روزہ کی حکمت

10 اگست 2011
قیوم نظامی
رب تعالیٰ نے قرآن پاک کو حکمت اور دانائی کی کتاب قرار دیا جس کا مقصد انسان کی تعمیر اور تشکیل تھا۔ عبادات نماز، روزہ، حج اور زکوٰة وہ بنیاد یں تھیں جن پر ایک مثالی انسانی معاشرے کی عمارت تعمیر ہونا تھی۔ مسلمانوں نے عبادات کے فلسفہ کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی بجائے انہیں روایات بنا دیا۔ ہم نماز پڑھتے اور روزے رکھتے ہیں کیونکہ ہمارے اباﺅ اجداد بھی ایسا ہی کرتے تھے ۔اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے عبادات تو موجود ہیں مگر اس اسلامی معاشرے کا وجود نظر نہیں آتاجو عبادات کا مقصود تھا۔ رب تعالیٰ نے دین کی تکمیل کے بعد نبوت کا سلسلہ ختم کر دیا۔ رحمتہ اللعالمین ﷺ آخری نبی تھے البتہ رب تعالیٰ ہر دور میں انسانوں کی رہنمائی کے لیے ولی اور مجتہد بھیجتا رہا۔ علامہ محمد اقبال حکیم الامت تھے انہوں نے قرآن کی حکمت کو اپنی لافانی شاعری میں بیان کیا اور ساری زندگی یہ کوشش کرتے رہے کہ مسلمان جاگ جائیں ۔ قرآن کی حقیقت کو سمجھ پائیں مگر چونکہ سلانے والے زیادہ تھے لہذا آج بھی مسلمان تقلید اور روایات کے اسیر ہیں۔ حکیم الامت نے مسلمان قوم کے مرض کی درست تشخیص کی اور کہا۔
حقیقت خرافات میں کھو گئی
یہ امت روایات میں کھو گئی
رمضان المبارک کے متبرک اور مقدس مہینے میں لازم ہے کہ ہم روزے کی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ اسلام اور تاریخ کے سنجیدہ سکالر ابوہریرہ شریف کالج کے پرنسپل جناب میاں محمد جمیل جو ا ٓجکل آسان اور عام فہم زبان میں ”فہم القرآن“ کے نام سے تفسیر لکھ رہے ہیں۔ اپنی کتاب ”برکات رمضان“ میں روزے کا مفہوم ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں۔ ”روزہ فارسی کا لفظ ہے عربی میں اسے صوم کہا جاتا ہے۔ عربی ڈکشنری کے مطابق روزہ کے معنی کسی کام سے رک جانا ہے۔ شرعی اصطلاح میں صبح صادق سے لے کر اذان مغرب تک مادی اعتبار سے کھانے پینے اور روحانی و دینی اعتبار سے بدکاری اور گمراہی سے بچنے کا نام روزہ ہے“۔ قرآن پاک میں روزے کا حکم ان الفاظ میں جاری کیا گیا ہے۔
”اے لوگو! جو ایمان لائے ہو تم پر روزے فرض کر دئیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے انبیاءکے پیروکاروں پر فرض کیے گئے تھے۔ اس سے توقع ہے کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہو گئی“ (البقرة 183:2)
قرآنی حکم کے مطابق روزے مسلمانوں کو متقی بنانے کے لیے فرض کیے گئے ہیں۔ روزے کی یہی حکمت ہے کہ روزہ دار تقویٰ اختیار کرے یعنی ان برائیوں سے محفوظ رہے جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے اور ان نیکیوں کا اہتمام کرے جن کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ عبادات کے ضوابط کی پابندی کرنا اور حکمت و فلسفہ پر عمل کرنا ہر مسلمان کا فرض اولین ہے۔
