قائداعظمؒ کا تصور ِپاکستان

10 اگست 2011
مجید نظامی
اس خطاب میں آپ نے ایک اسلامی ریاست کے بنیادی فریضے یعنی مذہبی آزادی کا اعلان فرمایا تھا جو قرآنی احکامات کے عین مطابق ہے۔ اس سے یہ بھی مترشح ہوتا ہے کہ قائداعظمؒ ملک میں اسلامی اصولوں پر مبنی ریاست چاہتے تھے۔ جس میں تمام باشندوں کے ساتھ بغیر کسی مذہبی تعصّب کے مساویانہ سلوک کیا جائے گا جس کی بدولت وہ منفی جذبات اور کشیدگی ختم ہوجائیں گے جو تقسیم سے فوراً پہلے کے حالات و واقعات کے باعث پیدا ہو گئے تھے۔ قائداعظمؒ کا یہ خطاب ان کی جمہوریت پسندی اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے ان کے زرّیں خیالات کا عکاس ہے۔ اگر ففتھ کالمسٹ اس خطاب سے یہ نتیجہ اخذ کرنے پر مصر ہوں کہ قائداعظمؒ پاکستان کو ایک سیکولر ریاست بنانا چاہتے تھے تو ایسے عناصر کی عقل پر صرف ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔ دراصل قائداعظمؒ کی اس تقریر کا پس منظر جاننے کی اشد ضرور ت ہے۔ تقسیمِ ہند کے وقت ہندوﺅں اور سکھوں کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف قتل و غارت کا جو بازار گرم ہوا‘ اس کے باعث لاکھوں مسلمانوں نے پاکستان کی طرف ہجرت کر جانے میں ہی عافیت جانی۔ مسلمان مہاجرین کے ان قافلوں کو جس بے رحمی سے تہہ تیغ کیا گیا‘ مسلمان عورتوں کی جس منظم انداز میں بے حرمتی کی گئی‘ مسلمان لڑکیوں کو جس طرح باقاعدہ منصوبے کے تحت اغوا کیا گیا‘ معصوم بچوں کو جس بے دردی سے نیزوں کی انّیوں پر اچھالا گیا‘ اس کی وجہ سے پاکستان میں رہنے والے غیر مسلم باشندوں میں خوف و ہراس پیدا ہونا ایک فطری امر تھا۔ ہندوﺅں اور سکھوں کے ان انسانیت سوز مظالم کا ردّعمل کہیں کہیں پاکستان میں بھی دیکھنے میں آیا۔ اس پر مستزاد یہ کہ یہاں موجود پاکستان کے کچھ بدخواہ عناصر نے بھی موقع غنیمت جان کر غیر مسلم اقلیتوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کرنے کی کوششیں کیں۔ اس سارے پس منظر میں ضروری تھا کہ اقلیتوں کو یقین دہانی کروائی جائے کہ یہاں مذہب کی بنیاد پر نہ ان کی جان و مال اور عزت و آبرو کو نشانہ بنایا جائے گا اور نہ ہی ان سے کسی قسم کا امتیازی سلوک روا رکھا جائے گا۔ لہٰذا قائداعظمؒ نے بذاتِ خود اس تقریر میں انہیں تسلی دی کہ مملکت کی نظر میں سیاسی لحاظ سے وہ پاکستان میں برابر کے شہری ہوں گے۔ 11اگست ‘1947ءکی تقریر سے قبل بھی متعدد مواقع پر قائداعظمؒ کئی بار اقلیتوں کو یہ یقین دہانی کروا چکے تھے کہ نئی قائم ہونے والی مملکت میں ان کے حقوق کا پورا پورا خیال رکھا جائے گا۔ یکم اپریل1944ءکو اپنے خطاب میں قائداعظمؒ نے اقلیتوں کو یاد دلایا تھا کہ :-”جب برصغیر میں مسلمانوں کی حکومت تھی تو اس وقت فوج اور نظم و نسق کے اعلیٰ افسر ہندواور سکھ ہوا کرتے تھے۔ اب خواہ کتنا ہی گمراہ کن پراپیگنڈہ کےوں نہ کیا جائے‘ آخر کار سچائی کی فتح ہوگی۔ ہماری حکومت میں مسلمانوں کا ضمیر ان کو کسی غیر مسلم سے ناانصافی کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔“
