ویلڈن پاکستان چیمپئن

کافی عرصہ سے قوم اچھی خبر سننے کو ترس گئی تھی۔ کہتے ہیں جب ابتری آتی ہے تو معاشرے کے تمام شعبے تنزلی کا شکار ہو جاتے ہیں اور جب بہتری آتی ہے تو سارے شعبے فعال ہو جاتے ہیں۔ قوم کو بڑی توقعات تھیں کہ پاکستانی ٹیم ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں قوم کی امیدوں پر پورا اترتے ہوئے فائنل تک رسائی حاصل کرلے گی لیکن انتہائی بری کارکردگی کی بنا پر ٹیم سپر ایٹ مرحلہ کے لیے بھی کوالیفائی نہ کر سکی۔ قوم کا کھلاڑیوں پر غصہ بجا تھا اب پوری ٹیم منہ چھپاتی پھر رہی ہے۔ کئی کھلاڑیوں کا مستقبل داو¿ پر لگا ہوا ہے۔ کرکٹ بورڈ نے اپنی خفت مٹانے کے لیے پوسٹمارٹم کا اعلان کر رکھا ہے لیکن پوسٹمارٹم ہوتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا۔
 چیئرمین پی سی بی جو کہ وزیر داخلہ بھی ہیں، کوچاہیے کہ وہ خراب کارکردگی والوں کو ایف آئی اے کے حوالے کریں یا کم ازکم ٹیم کی ناقص کارکردگی پر کوئی انکوائری ہی کروالیں کہ چھوٹی چھوٹی ٹیموں سے ہارنے کے پیچھے کیا عوامل کارفرما تھے۔ ہماری ٹیم صرف میچ نہیں ہاری کروڑوں پاکستانیوں کے دل ٹوٹے ہیں جن کا کوئی مداوا نہیں کیا گیا۔ واقفان حال کا کہنا ہے کہ ٹی ٹونٹی کا سکواڈ انتشار کا شکار تھا۔ ٹیم میں ہم آہنگی نہ تھی ٹیم میں اجتماعی کاوش نہ تھی۔ ہر کوئی اپنے آپ کو نمایاں کرنے کے چکروں میں تھا اور ان ہی چکروں میں سب چکر کھا کر گر پڑے۔ جو کل تک ہیرو تھے آج شرمندہ شرمندہ ہیں۔ قوم بھی اسی اداسی کی کیفیت سے دوچار تھی۔ ایسے میں سنیرز نے کمال کر دکھایا۔ ورلڈ چیمپئن لیگ میں پاکستان کے ریٹائرڈ کھلاڑیوں نے وہ کارنامے سرانجام دیے کہ قوم عش عش کر اٹھی حالانکہ ان سنیئر کھلاڑیوں نے نہ تو کاکول اکیڈمی سے ٹریننگ لی تھی اور نہ ہی قوم کو سبز باغ دکھائے تھے۔ پھر بھی اپنی مہارت لگن اور جذبہ کے ساتھ ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔ پاکستان کے بوڑھے شاہینوں نے ایسی کارکردگی کا مظاہرہ کیا کہ ایسے لگ رہا تھا جیسے پاکستانی کھلاڑیوں کی جگہ جن کھیل رہے ہوں۔ پاکستان کی ورلڈ چیمپئن لیگ میں کھیلنے والی ٹیم تاحال ناقابل شکست ہے۔ دنیائے کرکٹ کے نامور ملکوں کی ٹیموں کو ایسے ناکوں چنے چبوائے کہ سب دم بخود رہ گئے حالانکہ ان ٹیموں میں ماضی کے نامور کھلاڑی کھیل رہے تھے۔ سب تجربہ سے مالا مال تھے لیکن پاکستانی شاہینوں نے کمال کر دکھایا۔ اپنے پہلے میچ میں آسٹریلیا کے 190 رنز جیسے بڑے ٹارگٹ کو اچیو کرکے یہ میچ 5وکٹوں سے جیت لیا۔ پاکستان کا دوسرا میچ ویسٹ انڈیز کے خلاف تھا۔ پاکستان نے پہلے کھیلتے ہوئے ویسٹ انڈیز کو 194 رنز کا مضبوط ہدف دیا اور پھر کمال باو¿لنگ کرتے ہوئے ویسٹ انڈیز کو 30 رنز کی شکست سے دوچار کیا۔
