کراچی .... فوجی آپریشن حل نہیں!

10 اگست 2011
سید منور حسن (امیر جماعت اسلامی پاکستان)
اس وقت چاروں طرف سے یہ تجویز سامنے آرہی ہے کہ کراچی کو فوج کے حوالے کر دیا جائے۔ وہ لوگ بھی اس کا مطالبہ کر رہے ہیں جو کل تک پورے زور و شور سے اس کی مخالفت کرتے تھے۔ کراچی پہلے بھی فوجی آپریشن کے حوالے کیا جا چکا ہے اور مجھے یہ کہنے میں ہرگز کوئی باک نہیں کہ ایک بار پھراسے فوجی آپریشن کے حوالے کرنا ایک اور بنگلہ دیش بنانے کے مترادف ہوگا۔ کراچی پورے ملک کا شہر ہے۔کوئی ضلع ایسا نہیں جس کے سینکڑوں ہزاروں لوگ وہاں پر موجود نہ ہوں۔ ان سب نے مل کر کراچی کو کراچی بنایا ہے،اگر وہ روشنیوں کا شہرکہلایا ہے تو وہ ان سب کی مشترکہ محنتوں کا ثمر ہے۔ملک کے معاشی مرکز کو آگ اور خون کی نذر یا فوجی آپریشن کے حوالے کر دیا جائے تو کوئی چیز سلامت نہیں رہے گی۔ کچھ لوگ شاید علیحدگی کی تحریک کھڑی کر کے کراچی کو جناح پور ، اوربھارت کا دست نگر بنا نے کے مشن پر فائز ہیں۔ یہی لوگ اس وقت ٹارگٹ کلنگ ، قتل و غارت اور املاک کی تباہی میں ملوث ہیں،اورکسی فوجی آپریشن کے نتیجے میں حالات کی خرابی کو دور تک لے جانے کی کوشش کرینگے اور کراچی کی علیحدگی کانعرہ بلند کرینگے۔ پھر کوئی دلیل کارگر نہیں ہوگی اور کوئی بات سننے کیلئے تیار نہیں ہوگا۔ کراچی کے مسئلے کا حل قانون کا نفاذ اور مجرموں کےخلاف بلا امتیاز کارروائی ہے‘ اگر حکمران سنجیدگی کا مظاہرہ کریں، پولیس کو بااختیار بنایا جائے اور اس کی صفوں سے سیاسی کارندے نکال دئیے جائیں تو پولیس شہر کراچی میں امن قائم کر سکتی ہے۔
فوجی آپریشنوں کی اپنی ایک تاریخ ہے۔ صرف پاکستان میں نہیں بلکہ پوری دنیامیں فوجی آپریشن کا یہی تجربہ اور یہی نتیجہ ہے کہ طاقت اور بندوق کے زور پر لوگوں کو زیر نہیں کیا جاسکتا۔ اپنے عوام کے مقابل فوجی کارروائی میں کسی کو کامیابی حاصل ہوئی ہے نہ عوامی تائید ملی ہے۔ فوجی آپریشن اندھا ہوتا ہے، اس سے نفرتیں اور شکایتیں بڑھتی ہیں اور دوریاں جنم لیتی ہیں۔ پاکستان کی تاریخ بھی فوجی آپریشنوں سے بھری پڑی ہے۔ مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن ہوا تو ملک کا جغرافیہ ہی بدل گیا۔مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا اور 90ہزار فوجیوں کو ہتھیار ڈالنے پڑے ۔ مسلم تاریخ میں کبھی اتنی بڑی تعداد میں فوجیوں نے سرنڈر نہیں کیا۔
مسلمان غازی ہوتا ہے یاشہید۔غازی ہتھیار نہیں ڈالتا، شہید اپنے خون کا نذرانہ پیش کرتا ہے، ہتھیار ڈالنے کا کوئی تصور نہیں ہوتا۔ڈھاکہ میں معلوم ہوا کہ غازی نہ شہید،یہ تو بس ”فوجی“ ہے ، ذہنی طور پر سیکولر اور اللہ اور اس کے رسول کی تعلیمات اور مسلم تاریخ سے ناواقف۔مشرقی پاکستان کی علیحدگی سیاستدانوں کی ہوس اقتدار کے ساتھ اس غیر منصفانہ فوجی آپریشن کا نتیجہ تھی جس کا کوئی جواز اور ناگزیر ضرورت نہیں تھی۔
بلوچستان میں اس وقت پانچواں ملٹری آپریشن جاری ہے۔ چار فوجی آپریشن ناکام ہوئے ہیں، جبھی تو پانچواں شروع ہواہے۔ ان آپریشنوں کا نتیجہ یہ ہے کہ آج بلوچستان میں وفاق کا نام لینا مشکل ہوگیا ہے۔پورا صوبہ شدید بدامنی کی لپیٹ میں ہے۔ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ اور بلوچ علاقے قتل گاہ کا منظر پیش کررہے ہےں اورکسی کی جان و مال اور عزت و آبرو محفوظ نہیں ہے۔ٹارگٹ کلنگ اور اغوا کاری روزانہ کامعمول ہے۔ لاپتہ افراد اور مسخ شدہ لاشیں بلوچستان کاحوالہ بن گئی ہیں۔ بلوچ عوام وفاق کے اداروں سے نالاں جبکہ علیحدگی پسند عناصرسرکاری دفاتر اور فوجی قلعوں میں قومی پرچم لہرانے پر معترض ہیں،تعلیمی اداروں میں قومی ترانہ پڑھنا ان کو منظور نہیں، پاکستان کے خلاف نعرے درودیوار پر نظر آتے ہیں ، تعلیمی اداروں میں پاکستان کے متعلق کوئی مضمون نہیں پڑھایا جاسکتا۔
