اداس اوسلو!

10 اگست 2011
-1یورپ کے تمام ممالک میں ناروے کو سب سے زیادہ امن پسند اپنے حال میں مگن، امیر ملک گردانا جاتا ہے۔ ہزاروں جزیروں پر مشتمل اس چھوٹے سے ملک میں مچھلی اور لکڑی کی فراوانی ہے لیکن اصل امارت تیل لایا ہے۔ ”نارتھ سی“ سے نکلتے ہوئے اس سیال سونے نے ملکی معیشت میں ایک انقلاب برپا کر دیا ہے۔ گو وہاں ایسی بادشاہت ہے لیکن پارلیمانی نظام میں تمام اختیارات مقننہ اور وزیر اعظم کے پاس ہیں۔ سمندر سے گھرا ہوا اوسلو اس کا دارالخلافہ ہے۔ پانچ لاکھ آبادی کے اس خوبصورت شہر میں زندگی کی ہر سہولت میسر ہے۔ صفائی کو نصف ایمان کہا جاتا ہے۔ اس شہر کی سڑکیں شیشے کی طرح چمکتی رہتی ہیں۔ اس کی ہواﺅں میں مخصوص مہک ہے پانیوں میں تازگی اور توانائی ہے۔ دھوئیں اور دھول سے پاک ”سرسبز“ پہاڑیوں پر بنے ہوئے عروس بلاد کو سمندری دھاگوں سے پرویا گیا ہے۔ سمندر ہر گھر پر دستک دیتا ہوا، کسی چاک و چوبند سنتری کی طرح ایستادہ ہے۔
-2پچھلے دنوں اس شہر طلسمات میں ایک ایسا سانحہ رونما ہو گیا ہے جس کی گذشتہ صدی میں نظیر نہیں ملتی۔ دوسری جنگ عظیم میں جرمنی نے بغیر کسی مزاحمت کے قبضہ کر لیا اور ایک مقامی باشندے کوئیز لنگ کو عبوری حکومت کا وزیر اعظم مقرر کر دیا۔ جنگ ختم ہو گئی لیکن کوئیزلنگ کے چہرے پر لگی ہوئی سیاہی آج تک نہیں مٹ پائی۔ میر جعفر اور صادق کی طرح اس کا نام بھی ایک گالی بن گیا ہے--- اب کے 76 آدمیوں کو مارنے کی حرکت ایک شہری اینڈرزبیرنگ بریوک نے کی ہے۔ یہ شخص مسلمانوں کا دشمن ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ بدطینت نے اپنے ہی بندوں کو بھون ڈالا ہے۔
-3پہلی خبر سن کر ان لوگوں کو سخت پریشانی لاحق ہوئی جو ناروے کے حالات سے واقفیت رکھتے ہیں۔ بدقسمتی سے دنیا میں جہاں بھی دہشت گردی کا واقعہ رونما ہوتا ہے، کسی نہ کسی رنگ میں اس کے ڈانڈے وطن عزیز سے آ ملتے ہیں دہشت گرد یا تو پاکستانی نکلتا ہے۔ بصورت دیگر اسے ٹریننگ کا ”شرف“ یہیں سے حاصل ہوتا ہے۔ عقل حیران ہوئی ہے کہ وہ لوگ جن پر اپنے ملک کی سرزمین تنگ ہو جاتی ہے وہ دوڑ کر ہمارے سرحدی علاقوں کے Safe Heaven میں آجاتے ہیں تشویش کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اوسلو اور ناروے میں پاکستانیوں کی ایک کثیر تعداد موجود ہے۔ یہ غالباً دنیا کا واحد ملک ہے جہاں پاکستانی ہندوﺅں سے زیادہ ہیں۔ ملکی سیاست میں ان کا ایک مقام اور مرتبہ ہے اور کئی لوگ پارلیمنٹ کے ممبر بھی ہیں۔ دیگر ملکوں میں رہنے والے پاکستانیوں کی نسبت یہ زیادہ متمول اور مخیر ہیں۔ جذبہ حب الوطنی سے سرشار یہ لوگ ہر سال یوم آزادی بڑی شان و شوکت سے مناتے ہیں۔ پاکستان کی ایسی کوئی اعلیٰ شخصیت نہیں ہے جسے انہوں نے مدعو نہ کیا ہو۔ اعلیٰ شخصیت نہ ہوتے ہوئے بھی میں دس بارہ مرتبہ آزادی کی تقریبات میں شرکت کیلئے اوسلو گیا ہوں۔ بالفرض کوئی پاکستانی یا مسلمان یہ فعل کر بیٹھتا تو ہمارے لوگوں پر عرصہ حیات تنگ ہو جانا تھا۔ پر امن لوگ جب طیش میں آتے ہیں تو غضب بن کر مخالفین پر ٹوٹتے ہیں۔ وہاں کے پاکستانیوں کو غافل ہو کر نہیں بیٹھنا چاہئے بلکہ ایسے تمام عناصر پر کڑی نگاہ رکھنی چاہئے جو جنون کی حالت میں اس قسم کی حرکت کر سکتے ہیں۔ (جاری ہے)
