بدھ ‘ 9 رمضان المبارک 1432 ھ‘ 10 اگست 2011ئ

10 اگست 2011
امریکی سفارت خانے نے کہا ہے‘ اسامہ کی موت کے حقائق چھپانے کیلئے اپنے کمانڈوز کو خود ہلاک کرنے کا الزام غلط ہے‘ پاکستانی میڈیا غلط خبریں شائع کر رہا ہے‘ ہیلی کاپٹر گرنے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
محترم امریکی سفیر صاحب آپ کس جھنجھٹ میں پڑ گئے ہیں‘ بھلا آپ کیوں اسامہ کی موت کے حقائق چھپانے کیلئے اپنے ہی کمانڈوز کو ہلاک کرینگے؟ کوئی اپنے کارنامے کو بھی چھپاتا ہے‘ ایک اسامہ کیا‘ امریکی قوت نے لاکھوں مسلمان شہید کر ڈالے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ اگر تحقیقات ہی کرنا ہے تو ہیلی کاپٹر گرنے کی نہیں‘ گرانے کی کیجئے اور یہ اپنی امریکی لومڑ کاریاں ترک کرکے اپنے تابوت بحفاظت ان خاندانوں کو پہنچائیے جنہیں آپ نے غلط خبر دی اور وہ جشن منانے لگے کہ شادی مرگ کی کیفیت طاری ہو گئی۔ اس ہیلی کاپٹر میں امریکہ کے ماہر جنگجو سوار تھے اور ہیلی کاپٹر بکتر بند تھا‘ مگر سپرپاور‘ لوزپاور ثابت ہوئی اور افغان عسکریت پسندوں نے اپنے نہتے پن سے اسلحے کا کام لیا اور ہیلی کاپٹر کو مار گرایا۔ یہ تیس لاشیں پہلی کھیپ نہیں‘ وگرنہ اب تک امریکہ 15 ٹریلین ڈالر کا مقروض نہ ہوتا۔ ایک طرف سپرپاور دوسری جانب فاقہ زدہ مٹھی بھر غیور افغان مسلمان اور امریکہ ہار گیا میدان‘ اب تو اس خطے سے چلے جاﺅ کہ یہاں کوئی ریڈ انڈین نہیں۔ سبھی لاالٰہ کی سیف براں سے لیس ہیں....
ایسے لگتا ہے کہ کمزور بہت ہے تو بھی
جیت کر جشن منانے کی ضرورت کیا تھی
٭....٭....٭....٭
ریلوے کی طرف سے پی ایس او کو دیئے گئے 26 کروڑ سے زائد کے چیک باﺅنس ہو گئے‘ ٹرینیں مسلسل تاخیر کا شکار ہیں۔
پی ایس او ریلوے کے کھاتے پر لکھ دے....
راکھ کے ڈھیر میں شعلہ ہے نہ چنگاری
٭٭
کھیڈ وے ریلوے کھیڈ
کدی تے ہووے گا رب دا ریڈ
لوٹنے والے ہی جب ریلوے کو پھر سے پاﺅں پر کھڑا کرنے پر مامور کئے جائینگے‘ تو ٹرینوں کی تاخیر کے ساتھ پٹڑیوں میں تقصیر پیدا ہو جائیگی۔ مشورہ یہ ہے کہ ٹھیک تو اس نے ہونا نہیں‘ اسکی پٹڑیاں اسکی سب ٹرینیں سکریپ قرار دیکر فروخت کر دی جائیں اور ان ریلویز کی جگہ ہائی ویز تعمیر کی جائیں‘ اس ملک میں نئی سڑکوں کا جال بچھ جائیگا اور ان پر بسیں‘ ٹرک‘ کاریں دوڑیں گی تو ریلوے کی کمی کافی حد تک کم ہو جائیگی اور دنیا کے سب سے بڑے نہری نظام والے ملک میں دنیا کا سب سے بڑا شاہراتی نظام قائم ہو جائیگا۔ اس طرح ریلوے نے جو رسوائیاں کمائیں‘ ان کی جگہ سڑکوں کا سب سے بڑا نظام ”عزت“ کمائے گا اور حکمران کھائے گا۔ غلام احمد بلور کا کوئی قصور نہیں‘ سارا قصور عوام کا ہے اور عوام کے پاس ریلوے نہ سہی‘ عندلیب قصور کی آواز تو ہے اگرچہ جسد خاکی کراچی میں خاک و خون کا کھیل دیکھ رہا ہے‘ الغرض کوئی دیکھے نہ دیکھے‘ اللہ دیکھ رہا ہے۔ اسی لئے بلوری پشوری بے فکر رہیں۔
٭....٭....٭....٭
