رات گئے....کراچی میں دستی بموں کے چار دھماکے‘ مورچہ بند فائرنگ‘ پی پی رہنما سمیت متعدد زخمی

10 اگست 2011
رات گئے....کراچی میں دستی بموں کے چار دھماکے‘ مورچہ بند فائرنگ‘ پی پی رہنما سمیت متعدد زخمی
کراچی (ریڈیو مانیٹرنگ + کرائم رپورٹر) رات گئے کراچی کے علاقے لیاری اور رسالا کمپاﺅنڈ میں یکے بعد دیگرے دستی بموں کے چار دھماکے ہوئے جس کے بعد شدید فائرنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ متحارب گروپ مورچہ بند ہو کر ایک دوسرے پر گولیاں برساتے رہے۔ بم دھماکوں اور فائرنگ کے نتیجے میں پیپلز پارٹی ڈسٹرکٹ ساﺅتھ کے جنرل سیکرٹری ظفر بلوچ اور ان کے بیٹے سمیت متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ لیاری کے علاقے چاکیواڑہ کی گل محمد لین میں پہلا حملہ کیا گیا جس میں متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ اور دستی بموں کے حملے لیاری گینگ وار کا نتیجہ ہیں۔ اولڈ سٹی میں شدید فائرنگ ہوئی جبکہ جونا مارکیٹ‘لی مارکیٹ کھارادر اور دیگر کئی علاقوں میں فائرنگ کا سلسلہ رات گئے تک جاری رہا۔ چاکیواڑہ میں دستی بم حملے کے بعد سالار کمپاﺅنڈ میں دستی بموں سے حملہ کیا گیا۔ بم دھماکوں کے بعد سے فائرنگ کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا تمام کاروباری مراکز بند ہو گئے لوگ گھروں میں دبک گئے۔ سول ہسپتال کے قریب بھی فائرنگ ہوئی ہے مریض بھی سہم گئے ہیں اور وہ اپنے وارڈوں میں بند ہو گئے ہیں۔ علاقے میں داخل ہونے کے لئے پولیس اور رینجرز کے دستوں نے بکتربند گاڑیاں طلب کر لیں۔ علاوہ ازیں کے ایم سی اولڈ سٹی ورکشاپ کے قریب دھماکہ ہوا جبکہ سول ہسپتال کے قریب شدید فائرنگ ہوتی رہی۔ علاوہ ازیں کراچی میں فائرنگ اور تشدد کے واقعات میں مزید 6 افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ ملیر میں گرفتاریوں کے خلاف علاقہ مکینوں نے نیشنل ہائی وے پر احتجاج کیا۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے پولیس نے ہوائی فائرنگ اور شیلنگ کی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ظفر بلوچ گل محمد لین میں پیپلز پارٹی کے علاقائی دفتر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ 3 موٹر سائیکلوں پر سوار 6 حملہ آوروں نے پہلے دستی بم پھینکا اور پھر اندھادھند فائرنگ کرکے فرار ہو گئے۔