۔ لیڈر کو پارٹی کے پرانے، سرگرم اور متحرک کارکنوں اور لیڈروں کے ساتھ رابطے میں رہنا چاہئے۔ ان سے مشاورت کرنی چاہئے اور فیصلے کرتے وقت ان کو اعتماد میں لینا چاہیے تاکہ پارٹی کارکن مایوس ہوکر گھروں میں نہ بیٹھ جائیں۔ لیڈر کا فرض ہے کہ وہ ہفتہ میں ایک دن کارکنوں اور عہدیداروں سے ملاقات کے لیے مختص کرے اور ہر تین ماہ بعد پارٹی کی مرکزی کمیٹی کا اجلاس بلائے اور میڈیا پر ذاتی طور پر گہری نظر رکھے۔ پارٹی پر ہونے والی تنقید کا خود یا ترجمان کی جانب سے جواب دے اور اس مقصد کے لیے پارٹی کا منظم، اہل اور متحرک میڈیا سیل تشکیل دے۔ مختلف قومی امور اور مسائل پر عوام کے سامنے اپنا موقف پیش کرنا لیڈر کی ذمے داری ہے۔
اگر عمران خان منظم لیڈر کے طور پر پارٹی کو چلارہے ہوتے تو خیبر پختونخواہ کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک کی تین قریبی عزیز خصوصی نشستوں پر قومی اسمبلی کی رکن منتخب نہ ہوتیں۔ تحریک انصاف کے صدر مخدوم جاوید ہاشمی قومی اسمبلی میں یہ نہ کہتے کہ ”میاں نواز شریف میرے لیڈر تھے اور لیڈر ہیں“۔ تحریک انصاف لاہور کی سرگرمنتخب صدر نیلم اشرف کا نام خواتین کی لسٹ میں 20نمبر پر نہ ہوتا اسی طرح پنجاب کی منتخب صد سلونی بخاری اور بانی کارکن فوزیہ قصوری کے ساتھ نا انصافی نہ ہوتی۔ پی پی پی اور مسلم لیگ(ن) نے لاہور اور پنجاب کی صدور کو صوبائی اور قومی اسمبلی کی لسٹ میں پہلے نمبر پر رکھا۔ تحریک انصاف اگر پارٹی کے اندر انصاف نہیں کرسکتی تو وہ کبھی عوام کو انصاف فراہم نہیں کرسکے گی۔ یہ ہے وہ بنیادی تضاد جسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ عمران خان نے پاکستان کے عوام کو ایک متبادل سیاسی جماعت کا آپشن دیا ہے۔ اب یہ ان کی ذمے داری ہے کہ وہ تحریک انصاف کو دوسری سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں مثالی اور معیاری بنائیں۔شوکت خانم ہسپتال اور نمل یونیورسٹی کو ادارے کے طور پر چلایا جاسکتا ہے مگر سیاسی جماعت لیڈر کے بغیر نہیں چل سکتی۔ عمران خان کو اپنی سیاسی خامیوں پر قابو پانا ہوگا۔ کیا وجہ ہے کہ لوگ ان کو چھوڑ جاتے ہیں۔ تحریک انصاف کو خیر باد کہنے والوں کی فہرست طویل ہے اس رجحان کو منظم اور فعال قیادت سے ہی ختم کیا جاسکتا ہے۔ فوزیہ قصوری نے تحریک انصاف کو زندگی کے اٹھارہ سال دئیے۔ پارٹی کا ماحول اگر سازگار ہوتا تو وہ کبھی تحریک انصاف کو نہ چھوڑتی۔ لیڈر کی ذمے داری ہوتی ہے کہ وہ اپنے پرانے ساتھیوں کو مایوسی اور محرومی کا شکار نہ ہونے دے۔ فوزیہ قصوری نے کہا ہے کہ تحریک انصاف پر ”مافیا“ کا قبضہ ہوچکا ہے۔ ”میں نے تحریک انصاف کو نہیں چھوڑا بلکہ پارٹی نے مجھے چھوڑ دیا ہے۔ تحریک انصاف نے مجھے انصاف نہیں دیا“۔ فوزیہ قصوری کو پارٹی کے انتخابات میں حصہ لینے کا موقع ملنا چاہیئے تھا۔ اس سے دوہری شہریت چھوڑنے کا حلفیہ بیان لے لینا چاہیئے تھا۔ تحریک کی قیادت سے اس ضمن میں ضرور غفلت ہوئی ہے۔ بانی اراکین کو پارٹی دستور کی وجہ سے قربان نہیں کیا جاسکتا۔ لیڈر کو ان کے لیے گنجائش نکالنی ہوتی ہے جس کے لیے لیڈر کو اختیار دیا جاتا ہے۔
