A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined index: category_data

Filename: frontend_ver3/Templating_engine.php

Line Number: 35

کور کمانڈرز کانفرنس میں کراچی کی صورتحال پر اظہار تشویش.... امن و امان کی بحالی کو افواج پاکستان کی مجبوری نہ بنایا جائے

10 اگست 2011
آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی زیر صدارت منعقدہ 141ویں کور کمانڈرز کانفرنس میں گزشتہ روز کراچی کی امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ کراچی کے حالات کے منفی معاشی اثرات ہو سکتے ہیں اور اس سے دہشت گردی کیخلاف جنگ بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ جی ایچ کیو راولپنڈی میں منعقد ہونےوالی اس کورکمانڈرز کانفرنس میں ایک سینئر فوجی اہلکار کے بقول اس معاملہ پر بھی تشویش ظاہر کی گئی کہ ملک کے معاشی دارالحکومت کراچی کی ناامید افزاءصورتحال انتہاءپسندوں کیخلاف حکومت کی قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی مالی امداد کی محدود صلاحیت کو بھی متاثر کریگی۔ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق کانفرنس میں توقع ظاہر کی گئی کہ حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے حالیہ اقدامات کے باعث کراچی میں صورتحال کی بہتری میں مدد ملے گی۔ کانفرنس میں ملک کی مجموعی سیکورٹی کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا اور افغانستان سے سرحد پار دراندازی سمیت دیگر معاملات پر تبادلہ¿ خیال کیا گیا۔
بالخصوص گزشتہ دو سال سے عروس البلاد کراچی کو بدامنی اور لاقانونیت کی طرف دھکیلنے کا جو افسوسناک سلسلہ جاری ہے‘ جس میں ماضی قریب میں حکومتی اتحادی پیپلز پارٹی‘ ایم کیو ایم (متحدہ) اور اے این پی کے لیڈران ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہراتے رہے ہیں‘ ملک کی ترقی و سلامتی کیلئے نیک شگون ہرگز نہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ ملک کی واحد بندرگاہ ہونے کے ناطے کراچی ایک بین الاقوامی شہر کی حیثیت بھی رکھتا ہے جس پر تجارت اور برآمدات کو فروغ دینے کا بھی دارومدار ہے اور صنعتی ترقی کا پہیہ بھی کراچی میں امن و امان کی بہتر صورتحال میں ہی سبک خرام ہو سکتا ہے مگر قومی اور بین الاقوامی سطح پر کراچی کی اس اہمیت کو دانستہ یا نادانستہ نظرانداز کرتے ہوئے کسی مخصوص ایجنڈے کے تحت اس شہر کو آگ اور خون کے کھیل کی نذر کیا جا رہا ہے اور گزشتہ دو ماہ سے یہاں اس بے دردی کے ساتھ انسانی قتل عام اور نجی و قومی املاک کو جلانے‘ تباہ کرنے کا سلسلہ جاری ہے کہ مہذب انسانی معاشرے کے آثار ہی ختم ہوتے نظر آرہے ہیں۔ گزشتہ دو ماہ کے دوران کراچی کے مختلف علاقوں میں اندھا دھند فائرنگ اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں دو سو سے زیادہ افراد کی قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں اور یہ افسوسناک سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ گزشتہ روز بھی گلستان جوہر اور گلشن اقبال کے علاقوں میں مسلح افراد کی اندھا دھند فائرنگ سے سات افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے جبکہ فائرنگ کے یہ واقعات اس وقت رونما ہوئے جب وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کراچی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے یہ اعلان کر رہے تھے کہ کراچی میں آئندہ جس گھر سے فائرنگ ہو گی‘ اسے مسمار کر دیا جائیگا اور 31 اگست کے بعد پرانے اسلحہ لائسنس قبول نہیں کئے جائینگے۔ وہ ناجائز اسلحہ رکھنے اور استعمال کرنے پر ممکنہ سخت سزاﺅں کی تفصیلات بھی بتا رہے تھے مگر شرپسندوں کی جانب سے بے دریغ فائرنگ کرکے انکے اعلانات کے اثرات موقع پر ہی زائل کئے جا رہے تھے۔
