بدھ‘ 3 محرم الحرام 1446ھ ‘ 10 جولائی 2024

ملک بھر میں درخت لگانے کی مہم میں عوام کی بھرپور شرکت۔
اس سال گرمی کی شدت نے پورے ملک میں جو قیامت ڈھائی ہے۔ اس نے لوگوں کی باں باں کرا دی ہے۔ ایسے میں جب عالمی ماحولیاتی ادارے بھی بتا رہے ہیں اور ملکی ماحولیاتی ادارے بھی شور مچا رہے ہیں کہ اگر ہم نے درخت نہیں لگائے تو آنے والے چند برسوں میں پورا ملک جہنم بن جائے گا۔ بڑے بڑے شہروں میں بھی آگ برسنے پر لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوں گے۔ اس وقت ہم بدترین ماحولیاتی تباہی کا شکار ہیں۔ اس کا سب سے آسان علاج درخت لگانا ہے۔ ملک کو بنجر ہونے سے بچانے کے لیے سرسبز پاکستان کے لیے سب کو کام کرنا ہو گا۔ خدا جانے وہ ٹریلین ٹری کہاں گئے جس کا خوب ڈھنڈورا پیٹا گیا تھا۔ اگر وہ ہی لگ گئے ہوتے تو آج حالات بہتر ہوتے اور سرسبز پاکستان کے خواب کا کچھ حصہ شرمندہ تعبیر ہوتا۔ مگر اب بھی کچھ نہیں بگڑا۔ اس مرتبہ بے شمار پاکستانی اداروں اور عوام میں یہ شعور بیدار ہوا ہے کہ ہر ایک شخص کم از کم ایک درخت ضرور لگائے۔ اسی طرح بے شمار تنظیمیں جگہ جگہ اجتماعی اور انفرادی طور پر درخت لگا رہی ہیں۔ یہ ایک مثبت تبدیلی ہے۔ اس کے اچھے اثرات جلد ہی سامنے آئیں گے اور موسم کی شدت سے بھی نجات ملے گی۔ پوری دنیا میں جنگلات لگائے جاتے ہیں ہم ان کے برعکس نہایت بے دردی سے جنگلات کاٹ رہے ہیں جس کی وجہ سے ہم موسمیاتی تبدیلیوں کا زیادہ شکار ہیں۔ اب یہ بھی ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم درخت لگانے کے بعد ان کی حفاظت بھی کریں۔ ان کو پانی بھی دیں تاکہ وہ محفوظ رہیں۔ اسی طرح ہمیں آبی ذخائر کو بھی بڑھانا ہو گا تاکہ زیر زمین پانی کی سطح پر اچھا اثر پڑے اور زمین کے درجہ حرارت میں بھی کمی آئے۔ حکومت اگر سنجیدگی سے گرین پاکستان منصوبے پر عمل کرے تو ہم محفوظ رہ سکتے ہیں۔ 
عارف علوی نے اپنا ڈینٹل کلینک پھر کھول لیا۔
 جب فراغت ہی فراغت ہو تو پھر کوئی نہ کوئی وقت گزارنے کے لیے کام کرنا ہی اچھا لگتا ہے۔ یہ تو سابق صدر کی خوش قسمتی ہے کہ وہ ڈینٹسٹ ہیں۔ ان کا کراچی میں اپنا کلینک بھی ہے۔ اس لیے انہوں نے اب اپنا کلینک دوبارہ کھول لیا۔ یوں کام کے ساتھ ساتھ آمدنی بھی حاصل ہو گی۔ اگر کلینک کے بورڈ پر ڈاکٹر عارف علوی سابق صدر پاکستان بھی لکھا جائے تو لوگ آسانی سے زیادہ فیس بھی ادا کر کے خوش ہوں گے کہ ان کے معالج بہت بڑے عہدے پر فائز رہے تھے۔ ویسے بھی اب تو ان کے حلقہ اثر میں پی ٹی آئی کے عہدیدار اور کارکن بھی شامل ہیں۔ یوں اب کلینک خوب چلے گا۔ علاج کے ساتھ ساتھ سیاست بھی ہوا کرے گی۔ وہ جب صدر تھے تو انہوں نے صدارتی محل کو بھی سیاست کا گڑھ بنا لیا تھا جس پر کافی لے دے بھی ہوئی تھی۔ اب تو ان کا ذاتی کلینک ہے جو چاہے کریں کوئی کچھ نہیں کہے گا۔ ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ کبھی کبھار پولیس والے نقص امن کے تحت غیر قانونی سرگرمیوں کا نوٹس دے کر کبھی چھاپہ مار کر تنگ کریں گے مگر اس سے بھی بیٹھے بٹھائے ان کے کلینک کی شہرت ہی ہو گی جس کو معلوم نہیں اسے بھی پتہ چلے گا کہ عارف ڈینٹل کلینک کہاں ہے۔ اگر وہ چاہیں تو کلینک کا نام تبدیلی یا قیدی بھی رکھ سکتے ہیں۔ اس سے بھی بہت فائدہ ہو گا بلکہ دن دوگنی رات چوگنی ترقی ہو گی۔ پورے ملک سے لوگ علا ج کے لیے ان کے پاس آئیں گے۔ یوں ان کی تو تمام انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں ہو گا۔ علاج اور سیاست دونوں عارف علوی کے پرانے شوق ہیں اب وہ فراغت کے ان دنوں میں ان دونوں کو پورا کر سکیں گے۔ یوں ان کی میڈیا میں بھی خودبخود رونمائی ہوتی رہے گی اسے کہتے ہیں ”آم کے آم گٹھلیوں کے دام“۔