میں نے ذوالفقار علی بھٹو شہید اور محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے انداز سیاست کا بڑے قریب سے مشاہدہ کیا ہے۔ ان میں بھی سیاسی اور تنظیمی خامیاں موجود تھیں۔ ان خامیوں کے باوجود دونوں نے پرجوش، ولولہ انگیز، فعال اور منظم قیادت کا مظاہرہ کیا اور پارٹی کے عہدیداروں سے پورا کام لیا۔ بھٹو شہید کے پہلے دور اقتدار میں پی پی پی پنجاب کے صدر اور وفاقی وزیر نے بابائے سوشلزم شیخ رشید کسی وجہ سے ناراض ہوکر گھر بیٹھ گئے۔ بھٹو شہید وزیراعظم پاکستان تھے اس کے باوجود انہوں نے وفاقی وزیر عبدالحفیظ پیرزادہ اور گورنر پنجاب ملک غلام مصطفی کھر کو شیخ رشید کو منانے کے لیے ان کے گھر بھیجا۔ فوزیہ قصوری کہتی ہیں کہ ان کو تین ماہ تک کسی عہدیدار نے پوچھا تک نہیں۔ اگر عمران خان انتخابی مہم میں مصروف تھے تو تحریک کے صدر جاوید ہاشمی اور وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کو پارٹی کے مفادات کا خیال رکھنا چاہیئے تھا۔ عہدے حاصل کرلینا اور اس کے تقاضے پورے نہ کرنا پاکستانی سیاست کی بنیادی خرابی رہی ہے۔
شاہ محمود قریشی نے راقم کو بتایا کہ انہوں نے فوزیہ قصوری سے کئی بار رابطہ کیا مگر اس نے فون اٹینڈ نہ کیا اور نہ ہی ایس ایم ایس کا جواب دیا۔ عمران خان نے بھی فوزیہ قصوری کو فون کرکے اس کی ناراضگی دور کرنے کی کوشش کی۔ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے فوزیہ قصوری سے ملاقات کرکے اسے قائل کرنے کی کوشش کی۔راقم نے بھی فوزیہ قصوری کو فون کیا اور ایس ایم ایس بھیجا مگر انہوں نے جواب نہ دیا۔ انہوں نے عجلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پارٹی سے علیحدگی کا اعلان کردیا۔ میں اپنے سیاسی تجربے کی بنیاد پر فوزیہ قصوری کو مشورہ دینا چاہتا ہوں کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں اور کسی دوسری سیاسی جماعت میں شریک نہ ہوں وگرنہ ان کو ایک اور دریا کا سامنا ہوگا۔ ان کا سیاسی مستقبل تحریک انصاف سے ہی وابستہ ہے اگر شیریں مزاری واپس آسکتی ہیں تو وہ اپنے گھر واپس کیوں نہیں آسکتیں۔ پاکستان کے عوام کو تحریک انصاف کی صورت میں ایک سیاسی آپشن ملا ہے۔ تحریک کے لیڈر، عہدیداروں اور کارکنوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے عمل، تنظیم اور سیاسی شعور سے ثابت کریں کہ تحریک انصاف دوسری جماعتوں سے بہتر آپشن ہے۔