-4اخباری اطلاع کے مطابق حادثہ وزیر اعظم کے دفتر کے قریب ہوا اگر قاتل چاہتا تو بڑی آسانی سے وزیراعظم تک پہنچ سکتا تھا۔ وہاں اعلیٰ حاکموں کی سکیورٹی نہ ہونے کے برابر ہے۔ کچھ سال قبل سویڈن کا وزیر اعظم سنیما حال سے باہر نکلتے ہوئے قتل ہو گیا۔ حکومت نے پارلیمنٹ میں تجویز دی کہ وزیراعظم کے لئے سکیورٹی گارڈز مقرر کئے جائیں۔ اکثریت نے اس تجویز کو مسترد کر دیا۔ استدلال یہ تھا، وزیراعظم بننے کی خواہش رکھنے والے کو معلوم ہونا چاہئے کہ اس قسم کے حادثات رونما ہو سکتے ہیں ---- غالباً 2003 میں پنجاب کے وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی ناروے گئے۔ ان کے شیڈول میں اوسلو کے میئر اور وزیراعظم شیل بوندمے وک سے ملاقات، شامل تھی، میں بھی ان کے ہمراہ گیا پہلا جھٹکا تو ہمیں اس وقت لگا جب ہم نے وزیراعظم کا دفتر دیکھا۔ چار منزلہ بوسیدہ عمارت جس میں اور بھی کئی دفاتر تھے۔ عمارت کے باہر کوئی سنتری پہرہ نہیں دے رہا تھا۔ ایک PRO ہمیں کھڑکھڑ کرتی ہوئی پرانی لفٹ میں چوتھی منزل پر لے گیا۔ دوسری مایوسی اس وقت ہوئی جب کمیٹی روم دیکھا12X14 کے کمرے میں بارہ کرسیاں رکھی تھیں۔ انہیں پھٹے کہنا زیادہ مناسب تھا کیونکہ ان پر فوم کشن نہیں تھی۔ میز پر صرف پانی کی چند بوتلیں رکھی تھیں۔ عین وقت پر بغلی دروازہ کھلا اور وزیراعظم صاحب تشریف لے آئے۔ 35 منٹ کی میٹنگ میں کسی قسم کے ماکولات یا مشروبات پیش نہ کئے گئے۔ وقت ختم ہونے پر وزیراعظم نے گھڑی کی طرف دیکھا اور اٹھ کھڑا ہوا۔
Well, gentlemen,thank you very much.
یہ وہی شخص تھا جس کی ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران خوب بھد اڑائی گئی تھی چالاک کیمرہ مین نے لینز اس کے جوتوں پر ”زوم“ کیا حضرت نے ایک ماہ سے جوتوں پر پالش نہیں کی تھی۔ اس نے اقرار کرتے ہوئے کہا کام کی زیادتی کی وجہ سے اپنے جوتے پالش نہیں کر سکا۔ دنیا کے امیر ترین ملک کا غریب ترین وزیراعظم--- یہ شخص کہاں پھنس گیا ہے! کاش یہ ہمارا وزیراعظم ہوتا نوکروں کی فوج ظفر موج، کاروں کا آرمیڈا، پالشی¶ں اور مالشی¶ں کی بہتات انواع و اقسام کے کھانوں کا ایک کوہ لِذا PIA کے اڑتے ہوئے سلیمانی محلات، شکار، ہر قسم کا، کملا کہیں کا! اسے تو یہ بھی معلوم نہیں کہ کام تو نوکر چاکر اور سرکاری گماشتے کرتے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ نصر بن احمد کی طرح یہ بھول کر بھی ناروے واپس جانے کا نام نہ لیتا۔ پھر چاہئے ہزار نارویجن ”رودکی“ پانی لاکھ غزلیں سناتے ٹس سے مس نہ ہوتا۔