A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined index: category_data

Filename: frontend_ver3/Templating_engine.php

Line Number: 35

پاکستان اور سعودی عرب تجارت‘ دفاع‘ سیکورٹی‘ سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون پر متفق

10 اگست 2011
جدہ (آن لائن) پاکستان اور سعودی عرب نے تجارت ، معیشت، سائنس و ٹیکنالوجی ، سرمایہ کاری، سکیورٹی اور دفاع کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا ہے جبکہ پاکستان کی جانب سے سعودی عرب کو دفاعی آلات کی فراہمی کی خواہش بھی ظاہر کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ دونوں ملکوں نے امت مسلمہ کو درپیش چیلجز سے نمٹنے کےلئے مشترکہ کوششیں کرنے کا بھی اعادہ کیا۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم سید یوسف رضاگیلانی اور سعودی عرب کے فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کے درمیان جدہ کے شاہی محل میں ملاقات ہوئی جہاں شاہ عبداللہ نے وزیراعظم سید یوسف رضاگیلانی اور ان کے وفد کا پرجوش خیرمقدم کیا۔ بعدازاں دونوں رہنماﺅں کے درمیان بات چیت میں دوطرفہ تعلقات شمالی افریقہ، مشرق وسطیٰ اور افغانستان کے مسئلے سمیت مسلم امہ کو درپیش چیلنجز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیاگیا۔ اس اہم ملاقات میں دونوں ممالک کے سربراہان نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت اور اقتصادیات کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ دیا جائےگا جبکہ اس بات پر بھی اتفاق کیاگیا کہ تمام اہم معاملات پر دوطرفہ قریبی تعاون کو جاری رکھا جائےگا اور جب ضرورت پڑی تو ان پر ایک دوسرے کے موقف کی بھی تائید کی جائے گی۔ ملاقات میں یہ بھی فیصلہ کیاگیا کہ دونوں ملک مشترکہ وزارتی کمشن اور وزارت خارجہ سطح پرمذاکرات کے لئے روڈ میپ طے کرینگے۔ جامع تعاون کے حوالے سے طریقہ کار طے کرنے پر بھی اتفاق کیاگیا دونوں رہنماﺅں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے اور مسلمہ امہ میں امن واستحکام کے حوالے سے بھی مشترکہ کوششیں کی جائینگی۔ اس موقع پر وزیراعظم گیلانی نے کہاکہ امت مسلمہ کو اس وقت کئی اہم چیلنجز کا سامنا ہے ان چیلنجز کا سامنا کرنے کےلئے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مزید تعاون کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مسلمہ امہ کی فلاح وبہبود کےلئے سعودی عرب کے کردار کو سراہتے ہوئے کہاکہ شمالی افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں امن واستحکام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ اس ملاقات میں سعودی عرب کو دفاعی آلات جن میں ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں بھی شامل ہیں کی فروخت بارےٍ میں پاکستانی خواہش پر بھی تبادلہ خیال کیاگیا۔ وزیرعظم گیلانی نے پاکستان کو درپیش معاشی چیلنجز بارے بھی سعودی شاہ کو آگاہ کیا جبکہ ملاقات میں افغانستان کی صورتحال بالخصوص امریکی فوجی انخلاءکے خطے پر پڑنے والے اثرات پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ وزیراعظم گیلانی نے سعودی رہنما کو بتایا کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے مکمل طور پر محفوظ ہیں ان کے غلط ہاتھوں میں جانے کے حوالے سے رپورٹیں بے بنیاد اور قیاس آرائیوں پر مبنی پر ہیں۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت نے آئین کو اصلی حالت میں بحال کردیاہے جبکہ عدالتی فیصلوں کا بھی احترام کرتی ہے۔ وزیراعظم گیلانی نے پاکستان میں زلزلے اور سیلاب کے موقع پر سعودی عرب کے تعاون کابھی شکریہ ادا کیا۔ سعودی شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے کہاکہ پاکستان مسلمہ امہ کا اہم رکن ہے جس کی خوشحالی اور استحکام سعودی عرب کےلئے اہم ہے۔ انہوں نے انتہا پسندی اور دہشتگردی کےخلاف پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہاکہ ان کا ملک پاکستان کےساتھ مختلف شعبوں میں تعاون جاری رکھے گا۔ سعودی فرما نروا نے افغانستان میں امن کے قیام کےلئے پاکستان کے اہم کردار کو بھی سراہا ۔ علاوہ ازیں وزیراعظم یوسف رضاگیلانی نے پاکستانی سرمایہ کاروں کے فورم سے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں اقتصادی استحکام کے لئے سیاسی استحکام بھی ضروری ہے یہی وجہ ہے کہ ہماری حکومت مفاہمت کی سیاست پر عمل پیرا ہے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانی ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں اور وہ زرمبادلہ وطن بھجوا کر ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہے اور کوئی اسے میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔ وزیراعظم گیلانی مدینہ منورہ گئے جہاں انہوں نے مسجد نبوی میں نوافل اور نماز فجر ادا کی۔ وزیراعظم نے روضہ¿ رسول پر بھی حاضری دی اس موقع پر انہوں نے ملکی ترقی اور خوشحالی کےلئے خصوصی دعائیں کی۔
گیلانی/شاہ عبداللہ