فیصلہ ! گورنروں کی تقرری کا

10 جون 2013

لیں جی! جمہوری سفر کا ایک اور مرحلہ طے ہو گیا۔ وفاقی وزراءاور اُن کے محکموں کے اعلانات سامنے آ گئے بلکہ سبھی نے اپنے اپنے قلم اور قلمدان اٹھا لئے۔ کئی شیروانیاں سلوا کر انہیں چھپانے کیلئے جگہیں ڈھونڈ رہے ہیں حالانکہ شیروانی سے عظیم قائد محمد علی جناحؒ یاد آ جاتے ہیں۔ ممبران صوبائی اور قومی اسمبلی کو چاہئے کہ وہ ایوانوں میں شیروانیاں پہن کر جایا کریں، مزا آئے گا۔ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی سی خوبصورت ٹائیاں لگانے سے کوئی مدت پوری نہیں ہو جایا کرتی۔ شیروانیوں سے کم از کم بابائے قوم یاد آ جاتے ہیں اور مسلم لیگی وجاہت بھی اُبھر کر سامنے آتی ہے۔ لہٰذا جنہوں نے شیروانیاں سلوا لیں ہیں وہ مایوس نہ ہو، وہ بحیثیت ممبر قومی اسمبلی بھی شیروانیاں پہن سکتے ہیں۔ چلو زیادہ نہیں ہمیں اپنے دو مہربانوں کا پتہ ہے وہ وزارت کا حلف شیروانی پہن کر اٹھانا چاہتے تھے لیکن اب وہ مارے مارے پھرتے ہیں حالانکہ مارے مارے پھرنے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ سال دو سال کے بعد نئے وزراءاور وزراءکے قلمدان یقیناتبدیل ہونے ہیں۔
وزراءکی بات ابھی جاری ہے لیکن باخبر ذرائع اور بے خبر ذرائع دونوں اس بات پر متفکر ہیں کہ، پنجاب کی گورنری کس کے ہاتھ لگتی ہے حالانکہ سندھ اور خیبر پی کے کی گورنریاں بھی اہم ہیں تاہم پنجاب کی گورنری کے حوالے سے جنوبی پنجاب سے بندہ ڈھونڈا جا رہا ہے۔ کچھ وہ لوگ جو میاں برادران سے اپنی قربتیں ثابت کرنے کے چکر اور فکر میں رہتے ہیں، اُن کا خیال ہے کہ شہباز شریف صاحب کسی پڑھے لکھے گورنر کے متلاشی ہیں (حالانکہ گورنر کبھی ان پڑھ نہیں ہوتا)، ایسے لوگوں کی پیش گوئیوں کے مطابق تو بہاﺅالدین زکریا یونیورسٹی کے وائس چانسلر خواجہ علقمہ خیر الدین مبارکبادیں وصول کر رہے ہیں اور شیروانی بھی سلوا چکے۔ ان کا وائس چانسلر ہونا اتنا اہم نہیں ہے جتنا خواجہ خیر الدین کا صاحبزادہ ہونا اہم ہے۔ خواجہ خیر الدین مشرقی پاکستان میں وضعدار مسلم لیگیوں میں شامل تھے جو بعد ازاں مغربی پاکستان آ گئے۔ حلقہ یاراں کا خیال ہے کہ علقمہ صاحب کا ”خواجہ“ ہونا انہیں گورنری کے قریب تر کر رہا ہے لیکن ہمیں اس بات پر یقین اس لئے نہیں کہ ”خواجگان“ میں سے خواجہ آصف، خواجہ سعد رفیق اور کافی حد تک خواجہ اور کسی حد تک ڈار جناب اسحاق ڈار سمیت اور بھی تین چار ایسے ہی معززین وزارتوں پر قبضہ جما چکے گویا جنوبی پنجاب سے اگر میاں شہباز شریف نے تعلیمی میدان ہی سے کوئی گورنر ڈھونڈنا ہے تو اور بہت ہیں۔ ماہر تعلیم کی کمی نہیں ایک ڈھونڈو ایک ہزار حلقے ہیں۔ میاں شہباز شریف جانتے ہیں کہ خواجہ علقمہ کیسے وائس چانسلر بنے اور ان سے ایک یونیورسٹی نہیں سنبھالی جاتی بھلا صوبہ پنجاب کیا سنبھالیں گے۔ ہاں ہم اتنا چاہتے ہیں اور جو ہم نے خواجہ علقمہ خیر الدین کے منہ سے بھی سُن رکھا ہے کہ سابق نگران وزیراعظم غلام مصطفیٰ جتوئی مرحوم ان کے خاندان پر آخر وقت تک بہت مہربان رہے تھے، ہاں وہ اگر ہوتے تو بات اور تھی۔ پھر بھی، اگر میاں برادران کے ہاتھوں بھی ان کی لاٹری نکل آتی ہے (جو ہمیں دکھائی نہیں دیتی) ۔ خواجہ صاحب اگر قسمت کے دھنی نکل ہی آتے ہیں، تو پھر ہم کون اور ہمارا اندازہ کیا؟
