کمشنری سسٹم بہتر ہے‘ بلدیاتی نظام کراچی میں امن کے لئے بحال کیا: وزیر اطلاعات سندھ

10 اگست 2011
کراچی (وقائع نگار + ریڈیو نیوز + وقت نیوز) سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی آج بھی کمشنری نظام کو بہتر سمجھتی ہے لیکن کراچی میں امن کے قیام اور مفاہمت کی فضا برقرار رکھنے کے لئے شہری و ضلعی حکومتوں کا نظام بحال کیا گیا ہے۔ سندھ میں دو نظام نافذ کرنے سے متعلق آرڈیننس کا اجراءلاشعوری غلطی تھی جس پر ہم سندھ کے عوام سے معافی مانگتے ہیں‘ غلطی کا احساس ہوتے ہی ہم نے فوری طور پر پورے سندھ میں یکساں نظام نافذ کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا‘ ضلعی حکومتوں کا نظام حتمی نہیں ہے اس میں تمام اتحادی کے ساتھ ترامیم کی جائیں گی۔ ہوسکتا ہے کہ اس نظام کا نام ہی بدل دیا جائے۔ ان خیالات کا اظہا ر انہوں نے ہنگامی پریس کانفرنس میں کیا۔ شرجیل میمن نے کہا کہ ضلعی نظام کی بحالی کے بعد ہم کہیں غائب نہیں ہوئے تھے ہم نے رابطہ کرنے پر میڈیا کو اپنا موقف دیا۔ ایم کیو ایم کے ساتھ سندھ میں آئندہ کے بلدیاتی نظام پر پہلے ہونے والے ڈائیلاگ جہاں چھوڑے گئے تھے وہیں سے اب دوبارہ شروع کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کی تقسیم ہماری لاشوں پر ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ قوم پرست ہمارے بھائی ہیں۔ وہ زمینی حقائق کو سامنے رکھیں ورنہ ہمیں پتہ ہے کہ مشرف کے دور میں کون کس کا باڈی گارڈ تھا۔ انہوں نے کہا کہ آج نواز شریف اور عمران خان حکومت کے خلاف تحریک چلانے کی باتیں کررہے ہیں ان لوگوں نے آمر کے دور میں تحریکیں کیوں نہیں چلائیں۔ اگر دھاندلی والے الیکشن نہ ہوں تو نواز شریف کبھی وزیر اعظم نہ بن سکتے۔ انہیں تیسری قوت ہمیشہ آگے لائی ہے۔ انہوں نے متحدہ کے ساتھ معاملات کو جس مقام پر چھوڑا تھا واپس اسی مقام پر لائیں گے۔ اس میں کسی کی جیت اور نہ ہی ہار ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک پی پی کی حکومت ہے کالا باغ ڈیم نہیں بنے گا۔
شرجیل میمن