ارشاد نبوی ہے ”جس نے ایمان اور احتساب کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے اس کے سب پہلے گناہ معاف کر دئیے گئے۔(بخاری و مسلم) روزہ دار اس حدیث کے الفاظ ”ایمان“ اور ”احتساب“ کو ذہن میں رکھیں ۔ ایک اور حدیث میں رسول خداﷺ نے قدرے کھلے الفاظ میں فرمایا ”جو شخص جھوٹی بات کہنا اور اس پر عمل کرنا نہیں چھوڑتا تو اللہ کو کوئی ضرورت نہیں کہ یہ شخص اپنا کھانا پینا چھوڑ دے“۔ (بخاری) اس حدیث مبارکہ کی روشنی میں ہم نے خود اپنا محاسبہ کرنا ہے کہ کیا ہم روزہ رکھ رہے ہیں یا فاقہ کشی کر رہے ہیں۔ حضور اکرم ﷺ نے ایک خطبے میں ارشاد فرمایا” رمضان المبارک صبر کا مہینہ ہے جب کہ صبر کا بدلہ جنت ہے یہ ہمدردی کا مہینہ ہے اور ایسا مہینہ ہے جس میں مومن کے رزق میں اضافہ ہوتا ہے جو شخص اس ماہ میں کسی روزے دار کا روزہ افطار کرائے گا اس کے گناہ معاف ہوں گے اور اس کی گردن کو دوزخ سے نجات حاصل ہوگی اور اس کو روزہ دار کے برابر ثواب ہوگا لیکن روزہ دار کے ثواب میں کچھ کمی نہ ہو گی“ ۔(برکات رمضان)
رمضان المبارک مقدس اور محترم مہینہ ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ سال میں ایک ماہ مسلمانوں کی تربیت کی جائے تاکہ وہ سال کا باقی حصہ متقی بن کر گزاریں۔ رمضان شریف میں شیطان کو بند کر دیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنی رحمتیں اور برکتیں نازل کرنے کے لیے سب سے نچلے آسمان پر آجاتے ہیں۔ آئیے ذرا سوچیں کہ ہم مبارک اور مقدس مہینہ کے ساتھ کیا سلوک کر رہے ہیں۔ عیسائی جو ہماری نظر میں کافر ہیں اپنے مذہبی تہوار کرسمس کے موقع پر اشیائے خوردونوش کی قیمتیں کم کر دیتے ہیں جبکہ ہم مسلمان خدا اور رسول ﷺ کی کھلی ہدایت کے باوجود اشیاءکی قیمتوں میں من مانا اضافہ کر دیتے ہیں اور اس کھلی نا فرمانی کے بعد بھی ہم اللہ تعالیٰ کی رحمت کے طلب گارہ ہوتے ہیں۔ افطار پارٹیوں میں نادار اور مفلس افراد کو شریک کرنے کے بجائے ہم اشرافیہ کو ہی دعوت دیتے ہیں۔ ایمان داری کے ساتھ اپنے سرکاری اور نجی فرائض ادا کرنے کے بجائے ہم رمضان کا بہانہ بنا کر کام چوری کے مرتکب ہوتے ہیں۔ رمضان کا متبرک مہینہ ہماری غیر اخلاقی عادات کو تبدیل نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ ”کھاﺅ پیﺅ مگر حد سے نہ بڑھو بے شک حد سے بڑھنے والے (اللہ) کو پسند نہیں“۔[اعراف31:7] اس حکم کی خلاف ورزی کے مناظر اکثر گھروں میں نظر آتے ہیں۔ حکمرانوں نے بھی رمضان کے تقدس کو یکسر نظر انداز کر کے گیس کی قیمتوں میں بلا جواز اور ظالمانہ اضافہ کر کے ڈیمو کریسی نہیں بلکہ ڈاکو کریسی کا مظاہرہ کیا ہے۔
ہمارے علماءنے مجموعی طور پر مسلمانوں کو ثواب کے نشے میں مبتلا کر دیا اور وہ عبادات کی شرط ایمان، احتساب اور تقویٰ کو ہی بھول چکے ہیں۔ گویا روزہ موجود ہے مگر حکمت غائب ہے۔ حکیم الامت علامہ محمد اقبال نے کیا خوب کہا ہے۔
جس کا عمل ہے بے غرض اسکی جزا کچھ اور ہے
حورو خیام سے گزر بادہ و جام سے گزر
تیرا امام بے حضور تیری نماز بے سرور
ایسی نماز سے گزر ایسے امام سے گزر
اسد اللہ غالب نے بھی شراب اور حور کے لالچ میں کی جانے والی عبادت کے بارے میں خوبصورت شعر کہا تھا۔
طاعت میں تارہے نہ مے و انگبیں کی لاگ
دوزخ میں ڈال دو کوئی لے کر بہشت کو