ہاں واپس چلتے ہیں وفاقی وزراءکی طرف۔ ہم بہت خوش ہیں کہ ہمارے شہر گوجرانوالہ سے دو وزیر مملکت بن گئے۔ پھر ہماری ڈویژن گوجرانوالہ سے تو کئی وزراء”طلوع“ ہوئے ہیں۔ اللہ ان کی آب و تاب کو قائم رکھے۔ بہرحال کسی اور کی لاٹری نکلے یا نہ نکلے، گوجرانوالہ کی تو نکل پڑی! بہرحال وزراءکی شکلیں، عقلیں، تجربے اور ماضی دیکھ کر ہمیں نہ کوئی افسوس ہُوا ہے اور نہ کوئی بڑی خوشی۔ نہ ہم کسی تجسس ہی کا شکار ہیں۔ اکثریت وہی ہیں جنہوں نے وزیر بننا ہی تھا اور پہلے بھی بنتے تھے، نہ کوئی نیا تجربہ ہے، نہ کوئی نئی دریافت ہے اور نہ کوئی نئی ایجاد۔ حُسنِ ظن اپنی جگہ لیکن کہیں کوئی نیا عزم بھی دکھائی نہیں دیتا البتہ جلد ہی خواجہ آصف کو ”نئی“ وزارت مل جائے گی کیونکہ پانی اور بجلی کی وزارت بیک وقت خواجہ صاحب، بجلی صاحبہ اور پانی صاحب کا امتحان ہے۔ البتہ خواجہ سعد رفیق کو بطور وفاقی وزیر ریلوے کا انجن بننا ہو گا اور عبدالحکیم بلوچ کو بطور وزیر مملکت شنٹنگ (Shunting) انجن کا کردار ادا کرنا ہو گا۔ پانی بجلی اور ریلوے کے علاوہ جس وزارت پر ہمیں زیادہ ترس آتا ہے وہ رحمن ملک والی وزارت ہے جو چوہدری نثار علی خان کو مل گئی۔ دعا ہے کہ چوہدری صاحب اپنی وزارت اور چودھراہٹ دونوں کو بچا سکیں ....
ابھی سے دل و جاں سرِراہ رکھ دو
کہ لٹنے لٹانے کے دن آ رہے ہیں
جی، اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ، وزیراعظم میاں نواز شریف نے وزارتِ خارجہ اور وزارتِ دفاع (فی الحال) اپنے پاس رکھی ہے۔ کم از کم وزارتِ خارجہ کے لئے ہم نے دو تین ہفتے قبل عرض کی تھی کہ، ازراہِ کرم فی الحال اسے اپنے پاس ہی رکھا جائے، اور میاں صاحب نے اچھا کیا کہ دو تین وزارتیں اپنے پاس رکھیں، جونہی وہ تیل اور تیل کی دھار دیکھ لیں تو پھر کس کو دیں۔ ورنہ ماضی کی طرح ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ کسی ناکام وزیر خارجہ (شاہ محمود قریشی) سے وزارت واپس لے لی جائے تو وہ وزارتِ عظمیٰ مانگتا ہے یا نئی دکان لگانے بیٹھ جاتا ہے۔ اچانک وہ دن یاد آ گیا جب پی پی پی اور مسلم لیگ ن کی ”چار دن“ کی مخلوط حکومت بنی تھی اور مسلم لیگ ن کے وزراءخواجہ سعد رفیق، اسحق ڈار وغیرہ نے کالی پٹیاں باندھ کر حلف اٹھائے تھے، اُس وقت حلف لینے والے سابق آمر جرنیل پرویز مشرف تھے، اور اس دفعہ صدر آصف علی زرداری تھے۔ چونکہ اس دفعہ کالی پٹیوں سے آغاز نہیں ہوا چنانچہ امید رکھتے ہیں کہ ابتدا اچھی ہو گی۔ جب تک وزارتوں میں ردوبدل کا موقع آئے گا تب تک ایوان صدر کا باسی یعنی حلف لینے والا بھی بدل چکا ہو گا پھر دیکھیں گے کہ، زرداری صاحب سندھ میں جلوہ افروز ہوں گے کہ دوبئی یا برطانیہ میں رونق افروز، رفتہ رفتہ وقت نے ابھی بہت فیصلے کرنے ہیں۔ فیصلہ این آر او کا، فیصلہ پانی اور بجلی کا، فیصلہ ریل اور پی آئی اے کا، فیصلہ ڈرون حملوں کا --- اور پھر فیصلہ میاں صاحب کا کہ جن کا فیصلہ عوام نے بڑی امیدوں سے کیا ہے --- اور اس فیصلے کا بھی فیصلہ ہونا ہے جس کے تحت قوم پر وزراءکے کئی آزمودہ چہروں ہی کو سجایا گیا ہے --- ہاں فیصلہ!