پاکستان کا امتحان

ہر امتحان کی طرح اس امتحان کے بھی دو ایگزامینر ہیں، ایک ایکسٹرنل اور ایک انٹرنل، طاہرالقادری ایکسٹرنل ایگزامینر کے فرائض ادا کر رہے ہیں اور عمران خان انٹرنل ایگزامینر کا کردار ادا کریں گے۔
کمرہ امتحان میں پاکستان ہے، پاکستانی عوام ہیں۔ پرچے کی تیاری کرنے کے لئے حکومت نے قومی سلامتی کانفرنس کے نام سے آل پارٹیز کانفرنس سے مشاورت کی ہے، اس میں سیاسی قیادت بھی ہے ا ور فوجی قیادت بھی۔ وزیر اعظم کی تقریر تو لائیو نشر کی گئی، سب نے سن لی۔
دیر آید درست آید، یہی کہا جا سکتا ہے، یہی میٹنگ بہت پہلے ہو جاتی تو لائحہ عمل طے کرنے میں آسانی ہوتی ۔معاملات بات چیت کے ذریعے طے ہونے چاہئیں۔وزیر اعظم نے یہی راستہ اختیار کرنے کی تجویز دی ہے۔اس میٹنگ سے پہلے سراج الحق اور لیاقت بلو چ نے عمران خان سے ملاقات کی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عمران خان اب چار کے بجائے دس حلقوں کی چھان بین کروانے کا مطالبہ سامنے لے آئے ہیں، وزیر اعظم نے اس کے جواب میںکہا ہے کہ عمران کے جو بھی مطالبات ہیں، ان پر گفتگو کی جا سکتی ہے مگر جو معاملات عدالتوں کے سامنے ہیں ،ان کا فیصلہ وہیں ہو گا۔دوسری طرف عمران اپنی ضدپر قائم نظر آتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ وہ چودہ اگست سے پہلے کسی سے بات نہیںکریں گے۔ انہوںنے یہ  دھمکی بھی دی ہے کہ آزادی مارچ سے انہیں روکا گیا اور پولیس نے اپنے آپ کو شریف برادران کا ذاتی غلام سمجھ لیا تو ان کے کارکن ڈٹ کرمقابلہ کریں گے۔ یہ دھمکی سیدھی سیدھی انارکی کی زد میں آتی ہے، دنیا بھر میں جلسے جلوس ہوتے ہیں، اور امن و امان کے ذمے دارا دارے اپنا کردار ادا کرتے ہیں لیکن کبھی مظاہرین نے یہ اعلان نہیں کیا کہ وہ حکومتی فورسز سے ٹکرا جائیں گے، عمران خان واحد لیڈر ہیں جو پہلے دن سے کہہ رہے ہیں کہ پہلی گولی وہ کھائیں گے اور انہیں اچھی طرح علم ہے کہ دارالحکومت میںقیام امن کی ذمے داری فوج کو سونپ دی گئی ہے۔تو کیا وہ فوج سے لڑنے بھڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔خدا نہ کرے ایسی نوبت آئے ۔عمران خاں کو فوج کی گولی کھانے کا خیال تک ذہن میں نہیں لانا چاہئے۔ویسے وہ خاطر جمع رکھیں کہ فوج کسی کو گولی مارنے کا ارادہ بھی نہیں رکھتی، اسی لئے تو وزیر اعظم نے اے پی سی کا اہتمام کیا ہے جس پر پورے ملک کی سیاسی قیادت نے لبیک کہی ہے اور فوجی قیادت نے بھی اس میں شرکت کے لئے کسی انا کامظاہرہ نہیں کیا۔فوج اس وقت ضرب عضب میں پھنسی ہوئی ہے، اسے ایک ناممکن آپریشن کہا جارہا تھا مگر فوج نے عوام کی پشت پناہی اور حکومت کی اونر شپ کے ذریعے شجاعت اور ایثار کی نئی تاریخ رقم کی ہے۔
 یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ عمران خان جو دہشت گردوں سے ا ٓخری وقت تک مذاکرات کاحامی تھا اور جس نے آپریشن شروع ہونے کے بعد باامر مجبوری اس کی حمائت کی مگر وہ جمہوری حکومت سے مذاکرات کے رستے بند کر چکا ہے۔اس کی دلیل یہ ہوا کرتی تھی کہ دنیا مین ہر تنازعے کا حل جنگ کے میدان میںنہیں، مذاکرات کی میز پر ہوا کرتا ہے مگر وہ اس میز پر خود تو بیٹھنے کے لئے تیار نہیں، اس کا ایک ہی مطلب ہے کہ وہ کوئی حل چاہتا ہی نہیں اور اس کے پاس کسی مسئلے کے حل کے لئے کوئی ٹھوس دلیل بھی موجود نہیں۔یہ فطری بات ہے کہ جھگڑا وہ کرتا ہے جو منطق سے عاری ہو۔