پنجاب اسمبلی کے ایک روز کے اجلاس پر ساڑھے چار کروڑ روپے خرچ ہو گئے۔ ارکان نعرے لگا کر چلے گئے‘ سیاستدان ایکدوسرے کو نیچا دکھاتے ہیں‘ مہنگائی بیروزگاری سے پسے عوام کا کوئی پرسان حال نہیں۔
وہ کھیل رہے ہیں خوشیوں سے
ہم ڈوب گئے ہیں آہوں میں
دل توڑنے والے دیکھ کے چل
ہم بھی تو پڑے ہیں راہوں میں
ہم نے دیکھا کہ ایک شخص ہاتھ میں پانچ روپے کے پانچ نوٹ لئے اپنے ساتھ باتیں کرتا‘ انگلیوں پر کچھ گنتا‘ شاید افطاری کا سامان لینے جا رہا تھا‘ اسکے چہرے پر روزے کی رونق کے سوا کچھ نہ تھا اور شاید وہ انگلیوں پر اپنے گھر کی محرومیاں گن رہا تھا‘ کتنی خوشحالی ہے یہاں کہ ایک کی ہتھیلی پر ایک روزے کیلئے پانچ روپے کے پانچ نوٹ افطاری کیلئے اور پنجاب اسمبلی کے ارکان کی ہتھیلیوں‘ جیبوں اور پیٹوں میں ایک روز کے اجلاس کیلئے ساڑھے چار کروڑ روپے۔
مفلس روزہ دار کی زبان پر یہ ہے
جینے کی آرزو ہے نہ مرنے کا خوف اب
جب زندگی ہی موت کے ہم رنگ ہو گئی
یہ تو ہے صرف ایک اسمبلی کے اسراف کی جھلک‘ جب ملک بھر میں اسمبلیاں ہی اسمبلیاں ہونگی تو یہاں صرف پاک سرزمین ہی بچے گی بلکہ وہ بھی انہی حکمرانوں کے قبضے میں ہو گی اور لاکھوں بے گھر ہونگے۔ قربان جائیے کہ ساڑھے چار کروڑ ہڑپ کرکے نعرے لگاتے ایک دوسرے کو نیچا دکھاتے ہوئے عوام کی کسمپرسی کا گراف اونچا کرتے ہوئے کیسی شان سے یہ ارکان پنجاب اسمبلی سبز ہلالی پرچم کو نیچا کر گئے‘ شادباد منزل مراد۔
٭....٭....٭....٭
پنجاب اور خیبر پی کے میں شدید بارش‘ چھتیں گرنے سے دس افراد جاں بحق‘ متعدد زخمی‘ پارلیمنٹ ہاﺅس‘ ایوان صدر کی چھتیں ٹپکنے لگیں‘ قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی۔
پنجاب اور خیبر پی کے میں بارش نے جو تباہی مچائی سو مچائی‘ لیکن اس بربادی اور نقصان کو کیا کیا جائے جسے غیرعوامی امور حکومت کی ادائیگی میں مصروف حکمرانوں نے دعوت دی‘ اگر کروڑوں اربوں روپے سے بننے والا ایوان صدر اور جمہوریت کی پناہ گاہ قومی ایوان نمائندگان ہی مون سون کی بارش کو اندر کھینچ لایا تو پھر عوام جن کو کالانعام سمجھا جاتا ہے‘ انکے رین بسیروں کا کیا حال ہو گا؟ وہاں تو بارش باہر کے بجائے اندر برسی ہو گی کیونکہ مصاحبِ حکمرانی ہر جگہ انکے تعاقب میں ہے‘ ایوان صدر کے باسی اور پارلیمنٹ ہاﺅس کے ارکان تو کہہ سکتے ہیں....
ہم تو سمجھے تھے کہ برسات میں برسے گی شراب
آئی برسات تو برسات نے دل توڑ دیا
مگر بے چارے عام غریب لوگ نہ گھر میں ٹک سکتے ہیں‘ نہ باہر نکل سکتے ہیں‘ جس ایوان صدر اور پارلیمنٹ ہاﺅس کے ارباب بست و کشاد کی چھتیں ٹپکنے لگی ہیں‘ وہ ان آبشاروں کو کیا روکیں گے جو غریب کی چھت پر گر رہی ہیں۔ یہ دونوں مذکورہ عمارات بھی تو عوام کے خون پسینے سے ہی بنی ہیں‘ اتنی مستی اور سرمستی کہ انکی حفاظت تک نہیں کر سکتے۔ پھر لوگوں کو کون بچائے گا‘ ٹوٹے ہوئے دلوں سے ایک ہی آواز آرہی ہے.... اللہ؟