بجلی بل واجبات کی ادائیگی اقساط میں،آزاد کشمیر کابینہ نے منظوری دیدی۔
آزاد کشمیر والوں کی تو قسمت پر رشک آتا ہے کہ ان کا بھاری بجلی بلوں اور مہنگے آٹے کیخلاف شور شرابہ رنگ لایا اور دونوں میں کمی واقع ہوئی۔ اب یہ ان کی دوسری کامیابی ہے کہ اب ان بجلی بلوں کے بقایا جات 12 اقساط میں وصول کیئے جائیں گے۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ آزاد کشمیر کی کابینہ نے برق رفتاری سے اس بات کی منظوری بھی دیدی ہے۔ یوں دیکھا جائے تو پاکستان کے بجلی کے صارفین کو اس خبر سے شاک ضرور لگا ہے۔ کیونکہ یہاں معاملہ بالکل الٹ ہے۔ پاکستان میں بلوں کی اقساط پر پابندی ہے خاص طور عدم ادائیگی والے بلوں کے صارفین کو تو اچھوت بنا کر رکھ دیا گیا۔ وہ پریشان اور شرمندہ شرمندہ نظر آتے ہیں کہ اب کیا کریں۔ کونسی ایسی چیز رہ گئی ہے جو بیچ کر یہ منحوس بھاری بجلی بل جمع کرائیں۔ یہ خواہ مخواہ کے درجنوں ٹیکس جو ان بلوں میں شامل ہیں وہ کیوں ادا کریں۔ وہ تو پہلے ہی ہر چیز پر ٹیکس ادا کرتے ہیں تو پھر یہ بلوں میں کیوں اور کون سے ٹیکس شامل کر کے صارفین کی کمر توڑی جا رہی ہے۔ الٹا بل وصولی کے معاملے میں انہیں کند چھری سے ذبح کر کے حکومت نجانے کون سا ثواب کما رہی ہے۔ اسی بے رحم پالیسی کے خلاف کہیں کہیں احتجاج شروع ہو چکا ہے۔ اس سے پہلے کہ یہ طوفان کی شکل اختیار کرے حکمران خود ہی کوئی آبرومندانہ حل نکالیں ورنہ پاکستان میں لوگ آزاد کشمیر سے زیادہ سخت ری ایکشن دے سکتے ہیں۔ پھر روایتی گھسے پٹے بیانات سے کچھ نہ ہو گا کیونکہ 
جو دریا جھوم کے اٹھتے ہیں 
تنکوں سے نہ ٹالے جائیں گے
اس لیے بجلی کے صارفین کو عزت و احترام کے ساتھ ریلیف دیا جائے۔ 
آلو بھی لگژری آئٹم میں شامل ریگولیٹری ڈیوٹیز عائد۔ 
یہ وہ سبزی ہے جو ہر خاص و عام میں پسند کی جاتی ہے۔ کوئی بھی سبزی ہو یا گوشت۔ اس کے ساتھ پکتی ہے۔ دل کچھ نہ چاہے تو چپس بنا کر یا آلو کا بھرتہ بنا کر بھی کھایا جاتا ہے۔ اب ٹیکس لگنے کے بعد آلو بھی غریبوں کی دسترس سے دور ہو جائے گا۔ پہلے ہی مہنگائی کی وجہ سے اس کا ریٹ کم از کم 80 تا 100 روپے آ گیا ہے۔ ریگولیٹری ڈیوٹی لگنے کے بعد مزید مہنگا ہونے سے خدا جانے ریٹ کہاں تک پہنچے گا۔ معلوم نہیں ہمارے حکمرانوں کو آلو سے کیا لینا دینا ہے کہ اس پر ان ظالموں نے نظر کرم فرمائی اور اسے لگژری آئیٹم میں شامل کیا ہے۔ پہلے چلو غریبوں کے بچے بھی گلی محلے کی دکان یاریڑھی سے 10 روپے کے فنگر چپس لے کر کھا لیتے تھے۔ اب اس سے بھی یہ محروم ہو جائیں گے۔ امرا کا کیا ہے ان کے بچے تو انٹرنیشنل فوڈ کمپنیوں کے فنگر چپس مہنگے داموں بھی خرید لیتے ہیں۔ان کے لیے 500 روپے یا 1000 روپے کے ان چند فرائز یا چپس کی قیمت اہمیت نہیں رکھتی۔ اب وزیر خزانہ نے تو غریبوں سے یہ ذائقہ بھی چھین لیا ہے تاکہ صرف امیروں کے بچے ہی آلو کے فرائز اور چپس کے مزے اڑا سکیں۔ اس پر اقبال سے معذرت کے ساتھ ہم کہہ سکتے 
آلو آلو کر گئی مجھ کو چقندر کی یہ بات 
تو جھکا جب غیر کے آگے، نہ تن تیرا نہ من
ہم بھی تو غیروں کے آگے اور آئی ایم ایف کے آگے قرض لینے کےلئے بچھے جا رہے ہیں اور اس سارے قرض کا بوجھ صرف غریب لوگوں پر ڈالا جا رہا ہے۔ مراعات یافتہ طبقے پر ایک فیصد بوجھ بھی نہیں ڈالا گیا۔ ان کی اکثریت نے تو صرف فنگر چپس یا فرائز کے علاوہ شاید ہی کبھی آلو کا ذائقہ چکھا ہو۔ 

ای پیپر دی نیشن

دوریزیدیت کو ہمیشہ زوال ہے

سانحہ کربلا حق اور فرعونیت کے درمیان ااس کشمکش کا نام ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بالآخر فتح حق کی ہوتی ہے امام حسین کا نام ...