امریکہ پاکستان کیساتھ دوستی میں ایک قدم آگے‘ دو پیچھے ہٹ رہا ہے : سابق نائب امریکی وزیر خارجہ

10 اگست 2011
واشنگٹن (اے این این) امریکہ کے سابق نائب وزیرخارجہ رچرڈ آرمٹیج نے پاکستان امریکہ تعلقات کوپیچیدہ مگر دیرپا قراردیتے ہوئے کہاہے کہ ہماری توقعات بہت زیادہ ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ سرحد پار دراندازی اورہتھیاروں کی سپلائی اور بموں میں استعمال ہونے والے کیمیکل فرٹیلائز کو سرحد پار پہنچنے سے روکا جائے مگر یہ بھی سچ ہے کہ پاکستان نے بہت کچھ کیا۔ گزشتہ کچھ عرصہ سے پاکستان کےلئے ہم ایک قدم آگے بڑھ رہے ہیں اور دو قدم پیچھے ہٹ رہے ہیں۔ وائس آف امریکہ کو دئیے گئے انٹرویومیں رچرڈآرمٹیچ نے کہاکہ گزشتہ کچھ عرصہ سے پاکستان امریکہ تعلقات کی صورتحال کچھ اس طرح کی ہے کہ امریکہ پاکستان کی جانب ایک قدم آگے بڑھانے کے بعد دو قدم پیچھے ہٹ جاتا ہے تاہم پاکستان امریکہ تعلقات پیچیدہ لیکن دیرپا ہیں۔ پاکستانی رہنماو¿ں کو کبھی یہ یقین نہیں ہوا کہ امریکہ پاکستان کی مدد برقرار رکھے گا کیونکہ تاریخی طور پر 1947ءسے لےکر اب تک امریکہ نے 6 مرتبہ پاکستان کی امداد بند کی۔ پاکستان نے بہت کچھ کیا ہے جس میں وزیرستان اور چند دیگر علاقوں کے آپریشن شامل ہیں دہشت گردی کو ختم کرنے کی کوششوں میں ان کے ہزاروں فوجی شہید ہوئے۔ میرا خیال ہے کہ یہ ایک ملی جلی صورتحال ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں موجودگی امریکہ کی ناراضگی کی وجہ تھی مگر کانگریس، سینیٹ اور امریکی انتظامیہ نے دانشمندی سے کام لیتے ہوئے یہ فیصلہ کیا کہ انہیں پاکستان کے ساتھ چلنا ہے اور انہیں پاکستان کی مدد کی ضرورت ہے۔ اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی پر سابق امریکی نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کی فوج اور سول سوسائٹی میں جو غصہ دیکھنے میں آیا اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ انہیں یہ سمجھ میں نہیں آرہا کہ آخر ہوا کیا؟ مگر جیسا کہ امریکی انتظامیہ کے اہلکاروں نے بھی کہا ہے کہ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ پاکستان کا کوئی ریاستی اہلکار جانتا تھا کہ اسامہ بن لادن ایبٹ آباد میں موجود ہے۔ پاکستان کی جانب سے امریکی سفارت کاروں پر سفری پابندیوں پر انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان نے امریکہ کو یہ بتانے کیلئے ایسا کیا کہ ان کے پاس اور بھی راستے ہیں اور وہ اپنے ملک میں ہمارے لئے چیزوں کو مشکل یا آسان کر سکتے ہیں مگر امریکہ سفارتی عملے پر یہ پابندی ختم کرنے کے لیے پاکستان سے بات چیت کر رہا ہے۔ رچرڈ آرمیٹیج سے جب یہ پوچھاگیا کیا آپ سمجھتے ہیں کہ پاکستان امریکہ تعلقات دوبارہ اچھے ہو سکیں گے؟ تو انہوں نے کہا کہ شاید کچھ عرصے تک تو نہیں مگر ضرورت کی خاطر ہمارے اور پاکستان کے تعلقات رہیں گے۔ پاکستانی شہریوں کی مشکلات اتنی زیادہ ہوتی جا رہی ہیں کہ امریکہ پاکستان کی مدد جا ری رکھنا چاہتا ہے۔ پاکستان کے 18کروڑ سے زیادہ عوام کو ایک بہتر حکومت اور بہتر مستقبل ملنا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں میڈیا کی بجائے آپس میں ایک دوسرے سے بات کرنی چاہئے اور دوسرا یہ کہ امریکہ پاکستانی سول سوسائٹی اور فوج کی امداد جاری رکھے مگر یہ امداد کچھ لو کچھ دو کی بنیاد پر ہونی چاہئے۔
رچرڈ آرمٹیج

ایک قدم آگے

میں جو کچھ سوچ رہا ہوں اسے الفاظ کی شکل میں قلم کے ذریعے لکھتا چلا جا رہا ہوں۔ ...