ہماری کسی سیاسی جماعت سے وفاداری نہیں,خلائی مخلوق سیاسی نعرہ ہے،ہم رب کی مخلوق ہیں:ترجمان پاک فوج

Jul 10, 2018 | 16:17

ویب ڈیسک

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر)کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ انتخابات وقت پر ہونگے، الیکشن سے متعلق شکوک و شبہات دم توڑ گئے، 25 جولائی کو عوام جمہوری عمل آگے بڑھائیں گے، افواج پاکستان کا انتخابات میں براہ راست کوئی تعلق نہیں، انتخابات میں مینڈیٹ کے مطابق فوج کا کردار معاونت کا ہے،پولنگ اسٹیشنز پر سیکیورٹی فراہم کرنا افواج پاکستان کی ذمہ داری ہے،ہم الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق پر عمل کرنے کے پابند ہیں، فوج الیکشن کے عمل کو غیر سیاسی غیر جانبدار ہوکر ادا کرے گی، فوج کوانتخابی عمل میں بے ضابطگی خود دور کرنے کا اختیار نہیں،ہماری کسی سیاسی جماعت سے وفاداری نہیں ، ہر الیکشن سے قبل سیاستدانوں نے دھاندلی کے الزامات لگائے ،کون سے الیکشن ہیں جس سے پہلے سیاستدانوں نے جماعتیں نہ بدلی ہوں ، کون سی جماعت جیتے گی 25 جولائی کو پتہ چلے گا ، ایک خط کی بنیاد پر دھاندلی کا مسئلہ نہیں اٹھایا نہیں جا سکتا ، جیپ کو جو رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے وہ ہمارا رنگ ہی نہیں ، چھوٹے چھوٹے واقعات کو الیکشن سے منسلک نہ کریں ،کچھ لوگوں کا مقصد فوج کی توجہ مقصد سے ہٹانا ہے ، دہشتگردی کیخلاف جنگ میں آئی ایس آئی کا اہم رول ہے ،دہشتگردی کیخلاف جنرل فیض کے کردار کو گنوایا نہیں جا سکتا ، خلائی مخلوق سیاسی نعرہ ہے ،ہم رب کی مخلوق ہیں ، ہماری وابستگی عوام سے ہے ، عوام کے ووتوں سے جو بھی وزیر اعظم آئے گا وہ قبول ہو گا ۔منگل کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پاکستان ایک دفعہ پھر الیکشن کی طرف جا رہا ہے، یہ تیسرا الیکشن ہے جو جمہوریت کو جاری رکھے گا، پاکستانی عوام کامیابی سے ملک کو جمہوریت کی طرف لے کر جا رہی ہے، افواج پاکستان کا کام الیکشن کمیشن کی معاونت کرنا ہے، افواج پاکستان اس سے قبل بھی الیکشن کمیشن کے حکم پر معاونت کر چکی ہے، الیکشن کے انعقاد میں ہمارا کوئی کردار نہیں، الیکشن کمیشن نے صرف اوور آل سیکیورٹی سے آگاہ کیا، 2013کے الیکشن بہت مشکل تھے کیوں کہ سیکیورٹی حالات بہت مشکل تھے،2018کے الیکشن میں الیکشن کمیشن نے آرمی معاونت کے لئے کہا ہے، اس کا مقصد صرف اور صرف عوام کی حفاظت کرنا ہے، الیکشن کا عمل ہر قسم کی باضابطگیوں سے بالاتر ہو، یہ سارا کام الیکشن کمیشن کا ہے،افواج پاکستان کو اس عمل میں کوئی اختیار نہیں ہے، ہمارا سب سے پہلا ملک میں امن و امان قائم کرناہے،بیلٹ پیپرز کے دوران پرنٹنگ پریس میں سیکیورٹی بحال کرنا ہے، بیلٹ پیپرز کی تمام ذمہ داری الیکشن کمیشن کی ہوگی ہمارا کام ان کی حفاظت کرنا