جعلی مقدمات درج کرنے والے پولیس افسران کو کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا۔ لاہورہائیکورٹ

10 اگست 2011 (05:01)
لاہورہائی کورٹ میں وزیراعلیٰ پنجاب کے ایماء پر نجی کنٹریکٹر کیخلاف بنائے گئے مقدمات کی سماعت کے موقع پرآئی جی پنجاب جاوید اقبال اورایڈووکیٹ جنرل پنجاب خواجہ حارث عدالت میں پیش ہوئے۔ دوران سماعت ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کوبتایا کہ نجی کنٹریکٹرکے خلاف دومقدمات وزیراعلیٰ پنجاب کے کہنے پردرج کرائے گئے جبکہ باقی مقدمات عام شہریوں کی جانب سے درج کرائے گئے ہیں۔ جس پر چیف جسٹس ہائی کورٹ اعجازچوہدری نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جعلی مقدمات درج کرنے میں ملوث پولیس افسران کے خلاف کارروائی ضرور کی جائے کیونکہ انہیں چھوڑا نہیں جا سکتا۔ چیف جسٹس ہائیکورٹ نے آئی جی پنجاب کو درخواست گزارکے خلاف مزید مقدمات نہ درج کرنے اورگرفتاری روکنے کے احکامات بھی جاری کیے۔ چیف جسٹس اعجازچوہدری نے آئی جی پنجاب کو ہدایت کی کہ اس معاملے پرکسی ایماندارپولیس افسرکی سرپرستی میں انکوائری کمیٹی تشکیل دی جائے جس پرآئی جی پنجاب نے ایس ایس پی انویسٹی گیشن راولپنڈی رینج احسان طفیل کی سفارش کی، جسے چیف جسٹس ہائی کورٹ نے منظورکرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت تیرہ ستمبرتک ملتوی کردی۔