6مارچ‘ 1946ءکو گوہاٹی (آسام) میں تقریر کے دوران قائداعظمؒ نے پاکستان میں اقلیتوں کے بارے میں کہا کہ:
”میرا ایمان ہے کہ ایسی حکومت کو زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں جو اقلیتوں سے نا انصافی کرے اور انہیں خوفزدہ کرے۔ پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کا پورا تحفظ ہوگا اور انہیں تمام جائز مراعات حاصل ہوں گی۔ اس کے متعلق کسی قسم کے خوف یا بدگمانی کی ضرورت نہیں۔ وہ پاکستان کے ایسے ہی آزاد شہری ہوں گے جیسے کسی اور ملک کے ہو سکتے ہیں۔“ 13جولائی‘ 1947ءکو بھی قائداعظمؒ نے اقلیتوں کو یقین دلایا کہ ”اس نئی مملکت میں انہےں اپنے مذہب ‘ عقےدے‘ زندگی اور تمدن کا تحفظ حاصل ہوگا۔ وہ پاکستان کے مکمل شہری ہوں گے اور سلسلے میں کسی سے کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا“۔
استحصال سے پاک معاشی نظام
حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒ ایک انتہائی قابل سیاست دان ہونے کے ساتھ ساتھ اقتصادی حالات سے بھی مکمل طور پر آگاہ تھے اور پاکستان کی اقتصادی پالیسی کے بارے میں گاہے بگاہے اظہار خیال کرتے رہتے تھے۔ آپ کی تقاریر و بیانات سے یہ امر واضح ہے کہ آپ جاگیرداروں اور سرمایہ داری نظام کو سخت نا پسند فرماتے تھے۔ 24مارچ ‘1943ءکو دہلی میں آل انڈیا مسلم لیگ کے ایک اجلاس سے خطاب کے دوران آپ نے فرمایا:-”میں ضروری سمجھتا ہوں کہ زمینداروں اور سرمایہ داروں کو متنبہ کردوں کہ اس طبقے کی خوشحالی کی قیمت عوام نے ادا کی ہے۔ اپنی مقصد براری کے لیے عوام کا استحصال کرنے کی خوئے بد اُن کے خون میں رَچ بس گئی ہے۔ وہ اسلامی احکام کو بھول چکے ہیں۔ حرص و ہوس نے سرماےہ داروں کو اتنا اندھا کردےا ہے کہ وہ جلب ِ منفعت کی خاطر دشمن کے آلہ¿ کار بن جاتے ہےں۔ ےہ سچ ہے کہ آج ہم اقتدار کی گدی پر متمکن نہےں۔ آپ شہر سے باہر کسی جانب چلے جائےے‘ مےں نے دےہات مےں جاکر خود دےکھا ہے کہ ہمارے عوام مےں لاکھوں افراد اےسے ہےں جنہےں دن مےں اےک وقت بھی پےٹ بھر کر کھانا نصےب نہےں ہوتا۔ کےا آپ اسے تہذےب اور ترقی کہےں گے؟ کےا ےہی پاکستان کا مقصد ہے؟ کےا آپ نے سوچا کہ کروڑوں لوگوں کا استحصال کےا گےا ہے اور اب ان کے لئے دن مےں اےک بار کھانا حاصل کرنا بھی ممکن نہےں رہا۔ اگر پاکستان کا حصول اس صورتِ حال مےں تبدےلی نہےں لاسکتا تو پھر اسے حاصل نہ کرنا ہی بہتر سمجھتا ہوں۔ اگر وہ (سرماےہ دار اور زمےندار) عقل مند ہےں تو وہ نئے حالات کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال لےں گے۔ اگر وہ اےسا نہےں کرتے تو پھر خدا اُن کے حال پر رحم کرے۔ ہم ان کی کوئی مدد نہ کرےں گے۔“ (جاری ہے)