ہے،2018کے الیکشن کےلئے 85ہزار کے قریب پولنگ اسٹیشن بنائے گئے ہیں، ان پولنگ اسٹیشنز کےلئے تقریباً 3لاکھ کے قریب فوج درکار ہو گی، اس مقصد کےلئے ہم نے سول فورسز بھی شامل کی ہیں، اس کے علاوہ پاکستان ایئر فورس اور نیوی کی بھی نفری شامل کی جائے گی، ان نوجوانوں کو الیکشن کےلئے باقاعدہ آگاہ کیا جاتا ہے، الیکشن میں کسی قسم کی بے دخلی نہ ہو گی، الیکشن کمیشن کا باقاعدہ طور پر سٹاف تعینات کیا جائے گا، پرنٹنگ کا عمل 21جولائی تک مکمل ہو جائے گا، غیر متعلقہ فرد پرنٹنگ پریس میں نہیں جائے گا، گنتی کا عمل بھی الیکشن کمیشن کا کام ہے، الیکشن سے 3روز پہلے سیکیورٹی بحال کر دی جائے گی، حساس پولنگ اسٹیشنز میں دو نوجوان اندراور دو باہر ہوں گے، عام حساس پولنگ اسٹیشنز کی تعداد تقریباً 20ہزار کے قریب ہے،پولنگ اسٹیشنز کے اندر متعلقہ افراد آ سکیں گے، پولنگ اسٹیشنز پر فوج کے علاوہ پولیس بھی تعینات ہو گی، پولیس کا کام نظم و ضبط قائم کرنا ہو گا، کسی کو اجازت نہ ہو گی کہ وہ ووٹرز کے ساتھ زبردستی کرے، میڈیا سے گزارش ہے کہ وہ ڈیوٹی پر تعینات نوجوانوں سے سوال مت کریں، اگر آپ کوئی باضابطگی دیکھیں اس سے الیکشن کمیشن کو آگاہ کریں، عوام سے بھی گزارش ہے کہ وہ بھی ڈیوٹی پر تعینات نوجوانوں کو ڈیوٹی کرنے دیں، ہماری کوئی سیاسی پارٹی نہیں ہے، ہمارا صرف ایک مقصد ہے کہ صاف اور شفاف الیکشن ہوں، آپ کی ذمہ داری ہے ووٹ ڈالیں۔ایک سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ کوئی ایسا الکیشن بتائیں جس میں یہ نہ کہا ہو کہ ہمیں پرانے کی کوششیں کی گئیں، پاک فوج پچھلے 15سال سے پاکستان کے دفاع کےلئے جنگ لڑ رہی تھی، پچھلے پندرہ سال سے فوج نے اپنا فریضہ سرانجام دیا ہے، سیاسی جماعتوں کو دھمکیاں دی جا رہی تھیں کہ انہیں جلسہ نہیں کرنے دیں گے، ہم نے اپنی قربانیاں دے کر امن بحال کیا ہے، ہم نے وہ چیزیں برداشت کیں جو عام حالات میں برداشت نہیں کیا جا سکتا، ڈی جی آئی ایس پی آر روزانہ ٹی وی پر نہیں جاتا، افواج پاکستان فوکس صرف سنجیدہ صورتحال پر ہے، یہ بھی جمہوریت کا حصہ ہے کہ ایک پارٹی کا نمائندہ تھا اگر اس کے پارٹی سے اختلافات ہو گئے ہیں تو یہ پہلی دفعہ تو نہیں ہوا، لوگ ایک پارٹی سے دوسری پارٹی میں بھی گئے ہیں، یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ میں آپ کو فون کر کے کہوں کہ آپ ایسا کر دیں۔ دہشت گردی ختم کرنے میں آئی ایس آئی کا بہت کردار ہے، یہ ہم روز دہشت گردی کے واقعات کا خاتمہ کرنے اس میں بھی جنرل فیض کا ایک اہم کردار ہے،عوام جس کو چاہیں ووٹ ڈالیں، کون سی پارٹی جیتے گی یہ تو 25جولائی کو پتہ چلے گا، ایک جونیئر افسر تمام کو بلا کر بتائے کہ ایسے الیکشن ہوں گے ایسا ممکن نہیں ہو سکتا، ملتان کی خبر کے حوالے سے ان کے خلاف محکمہ زراعت کا کیس پچھلے 2سال