پنجاب میں من پسند احکامات نہیں‘ آئین قانون کی حکمرانی چلے گی : لاہور ہائیکورٹ‘ آئی جی ایڈووکیٹ جنرل کی آج طلبی

10 اگست 2011
لاہور (وقائع نگار خصوصی) چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مسٹر جسٹس اعجاز احمد چودھری نے مبینہ طور پر وزیر اعلیٰ پنجاب کی ایما پر ٹھیکیدار کے خلاف 6 مقدمات درج کرنے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ صوبے میں آئین اور قانون کی حکمرانی چلے گی کسی اعلیٰ شخصیت کے من پسند احکامات نہیں چلنے دیں گے اگر چھوٹے افسران کو بڑے عہدوں پر بٹھا دیں گے تو پھر وہ چاپلوسی کےلئے اسی طرح کی حرکتیں کریں گے۔ فاضل جج نے صرف ڈاک کے ذریعے شکایت موصول ہونے پر درخواست گذار کے خلاف درج ہونے والے مقدمہ کا نوٹس لیتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ عدالتیں ڈائریکشن دے دےکر تھک جاتی ہیں لیکن ملزمان کے خلاف مقدمات درج نہیں ہوتے اور یہاں پولیس میں اتنی پھرتیاں آ گئی ہیں کہ ڈاک کے ذریعے موصول ہونے والی شکایت پر بھی مقدمات درج ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ فاضل جج نے یہ ریمارکس وزیر اعلی ہا¶س مری کے سامنے پارک کی تعمیرکرنے والے ٹھیکےدار کے خلاف 6 جھوٹے مقدمات درج کرنے خلاف دائر درخواست پر چیئرمین پنجاب ٹورزم ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے بیان پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے دئیے جبکہ فاضل عدالت نے آئی جی پنجاب اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو آج عدالت طلب کرتے ہوئے مزید سماعت ملتوی کر دی۔ گذشتہ روز چیئرمین پی ٹی ڈی سی سعد خان عدالت کے روبرو پیش ہوئے تو عدالت نے ان سے استفسار کیا کہ درخواست گذار کے خلاف یکے بعد دیگرے مقدمات کس کے کہنے پر درج کئے گئے تھے۔ اس پر چیئرمین پی ٹی ڈی سی نے کہا کہ انہوں نے ایسا اعلیٰ حکام کے کہنے پر کیا تھا۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا اعلیٰ حکام کا مطلب وزیر اعلیٰ ہے تو چیئرمین پی ٹی ڈی سی نے کہا کہ جی ہاں‘ جس پر عدالت نے کہا کہ جو وزیر اعلیٰ کہے گا آپ کریں گے‘ جس پر چیئرمین پی ٹی ڈی سی نے کہا کہ جی ہاں بیوروکریسی میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ اس پر عدالت نے سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پھر تم جتنے چاہے مقدمے درج کروا لو ہم تمہارے خلاف مقدمہ درج کروائیں گے۔ این این آئی کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ آئی جی پنجاب پولیس کے سربراہ ہیں اور وہ سو رہے ہیں۔ درخواست گذار اعظم سعید کی جانب سے خرم سعید ایڈووکیٹ کی وساطت سے دائر درخواست میں م¶قف اختیار کیا گیا تھا کہ درخواست گذار نے وزیر اعلیٰ ہا¶س مری کے سامنے ایک پارک کی تعمیر کا ٹھیکہ لیا تھا‘ ٹھیکہ کی مدت ختم ہونے سے قبل ہی وزیر اعلیٰ کی طرف سے اسے ٹھیکہ چھوڑنے کی ہدایت کی گئی‘ انکار پر ایک ماہ کے اندر اندر اس کے خلاف مختلف نوعیت کے 6 مقدمات در ج کر دئیے گئے۔
لاہور ہائیکورٹ