طوائف الملوکی کا ذمہ دار کون؟

10 اگست 2011
ایک طوائف الملوکی وہ ہوتی ہے جو کسی معاشرے یا سماج میں داخلی تضادات اور آخری حد تک غیر مستحکم صورتحال کی وجہ سے پروان چڑھتی اور دیکھتے ہی دیکھتے اسے اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ کسی کو نکلنے کی راہ نہیں ملتی۔ پریشانی اور بربادی ایسے معاشروں کا مقدر بن جاتی ہے۔ پاکستان کا معاشرہ خدا کے فضل سے ایسے تمام داخلی اسباب سے محفوظ و مامون ہے جو ایسے افتراق و انتشار کو جنم دیتے ہیں جس پر قابو پانا حد امکان سے باہر ہو جائے۔ ہمارے سماج کے اندر خیبر سے لے کر گوادر تک لوگوں کے طرز زندگی میں تمام تر تنوّع اور زبانوں کے اختلافات کے باوجود ایسی ہم آہنگی پائی جاتی ہے کہ کم ملکوں کو نصیب ہوئی ہے۔ سیاسی اختلافات، معاشی تفاوت، کہیں بہت زیادہ ترقی اور کہیں حد سے زیادہ بڑھی ہوئی پسماندگی، یہ سب کچھ موجود ہے جو ہمارے فوجی و نیم فوجی نظاموں اور سول حکمرانوں کی غلط سوچ کا نتیجہ ہے لیکن ایک مذہب، ایک جغرافیہ، ملک کے ایک کونے سے دوسرے تک مردوں اور عورتوں کے لباسوں میں معمولی ثقافتی فرق کے ساتھ یکسانی، پھر اردو زبان ہے جو رابطے کی بولی (Ligua Franqua) کے طور پر ملک کے تمام علاقوں میں سمجھی اور بولی جاتی ہے۔ معاملہ یہاں تک محدود نہیں، دریائے سندھ اور اس کے معاون دریا ہمالیہ اتر کر سندھ میں داخل ہونے سے پہلے ایسی وحدت اختیار کر لیتے ہیں کہ پورے ملک کو اپنی آغوش میں لے لیتے ہیں۔ کسی معاشرے کا داخلی لحاظ سے اور خالصتاً فطری و جغرافیائی اسباب کی بناءپر اس طرح ایک دوسرے کے ساتھ بندھا ہونا شاید دنیا کے کم ممالک اور معاشروں کو نصیب ہو مگر ہمارے کامیاب ملک ہونے پر سوالیہ نشان لگائے جاتے ہیں، سبب کیا ہے؟ آج کے دور میں کئی معاشرے ایسے ہیں جن کے پاس داخلی ہم آہنگی کیلئے اوپر بیان کردہ تمام اسباب بیک وقت موجود نہ ہونے کے باوجود ان کی کامیابی کے چرچے ہیں۔ ہم میں اور ان میں فرق کیا ہے؟ اسے سمجھنا ہو تو صرف موجودہ حکمرانوں کے کرتوت سامنے رکھ لیجئے۔ وقتی سیاسی اغراض اور تنگ نظری پر مبنی مفادات کی خاطر پاکستان میں طوائف الملوکی اور قومی پیمانے پر گھٹیا قسم کے انتشار کے ساتھ کراچی جیسے شہر میں قتل و غارت گری کو فروغ دینے میں اپنی کامیابی سمجھتے ہیں۔ عدالت عظمیٰ کے ساتھ بار بار ٹکر لینے میں ان کو لطف محسوس ہوتا ہے۔ آئینی اداروں کے درمیان تفاوت اور بدمزگی پیدا کرنے کو یہ اپنی سیاست کا کمال سمجھتے ہیں۔ اگلے انتخابات میں سب سے بڑی مخالف جماعت کو نیچا دکھانا مقصود ہو تو صوبوں کی تقسیم کا شوشا چھوڑ کر ملک کو درپیش گھمبیر اور انتہائی سنگین مسائل سے جنہیں حل کرنے میں یہ بری طرح ناکام رہے ہیں، نظریں ہٹا لی جاتی ہیں۔ پوری قوم کو نئے مباحث میں الجھا دیا ہے۔ بات صرف پنجاب کو تقسیم کرنے تک محدود نہیں رہی بلکہ ہر صوبے کے اندر اس مسئلے نے سر اٹھایا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے پورا پاکستان تقسیم در تقسیم کے دہانے پر کھڑا ہے۔ طوائف الملوکی ہمارے دروازوں پر اس زور سے دستک دے رہی ہے کہ کانوں پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی۔ حکمرانوں کی ذہنیت ملاحظہ کیجئے اسی کو اپنا کمال سیاست سمجھتے ہیں۔
اسی سوچ اور اپروچ نے کراچی جیسے ملک کے ہر لحاظ سے اہم ترین شہر کو جس اندھے اور خوفناک ترین غار میں دھکیل دیا کہ زرداری جمع گیلانی حکومت کی سمجھ میں نہیں آرہا کس پالیسی کو اپنائیں کسے ترک کر دیں! کبھی ایک راہ عمل کو اپناتے ہیں تو دوسری جانب شورِ قیامت بلند ہو جاتا ہے۔ انہیں منانے کی کوشش کرتے ہیں تو پہلے روٹھ روٹھ جاتے ہیں صرف روٹھنے پر اکتفا نہیں کرتے شہر قائد میں معصوم لوگوں کی جانیں لینے اور خون کی ندیاں بہا دینے کا وہ بازار گرم ہوتا ہے کہ ایک دنیا پناہ مانگی ہے۔ تازہ ترین واقعہ کو لیجئے۔ گذشتہ ماہ جون میں ایم کیو ایم حکومت سے علیحدہ ہوئی، اس مرتبہ اپنے گورنر کو بھی ساتھ لے گئی۔ پیپلز پارٹی والوں کو غصہ آگیا۔ انہوں نے اس کی کمزور رگوں پر ہاتھ ڈالا۔ ایک جانب پرانا کمشنری نظام بحال کرنے کی ٹھانی، دوسری جانب حقیقی کے آفاق احمد سے جیل میں ملاقاتیں کیں۔ الطاف بھائی اور ان کے ساتھیوں کو پاﺅں تلے سے زمین نکلتی نظر آئی۔ انہوں نے گورنر کو واپس بھیج دیا اور مطالبہ یہ کیا کہ کمشنری نظام واپس لے لیا جائے۔ فوجی آمر جنرل مشرف کا عطا کردہ ناظم شہر والا سسٹم بحال کیا جائے تاکہ ہمارا مصنوعی ووٹ بنک ٹوٹ نہ پائے۔ پیپلز پارٹی والوں نے ”کمال حکمت اور بے مثال سیاسی دانائی“ سے کام لیتے ہوئے فیصلہ کیا کہ کراچی اور حیدر آباد میں ایم کیو ایم کی مرضی کا نظام لاگو کیا جائے گا بقیہ سندھ میں کمشنری والا۔ پورے صوبے میں خطرے کی گھنٹیاں بج گئیں۔ صرف پنجاب نہیں اپنے وقتی سیاسی مفادات کی خاطر سندھ کے بھی دو ٹکڑے کئے جا رہے ہیں۔ اندرون سندھ احتجاج اس قدر شدید تھا کہ جناب زرداری کو اپنا سیاسی گڑھ ہاتھوں سے نکلتا ہوا محسوس ہوا۔ تب فوری طور پر اعلان ہوا پورے سندھ میں جنرل مشرف والا شہری نظام ازسرنو نافذ کیا جائے گا۔ تمام کے تمام ملک کے اندر بے یقینی کی کیفیت پیدا کر دی گئی ہے، طوائف الملوکی کا راج نظر آتا ہے۔ انتشار اور افتراق ہمارا قومی نشان بنتا جا رہا ہے، اس کا ذمہ دار کون....؟