سے چل رہا ہے، ان کے اوپر الزامات یں اور اس پر کام ہو رہا ہے، آرمی چیف کی تصویر کے حوالے سے ہم نے ایکشن لیا اورہم نے پوسٹر اتروایا، سپریم کورٹ نے بھی اس حوالے سے نوٹس لے لیا ہے، فاٹا کا انضمام کے پی میں ہو گیا ہے، سٹیٹ کا جو فیصلہ ہے وہی ہونا ہے، فاٹا کے الیکشن بعد میں ہونے ہیں، جیپ کے نشان کے معاملے پر نشانہ نہ آئی ایس آئی جاری کرتی ہے اور نہ افواج پاکستان کرتی ہے، جس جیپ کو رنگ دینے کی کوشش کر رہے ہیں وہ ہماری نہیں ہے اس طرح کی زیادہ تر جیپیں امیدواروں کے ہی پاس ہیں وہ ہی استعمال کر سکتے ہیں، ہر چیز کو شک کی نظر سے نہ دیکھیں،تمام چینلز میں الیکشن کی بہت خوبصورت مہم چل رہی ہے، پاکستان کو ووٹ دیں اور ووٹر کو باہر نکالنا ہے، الیکشن کے دن آپ جو بوئیں گے وہی آپ کاٹیں گے، اس میں فوج کا کوئی فائدہ نہیں ہے، بنیادی ذمہ داری الیکشن کمیشن کی ہے، الیکشن کمیشن کے ساتھ تعاون کر کے صاف اور شفاف الیکشن کرانا ہے، ہم اپنی ذمہ داری بخوبی سر انجام دیں گے، صاف شفاف الیکشن میں عوام بہترین کردار ادا کرسکتی ہے، میں نے پہلے بھی بتایا تھا کہ آرمی کے رولز اور ریگولیشن بہت سخت ہیں اور اس پر عملدرآمد بھی کیا جاتا ہے، سول کورٹس سے کیپٹن(ر)صفدر کو سزا ملی ہے، جب ان کا کیس ایک سٹیج پر پہنچا آرمی کے رولز اور ریگولیشن کے مطابق ان کے ساتھ کارروائی ہو گی، آپ سوشل میڈیا کو کنٹرول نہیں کر سکتے اور نہ یہ ہم چاہتے ہیں، کسی بندے کو آپ ڈنڈے کے ذریعے کوئی کام نہیں کرا سکتے، ایف آئی اے بہت اچھا کام کررہی ہے، سوشل میڈیا پر جو کام ملک کے خلاف ہو گا وہ برداشت نہ ہو گا،2013میں تھریڈ وارننگ تھیں اور ابھی بھی ہیں،ہمیں سب پتا ہے کہ کس ملک کا پاکستان کے الیکشن میں کیا انٹرسٹ ہے، اگر کوئی پارٹی الیکشن کےلئے بنتی ہے اس کےلئے پاکستان کے قانون کے مطابق اس کا ایک عمل ہے، کوئی بھی ایسا شصخ جو الیکشن کے قابل نہیں اس کا فیصلہ الیکشن کمیشن نے کرنا ہے، جس کو اجازت الیکشن کمیشن نہیں دیتا وہ الیکشن نہیں لڑ سکتا ہے، اگر کسی کو کوئی اعتراض ہو وہ عدالت سے رہنمائی لے سکتا ہے، پرنٹنگ پریس کےلئے سیکیورٹی رہے گی، بے ضابطگی دور کرنا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، ہم صرف اپنی ذمہ داری سرانجام دیں گے، ہم سیاست میں مداخلت نہیں کرتے، جب آپ سیاست کرتے ہیں تو بہت سارے نعرے لگاتے ہیں، ہم رب کی مخلوق ہیں اور پاکستان کےلئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتے رہیں گے، الیکشن کےلئے ہم بہترین تربیت یافتہ فوجی تعینات کریں گے، الیکشن کے بعد جو آئے گا وہ ہی وزیراعظم ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیم پاکستان کی ضروریات ہیں، اس میں جو حصہ ڈالنا چاہتا ہے وہ ضرور ڈالے، آرمی چیف ایک ماہ کی تنخواہ اس فنڈ میں دیں گے۔(اح)

مزیدخبریں