امریکی قرارداد۔پاکستان کے معاملات میں کھلی مداخلت

میں اپنے قارئین سے معذرت خوا ہ ہوں کہ بعض اہم معاملات پربروقت اظہار خیال نہیں کرسکا۔ میں قارئین کو ساتھ ہی ساتھ بتا تا رہا ہوں کہ میں کس طرح ہسپتالوں کے چنگل میں پھنسا رہا ہوں۔کئی کئی روز نیم بیہوشی کی کیفیت میں گزرتے تھے، اس لئے فوری طور پر میرے لیے قومی معاملات پر کالم لکھنا ممکن نہ تھا۔لیکن وہ جو کہتے ہیں کہ دیر آ ید درست آید ، اب میں اگلی پچھلی کسر نکالنے کی کوشش کروں گا۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں امریکی قرارداد کے خلاف رولز معطل کرکے قرارداد ایوان میں پیش کی گئی،جسے ایوان نے کثرت رائے سے منظور کرلیا۔ قراردار کے متن میں کہا گیا کہ ایوان نے 25جون کی امریکی ایوان نمائندگان کی قرارداد کا نوٹس لیا ہے، اوریہ ایوان، پاکستان اورامریکا کو اہم شراکت دار تصور کرتا ہے،اور یہ کہ ایوان دستور پاکستان کی روح کی یاد دہانی کراتا ہے جس میں جمہوریت کی بین الاقوامی اقدار اور انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا گیا ہے، ایوان بابائے قوم کے وڑن اور پاکستانی عوام کی امنگوں اور تمناﺅں کے مطابق مندرجہ بالا اصولوں پر کار بند رہنے اورپاکستان میں ایک مستحکم جمہوری معاشرہ کے قیام کیلئے پرعزم ہے، امریکی ایوان نمائندگان کی قرارداد پاکستان کے سیاسی اور انتخابی عمل میں کسی غلط فہمی کی عکاسی کر رہی ہے ،جو قابلِ افسوس ہے۔اور یہ کہ امریکی ایوان نمائندگان کی مذکورہ قرارداد میں 8 فروری کے عام انتخابات میں کروڑوں پاکستانیوں کے ووٹ کے حق کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ پاکستان جیسا خود مختار ملک اپنے اندرونی معاملات میں کسی کو مداخلت کی اجازت نہیں دے سکتا، امریکی ایوان نمائندگان کی قرارداد ریاست پاکستان کو کمزور کرنے کی ایک کوشش ہے۔
 ایوان امریکی کانگریس کی توجہ غزہ میں نسل کشی اور بھارت کے غیر قانونی زیرقبضہ جموں و کشمیر اور بھارت کے دیگر حصوں میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں اورمسیحی بھائیوں کے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی طرف مبذول کراناچاہتا ہے۔ یہ ایوان امریکا اوربین الا قوامی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ غزہ اور بھارت کے غیرقانونی زیرقبضہ جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کوروکنے کیلئے فوری اقدامات کریں۔یہ ایوان باہمی احترام اور برابری کی بنیادپر امریکا کے ساتھ مضبوط اور مفید دوطرفہ تعاون کیلئے پرعزم ہے، ایوان کوتوقع ہے کہ مستقبل میں امریکی کانگریس دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے فروغ کیلئے زیادہ تعمیری کردار ادا کرے گا۔ 
قارئین کرام! ایوان نمائندگان کی قرارداد ہمارے ملک کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت ہے اورموجودہ جدیدجمہوری دنیا میں کسی ملک کو ایک آزادوخودمختارملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں ہوتی،نہ ہونی چاہئے۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ اس وقت پاکستان کی خود مختاری پرحملہ ہو رہا ہے اورسنی اتحاد کونسل کے لوگ ان کی حمایت کررہے ہیں۔جبکہ ضرورت تو اس امر کی ہے کہ غیرملکی طاقتیں آزادایٹمی پاکستان کے اقتداراعلیٰ اور اندرونی معاملات میں جس طرح مداخلت کر رہی ہیں ،ہم سب کو مل کربحیثیت قوم اس کو روکنا ہوگا۔پی ٹی آئی کے اراکین کا رویہ شرمناک ہے، ہم امریکا سے کہتے ہیں کہ ہمارے معاملات میں مداخلت نہ کرے، ہم کسی کو اپنے ملک میں دہشت گردی نہیں کرنے دیں گے ، کہنے والے کہتے ہیں کہ آج امریکی ایوان نمائندگان میں جو قرارداد پیش ہوئی ہے ،وہ امریکی ایوان نمائندگان میں تحریک انصاف کی کروڑوں ڈالر کی لابنگ کی وجہ سے پاس ہوئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ لوگ شعوری یا غیرشعوری طورپر ملک دشمن عناصر کے ہاتھوں میں استعمال ہورہے ہیں۔ امریکہ کیخلاف قرارداد اتفاق رائے سے منظور ہونا چاہئے تھی، کیونکہ پاکستان ایک خود مختار اورآزادجمہوری ملک ہے، صدافسوس کہ پاکستانی عوام نے ان کوووٹ دیکران پر اعتماد کا اظہارکیا مگریہ لابنگ اورپی آر فرمز سے مل کر قراردادیں ٹیبل کرتے ہیں۔ افسوس اور کس قدرشرمناک بات ہے کہ ابسولیوٹلی ناٹ کہہ کرسادہ لوح پاکستانی عوام کو دھوکہ دینے والے اب ایبسولیوٹلی یس کہہ رہے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ امریکا کے پٹھو ہیں، جب پاکستان کسی ملک کے اندرونی معاملات میں بے جامداخلت نہیں کرتاتو پاکستان کے معاملات میں بھی کسی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں ،وزیردفاع خواجہ آصف نے ایک بیان میں درست کہاہے کہ افغانستان سے دہشت گردی ہوئی تو ہم بھرپور جواب دیں گے، عوام اور ملک کی حفاظت کیلئے ہمیں اس کا حق حا صل ہے۔