 تیسرا میچ روائیتی حریف انڈیا کے ساتھ تھا دونوں ملکوں کے عوام کی نفسیات ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ دنیا سے ہار جائیں لیکن روائیتی حریف سے مار نہ کھائیں۔ بدقسمتی سے پاکستان کافی عرصہ سے بھارت کے خلاف قابل دید کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر پا رہا تھا لوگ سمجھ رہے تھے کہ پاکستان نے کرکٹ میں بھارت کی بالادستی تسلیم کر لی ہے۔ پاکستانی کھلاڑی نفسیاتی طور پر بھارت کا دباو¿ لے لیتے ہیں اور اچھی پرفارمنس نہیں دے پاتے خاص کر ورلڈ کپ ٹی ٹونٹی کے میچ میں پاکستان نے انڈیا سے جیتا ہوا میچ ہارا تو تبصرے ہونا شروع ہوگئے کہ بھارتی کھلاڑیوں کے آگے پاکستانی کھلاڑیوں کے ہاتھ پاو¿ں پھول جاتے ہیں۔
 پاکستانیوں کا بھارت کے خلاف عام سا میچ بھی فائنل جیسا ہوتا ہے۔ ورلڈ چیمپئن لیگ میں بھارت کے ساتھ ہونے والے میچ میں تو پاکستانی شاہینوں نے کمال کر دکھایا۔ ناقابل یقین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستانی کھلاڑیوں نے پہلے کھیلتے ہوئے ناقابل یقین 243 رنز جیسا بلند وبالا پہاڑ کھڑا کر دیا اور جب باولنگ کی باری آئی تو انڈیا کی ٹیم کو 175 رنز پر ڈھیر کر دیا انڈیا کے 9کھلاڑی آوٹ کرکے 68 رنز کے بڑے مارجن سے فتح سمیٹی۔ کرکٹ لورز کے لیے یہ جیت بہت ہی اہم تھی۔ کرکٹ کے مایوس شیدائی اس فتح پر جھوم اٹھے۔ پاکستانی ٹیم فتح کے ٹریک پر دوڑ رہی تھی۔ اگلا میچ انگلینڈ کے ساتھ تھا جس میں پاکستانی شاہینوں نے انگلینڈ کو 79 رنز کی شکست سے دوچار کیا۔ پاکستان کی ناقابل یقین فتوحات سے کرکٹ کے مایوس شائقین میں کرنٹ دوڑنے لگا۔ سارے سوشل میڈیا میں جے جے کار ہو رہی ہے۔ طرح طرح کے تبصرے اور میمز بن رہی ہیں اور سنیئر کھلاڑیوں کی دل موہ لینے والی کارکردگی کو دیکھ کر لوگ کہنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ ریگولر ٹیم کو چھوڑیں اسی سکواڈ کو پاکستان کی ٹیم ڈیکلیر کیا جائے۔ 
دراصل معمولی معمولی کامیابیاں امیدیں بندھا دیتی ہیں اور پے درپے شکستوں سے خواہ مخواہ مایوسی ڈیرے ڈال لیتی ہے پاکستانی سنیر کھلاڑیوں کی کارکردگی نے شائقین کرکٹ کو حوصلہ دیا ہے اسی قسم کے حوصلے کی اس وقت قوم کو سیاستدانوں سے زیادہ ضرورت ہے۔ سیاسی عدم استحکام، دہشتگردی، مہنگائی بےروزگاری، معاشی بدحالی اور توانائی کے بحران نے قوم کو مایوسی سے دوچار کر رکھا ہے۔ قوم کو اس وقت امید بندھانے کی ضرورت ہے۔ قوم سیاستدانوں سے ورلڈ چیمپئن ٹیم جیسی کارکردگی کی توقع لگائے بیٹھے ہیں لیکن بدقسمتی سے سیاستدان آپس میں دست وگریباں نظر آتے ہیں۔ خدارا آپس کے لڑائی جھگڑوں سے باہر نکلیں، قوم پر رحم کھائیں اور ٹیم ورک سے ملک وقوم کو دلدل سے نکالیں۔

ای پیپر دی نیشن