اے پی سی کے شرکاء کے سامنے وزیر اعظم نے دل کی باتیں کہیں۔ان کی گفتگو لائیو نشر ہو رہی تھی،ا سلئے انہوںنے قوم کے سامنے دل کھول کر رکھ دیا، وہ جھگڑے کو طول دینا چاہتے تو دھمکیوں کی زبان میں بات کر سکتے تھے۔ مگر وزیر اعظم نے یہ راستہ اختیار نہیں کیا، انہوںنے مفاہمت کی زبان استعمال کی اور یہ احساس دلا یاکہ پاکستان ا ٓج نازک دور سے گزر رہا ہے، علاقے میں سوائے چین کے اس کے تعلقات کسی سے اچھے نہیں اور اس سفارتی تنہائی کے ساتھ ملک کو چلانا ممکن نہیں، دوسری طرف معیشت ڈانواں ڈول ہے، حکومت نے اس کی بحالی کے لئے کچھ اقدامات اٹھائے ہیںمگر ملک میں سکون ہو گا تو بات بنے گی۔ بجلی کے بحران پر بھی انہوںنے وضاحت کی پاکستان میں اتنا سرمایہ نہیں کہ انرجی کا کوئی ایک بھی منصوبہ شروع کیا جا سکے مگر اب ایک بریک تھرو ہوا ہے اور چین نے دس ہزار چار سو میگا واٹ  کے منصوبوں کی منظوری کا عندیہ دیا ہے، یہ عمل آگے بڑھا تو امید کی جاسکتی ہے کہ اگلے تین چار برس میں لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے نجات مل جائے گی۔ وزیر ا عظم نے کہا کہ ملک میںموجود کوئی بھی سیاسی پارٹی آئندہ حکومت میں آ سکتی ہے، اس لئے وہ نیک نیتی سے اگلی حکومت کو ایک بہتر اور مستحکم پاکستان ورثے میں دینا چاہتے ہیںمگر اس کے لئے سبھی کوتعاون کرنا ہو گا۔
پاکستان ہمیشہ اندرونی اور بیرونی سازشوں کا شکار رہا اور اس کے نقصانات بھی سامنے آئے ، ملک دو لخت ہو گیا ، وزیر اعظم نے صاف صاف کہا کہ ا سوقت بھی یہ سازشیں عروج پر ہیں اور ان حالات میں سیاسی استحکام اور سکون کی فضا کو واپس لانا از بس ضروری ہے۔ انتشار اور افراتفری میں نہ فوج ضرب عضب پر یک سو ہو کر توجہ دے سکتی ہے، نہ حکومت کے لئے معاشی بحالی کی کوششوں کو پایہ تکمیل تک پہنچاناممکن ہوگا۔
وزیر اعظم نے پیش کش کی ہے کہ ملک کی معیشت مضبوط ہو جائے اور دہشت گردی کے فتنے پر قابو پا لیا جائے تو ملک پھر لانگ مارچ، انقلاب مارچ یا آزادی مارچ وغیرہ کی عیاشی کا متحمل ہو سکتا ہے ، آج تو ملک کو بچانے کا فریضہ ہم سب کو ادا کرنا ہے۔
وزیر اعظم کی باتیں غلط نہیں، مگر دیکھنے کی بات یہ ہے کہ انٹرنل اور ایکسٹرنل ایگزامنیر ان کے پرچے کی مارکنگ کیسے کرتے ہیں۔ قادری کے کارکن دو دنوں سے پولیس سے ٹکرا رہے ہیں ، تھانوں کو جلایا جا رہا ہے، پولیس والوں کو یرغمال بنایا جارہا ہے، قادری صاحب کے سامنے کوئی ایجنڈہ نہیں، وہ کینیڈین شہری ہونے کا ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں، ان کو جو پیسہ ملتا ہے ، وہ بھی سارے کا سارا اوورسیز پاکستانیوں سے ملتا ہے، مگر انہوں نے ا س پیسے کے بل بوتے پر مقامی کارکنوں کو آزمائش کی بھٹی میں جھونک دیا ہے۔ان کارکنوں کو یہ بھی معلوم نہیں کہ قادری  صاحب چاہتے کیا ہیں، قرآن خوانی کرنی ہے تو اس کے لئے سڑکوں پر آناکہاں سے ضروری ہو گیا۔ مسجدوں میں کریں، گھروںمیں کریں۔
عمران خان نے بھی ایک ضد پکڑ لی ہے، ان کی کوشش ہے کہ و ہ اس ٹیسٹ میچ کو ہر صورت میں جیت لیں مگر یہ کرکٹ نہیں، سیاست کا میدان ہے اور ایسے ملک کی سیاست کا میدان ہے جو ایک سے ایک سنگین مسئلے میں جکڑا ہوا ہے۔انہوں نے ملک کے یوم آزادی کا ناجائز استعمال کیا ہے۔یہ دن تو اتحاد، تنظیم اور ایمان کا سبق دیتا ہے مگر وہ افراتفری اور انارکی پھیلانے پر تلے ہوئے ہیں۔
ملک کے معصوم، بچے پاکستان کا پرچم لے کر سڑکوں پرا ٓزادی سے گھومنا چاہتے ہیں مگر قادری اور عمران نے بچوں کو بھی ایک کٹھن امتحان میں ڈال دیا ہے ، ملک کو سیل کر کے رکھ دیا ہے۔

اسد اللہ غالب....انداز جہاں

ای پیپر دی نیشن