خیبر پختونخوا اور فاٹا میں فوجی آپریشن اب تک جاری ہے، اور اس کے نتائج قوم کے سامنے ہیں۔ ہم نے بارہا مطالبہ کیا ہے کہ ایک بیلنس شیٹ پارلیمنٹ اور قوم کے سامنے پیش کی جائے اور فلور آف دی ہاﺅس پر وزیر اعظم بیان کرےں کہ جمہوری اور عوامی حکومت کی دعویداری کے باوجود فوجی آپریشن کی پالیسی کیوں جاری ہے اور اب تک سوائے معصوم اور بے گناہ لوگوں کی جانوں کے ضیاع اور گھروں کو مسمار کرکے مٹی کا ڈھیر بنا دینے کے اس کا کیا فائدہ ہواہے۔اور ملک کے اندر جتنے فوجی آپریشن ہوئے ہیں، ان میں سے کس آپریشن کو کامیاب اور نتیجہ خیزقرار دیا جا سکتا ہے۔
پاکستان کے اندر طالبان کے نام سے ان گنت گروپ موجود ہیں۔ہمیں نہیں معلوم کہ کون کیا ہے اور کس کے اشارے پر کام کر رہا ہے ۔لیکن ایک بات بالکل واضح ہے کہ افغانستان کے طالبان نے فقر اور درویشی کی حکومت قائم کرکے افغان معاشرے کو جرائم سے پاک کردیا تھا، وار لارڈز سے اسلحہ واپس لے لیا تھاجو اس سے پہلے افغانستان کی تاریخ میں کبھی نہیں ہواتھا۔ اور پوست کی کاشت کو ایک حکم سے ختم کردیا تھا ۔ پاکستان دوست اور بھارت دشمن اس حکومت کوایک ڈکٹیٹر نے امریکہ کے ساتھ مل کر تہس نہس کر دیا۔ امریکہ کو لاجسٹک سپورٹ فراہم کی،ائیربیس دیے اورپھر ایک لاکھ سے زیادہ فوجی بھی اس جنگ میں جھونک دئیے۔
طالبان نے افغانستان میں مزاحمت کی اور پاکستان میں تب تک کچھ نہیں ہوا جب تک فاٹامیں ایک لاکھ فوج نہیں بھیجی گئی جہاں سے قائد اعظم نے اسے واپس بلالیا تھا۔ دہشت گردی کے نام پرجنگ تو2001ءمیں شروع ہوگئی تھی مگر پاکستان میں 2006ءسے پہلے کوئی خودکش حملہ ہوانہ کہیں دھماکے ہوئے اور نہ کوئی انتہاپسندی اور دہشت گردی کی بات ہوئی۔جب اسلحہ بارود اور حکومت کے سارے وسائل کسی کے خلاف استعمال کیے جائیںتو متاثرین کے پاس آخری آپشن وہی رہ جاتاہے جسے انتہاپسندی اور دہشت گردی کانام دیا جارہاہے۔یوں بھی کہا جاتا ہے کہ دہشت گردی کمزور کا ہتھیار ہے۔ دہشت گردی کے اسباب و علل پر بات اوران کا سدباب کیے بغیرصرف وعظ ونصیحت اور تلقین سے دہشت گردی کو ختم نہیں کیا جاسکتا ہے۔
طاقت کے تمام تر استعمال کے باوجود افغانستان میںطالبان کو ختم نہیں کیا جا سکا۔ دس سال گزرنے کے بعد امریکہ کو اس عالم میں اپنا بوریا بستر گول کر نا پڑ رہا ہے کہ اس کی معیشت آخری سانسیں لے رہی ہے اور وہ طالبان سے مذاکرات کی بھیک مانگ رہا ہے۔ اس کے لیے طالبان رہنماﺅں کے نام عالمی دہشت گردوں کی فہرست سے نکال دئیے گئے ہیں اور اقوام متحدہ سے اس کا اعلان کروایا گیا ہے ۔
پارلیمنٹ کی دو مختلف قراردادوں میںپاکستان کی خارجہ پالیسی تبدیل کرنے اور فاٹا سے فوج کی واپسی اور مذاکرات کی میز بچھانے کا عندیہ دیا گیا تھا۔ اب تک ان قراردادوں پر عملدرآمد نہیںہوسکاہے اور حکومت اس کی کوئی وجہ قوم کو نہیں بتا سکی ہے۔ بدلتی صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے آزاد خارجہ پالیسی تشکیل دینا، دہشت گردی کی جنگ سے الگ ہوجانا،اور خیبر پختونخوا، فاٹا اور بلوچستان میں فوجی آپریشن کو فی الفور ختم کردینا وقت اور حالات کا تقاضا ہے۔