یاد رہے کہ امریکی کانگریس میں25 جون 2024ءکو پاکستان کے 8 فروری 2024ءکو ہونے والے عام انتخابات کے دوران بے ضابطگیوں کی شکایتوں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرنے کی قرارداد منظور کی گئی تھی۔پاکستانی اپوزیشن کی طرف سے انتخابی دھاندلی کے مبینہ الزامات کی تحقیقات کیلئے امریکی قرارداد کے حق میں 368 ووٹ پڑے جبکہ مخالفت میں صرف 7 ارکان نے ووٹ دیا۔ ہاﺅس ریزولیوشن نمبر901 میں کہا گیا کہ یہ قرارداد پاکستان کے جمہوری عمل میں لوگوں کی بلا خوف شرکت کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔قرارداد میں کہا گیا کہ الیکشن کے دوران امیدواروں اور ووٹرز کو ہراساں کرنے، دھمکیاں دینے، تشدد، من مانی حراست، انٹرنیٹ اور ٹیلی کمیونیکیشن تک رسائی پر پابندی اور سیاسی حقوق کی خلاف ورزی کی مذمت کرتے ہیں۔قرارداد میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ پاکستان جمہوری اور انتخابی اداروں، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھے اور وہ پاکستانی عوام کی آزادی صحافت، آزادیِ اجتماع اور تقریر کی بنیادی ضمانتوں کا احترام کرے۔خیال رہے کہ امریکی ایوان نمائندگان کی یہ ایک نان بائنڈنگ قرارداد ہے جس پر عمل کرنا حکومت کے لیے ضروری نہیں ہوتا۔ تاہم اس کے جواب میں پاکستان نے امریکی کانگریس کا ملک کے انتخابات میں بے ضابطگیوں کے زمرے میں اپوزیشن کے الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ مسترد کردیا۔ اس میں کہا گیا کہ ایسی قرار دادیں تعمیری ہیں اور نہ ہی بامقصد۔ پاکستان دنیا کی دوسری بڑی پارلیمانی جمہوریت اور پانچواں بڑا جمہوری ملک ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے اپنے فوری ردعمل میں امریکہ کوٹھوس اورمسکت جواب دیا کہ پاکستان آئین اورانسانی حقوق کواہمیت دینے کا عزم کیے ہوئے ہے۔ ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا کہ اس مخصوص قرارداد کا وقت اور سیاق و سباق پاکستان اور امریکا کے دوطرفہ تعلقات کے مثبت پہلو ﺅں سے مطابقت نہیں رکھتے، اور اس کی وجہ پاکستان میں سیاسی صورت حال اور انتخابی عمل کی ناقص سمجھ بوجھ ہے۔دفتر خارجہ کے مطابق ہمیں امید ہے کہ امریکی کانگریس پاکستان اور امریکا کے تعلقات کو مضبوط بنانے میں معاون کردار ادا کرے گی اور دوطرفہ باہمی دوستانہ تجارتی و معاشی تعاون پر توجہ مرکوز کرے گی جس سے ہمارے عوام اور ملک دونوں کو فائدہ پہنچے گا۔ علاوہ ازیں وزیر دفاع خواجہ آصف نے اپنے ردعمل میں کہا کہ کیوں نہ امریکی انتخابات میں غیر ملکی مداخلت کا ذکر ہو، امریکی الیکشن میں دھاندلی کی تحقیقات کایو این او سے کہا جائے، جبکہ یہ ملک اس وقت فلسطینیوں کی نسل کشی میں اسرائیل کو بھرپورسہولت دے رہا ہے۔اس وقت اسے فلسطینی شہریوں کے انسانی حقوق کی بدترین پامالیاں نظرنہیں آتیں،پاکستان نے بجاطورپر امریکی ایوان نمائندگان سے منظور غیرآئینی اور غیرجمہوری قرارداد کوصومالیہ و دنیامیں امن کیلئے بے لوث مثالی خدمات انجام دینے والی پاک فوج کیخلاف پراپیگنڈا قراردیا۔
 جبکہ سابق صدر مملکت اور پی ٹی آئی کے رہنما عارف علوی نے امریکی ایوان نمائندگان میں پاکستانی الیکشن سے متعلق اس قرارداد کی منظوری کا خیر مقدم کیا۔ عارف علوی صاحب کوبتانا ہوگا اوراب پارلیمنٹ اور عدلیہ کو ان کا مواخذہ کرنا ہوگاکہ آپ کس طرح بطورسابق صدرمملکت ،پاکستان کے اندرونی معاملات میں امریکی مداخلت کی حمایت کر رہے ہیں، کیا ہمارا آئین اور قانون بیرونی مداخلت کی اجازت دیتا ہے؟ جبکہ بقول عمران خان، ان کی حکومت گرانے کی امریکی سائفر سازش ہوئی تو عارف علوی صدر پاکستان تھے۔
امریکہ کے منہ کو اس وقت سے خون لگ چکا ہے ، جب اس نے ہیروشیما اور ناگا ساکی میں ایٹمی تباہی مچائی تھی ، پھر اس نے خون آشامی کی ہوس ویتنام ، عراق، لیبیا، شام، افغانستان اور پاکستان میں دہشت گردی کی پشت پناہی کرکے پوری کی۔ وہ دوسرے ملکوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا عادی ہوچکا ہے۔ اب عمران خان اور ان کے پیروکار امریکہ کو پاکستان کے ساتھ چھیڑچھاڑ کرنے کی شہہ دے رہے ہیں۔ 
٭٭٭

ای پیپر دی نیشن