لاپتہ افراد کیس ....کمشن مکمل نہ ہونے پر سپریم کورٹ کی برہمی‘ حکومت کو ایک ہفتے کی مہلت

10 اگست 2011
اسلام آباد (ریڈیو نیوز، وقت نیوز) سپریم کورٹ نے لاپتہ افراد کیس میں کمشن کی تشکیل مکمل نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ایک ہفتے کی مہلت دیدی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے کے آغا نے عدالت کو بتایا کہ کمشن کی تشکیل مکمل کرنے کی سمری وزارت داخلہ میں ہے۔ ایک ہفتے میں لاپتہ افراد پر کمشن کی تشکیل مکمل ہوجائیگی جس پر جسٹس شاکر اللہ جان نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 26 ہفتے بعد بھی کمشن کی تشکیل مکمل نہیں ہوسکی۔ کے کے آغا نے کہا کہ وفاقی حکومت لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے سنجیدہ کوششیں کررہی ہے۔ ایک ہفتہ میں کمشن کی تشکیل مکمل کرلی جائیگی۔ کمشن کا چیئرمین نہ ہونے کے باوجود کام جاری ہے۔ کمشن کی سابقہ رپورٹ میں خفیہ اداروں نے کہا ہے کہ شہریوں کے لاپتہ ہونے میں انکا کردار نہیں۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ بتایا جائے کون سا ادارہ تعاون سے انکار کررہا ہے۔ یہ انسانی حقوق کا معاملہ ہے، جذبات کو الگ کرکے دیکھنا ہوگا۔ عدالت نے کہا کہ لاپتہ افراد کے کمشن کا سربراہ ایک ہفتے میں مقرر کردیا جائے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے آمنہ مسعود جنجوعہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ غلط فہمی دور کرلیں، عدالت قانون بناتی نہیں بلکہ اسکی تشریح کرتی ہے۔ عدالت نے سماعت 17 اگست تک ملتوی کردی۔آئی این پی کے مطابق کے کے آغا نے عدالت کو بتایا کہ بلوچستان میں لاپتہ افراد کے حوالے سے غلط اعداد و شمار بتائے جا رہے ہیں‘ حساس ادارے ان واقعات میں ملوث نہیں۔ عدالت نے کہا کہ اگر ایسی بات ہے تو تحریری بیان جمع کرایا جائے۔ کے کے آغا نے یقین دلایا کہ ایک ہفتہ میں بیان جمع کرا دیا جائے گا۔ ڈیفنس آف ہیومن رائٹس کی چیئرپرسن آمنہ مسعود جنجوعہ نے عدالت کو بتایا کہ لاپتہ افراد کے متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ کی ادائیگی کی صورتحال تسلی بخش نہیں۔
لاپتہ افراد کیس