اگرچہ کور کمانڈرز کانفرنس میں اس حوالے سے اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے کہ حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے حالیہ اقدامات کے باعث کراچی کی صورتحال میں بہتری پیدا ہونے لگے گی تاہم کراچی میں امن و امان کو کنٹرول کرنے کیلئے وفاقی اور صوبائی حکومت کی جانب سے اٹھایا گیا کوئی بھی اقدام اب تک مو¿ثر ثابت نہیں ہو سکا اور بادی النظر میں یہی محسوس ہوتا ہے کہ اپنی مفاہمتی سیاست کی بنیاد پر حکومت جو بھی فیصلہ کرتی ہے‘ اسکے ردعمل میں کراچی مزید بدامنی کی لپیٹ میں آجاتا ہے۔
اگر کراچی میں امن و امان کو بحال کرنے کیلئے کئے جانیوالے حکومتی اقدامات میں کوئی اخلاص یا تاثیر ہوتی تو کراچی کے جو حالات ایم کیو ایم متحدہ کی وفاقی اور صوبائی حکومت سے علیحدگی کے بعد خراب ہوئے تھے‘ وہ گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کی واپسی اور پھر ایم کیو ایم کی پیپلز پارٹی کے ساتھ دوبارہ مفاہمت کی بنیاد پر فوراً سدھر جانے چاہئیں تھے مگر نتیجہ اسکے قطعی برعکس سامنے آیا۔ گورنر سندھ کی واپسی کے بعد تو کراچی میں اندھا دھند فائرنگ اور لوگوں کو چن چن کر قتل کرنے کے واقعات میں مزید اضافہ ہو گیا جبکہ اب مشرف کے لاگو کردہ بلدیاتی نظام کی بحالی کیلئے پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم (متحدہ) کا باہمی اتفاق رائے سامنے آتے ہی سندھی قوم پرست جماعتوں نے پورے سندھ میں پہیہ جام اور شٹر ڈاﺅن ہڑتال شروع کر دی ہے جس کے دوران گزشتہ روز کراچی‘ حیدرآباد اور سندھ کے دوسرے شہروں میں گھیراﺅ جلاﺅ اور فائرنگ کے بھی متعدد واقعات رونما ہوئے اور وفاقی وزیر قانون مولابخش چانڈیو اور پیپلز پارٹی سندھ کی رہنماءسسی پلیجو کے گھروں کا گھیراﺅ بھی کیا گیا۔ اگر یہ تحریک اپنے متعینہ شیڈول کے مطابق مزید 12 روز تک جاری رہتی ہے تو جس طرح اس تحریک میں تشدد کا عنصر غالب آرہا ہے‘ صرف کراچی اور سندھ کے دوسرے شہروں میں ہی نہیں‘ اس تحریک کے پورے ملک پر منفی اثرات مرتب ہونگے جبکہ کراچی کے حالات تو مزید خراب ہو سکتے ہیں۔
ملک کی سالمیت کو درپیش بیرونی خطرات کے ساتھ ساتھ داخلی بدامنی اور شورشوں پر قابو پانا بھی آئینی تقاضے کے تحت ملک کی مسلح افواج کی ذمہ داری بنتی ہے۔ ملک کے کسی حصے میں بدامنی پر قابو پانے کیلئے مسلح افواج کا کردار سول حکومت کے احکام کے تابع ہوتا ہے جبکہ گزشتہ ہفتے قومی اسمبلی میں ایک قرارداد کے ذریعے حکمران پیپلز پارٹی ہی نہیں‘ حکومتی اتحادی دوسری جماعتوں اور مسلم لیگ (ن) سمیت اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے بھی کراچی کو ایک ماہ کیلئے فوج کے حوالے کرنے کی سفارش کی جا چکی ہے۔ ایم کیو ایم (متحدہ) کے قائد الطاف حسین تو لندن سے اپنے ٹیلی فونک خطبات کے دوران مسلح افواج کو براہ راست دعوت دے چکے ہیں کہ وہ کراچی میں اپنا کردار شروع کر دے۔ اگر کراچی کے حالات پر ملک کا ہر شہری مضطرب و پریشان ہے تو افواج پاکستان کی صفوں میں کیوں اضطراب نہیں ہو گا؟ کورکمانڈرز کانفرنس میں یقیناً اسی تناظر میں کراچی میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اس لئے اگر سول حکومت اور اسکے ماتحت انتظامی مشینری کراچی میں قیام امن میں ناکام رہتی ہے جس کے آثار بھی نظر آرہے ہیں‘ تو جلد یا بدیر بالآخر ملک کی مسلح افواج کو ہی کراچی میں قیام امن کی خاطر اپنا کردار ادا کرنا ہو گا‘ اس لئے حکومت کی تو یہ ہر ممکن کوشش ہونی چاہیے کہ وہ خود ہی کراچی کو امن و امان کا گہوارہ بنا دے تاکہ افواج پاکستان کو سول حکومت کی اس ذمہ داری میں بادل نخواستہ مداخلت کی زحمت نہ اٹھانا پڑے مگر حکومت اور اسکے اتحادیوں کی منافقانہ مفاہمانہ پالیسیوں کی روشنی میں کراچی کے معاملات خوش اسلوبی سے طے ہونا تو کجا‘ مزید خراب ہوتے نظر آرہے ہیں جبکہ اس ابتر صورتحال کے ملکی اور قومی معیشت اور صنعت و تجارت پر بھی انتہائی برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
اس فضا میں وطن عزیز جو پہلے ہی اپنی سالمیت کے حوالے سے بے شمار اندرونی و بیرونی خطرات کی زد میں ہے‘ کراچی کی بدامنی کا کب تک متحمل ہو سکتا ہے جبکہ یہ واضح اور ٹھوس شواہد بھی موجود ہیں کہ کراچی کے حالات کی خرابی میں امریکہ‘ بھارت اور اسرائیل کی ایجنسیوں کا عمل دخل ہے جو پاکستان کی سالمیت کو پارہ پارہ کرنے کے درپے ہیں۔ اس تناظر میں اگر کراچی میں جاری بدامنی پر فوری قابو نہ پایا گیا تو ملک دشمن عناصر کو ان حالات سے فائدہ اٹھا کر ملک کی سالمیت کیخلاف اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کا نادر موقع ملے گا‘ اس لئے بہتر یہی ہے وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کی جانب سے کراچی کے حالات کی بہتری کیلئے کئے گئے اعلانات کو فی الفور عملی جامہ پہنایا جائے اور امن و امان کو کنٹرول کرنے میں حکومت کی ناکامی کا کوئی تاثر پیدا نہ ہونے دیا جائے‘ بصورت دیگر کور کمانڈرز کانفرنس میں افواج پاکستان کی جانب سے کراچی کے حالات پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے تو حالات کو درست کرنا اور امن و امان کو بحال کرنا بھی اسی کی ذمہ داری بن جائیگی۔ ایک دوسرے کے ساتھ مفاہمانہ سیاست کھیلنے والے محترم سیاسی قائدین کو پھر سوچ لینا چاہیے کہ امن و امان کی بحالی کیلئے کراچی میں افواج پاکستان کا کردار شروع ہوا تو یہ کہاں تک جائیگا۔
ملک نئے صوبوں کے قیام کا
متحمل نہیں ہو سکتا
میاں نواز شریف کی صدارت میں ہونیوالے اجلاس کے دوران ملک میں نئے صوبوں کی تشکیل کی مشروط حمایت کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) نے اس مقصد کیلئے قومی کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا ہے۔ لسانی اور علاقائی بنیاد پر تقسیم کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تمام جماعتوں کی مشاورت سے آبادی رقبے‘ وسائل‘ آمدنی کے ذرائع اور دیگر امور پر مبنی وسیع البنیاد فارمولا وضع کیا جائے جس کا اطلاق پورے ملک پر ہو۔
پیپلز پارٹی (ق) لیگ اور (ن) لیگ کے جاوید ہاشمی جیسے رہنما سرائیکی صوبہ کے قیام کا تذکرہ بڑے زور و شور سے کر رہے ہیں۔ پنجاب کو چار حصوں میں تقسیم کرنے کی بات بھی ہو رہی ہے‘ اس پر ردعمل میں مسلم لیگ (ن) کا مو¿قف بطور قومی جماعت درست نہیں کہ باقی صوبوں کی تقسیم کی بات کیوں نہیں ہو رہی اور نئے صوبوں کے قیام کیلئے کمیشن کی تشکیل کا اعادہ تو بے وقت کی راگنی ہے۔ سرائیکی صوبے کے قیام کا ابال محض الیکشن سٹنٹ ہے۔ الیکشن تک ابال درجہ کھولاﺅ تک جا پہنچے گا۔ اسکے بعد اگلے الیکشن قریب آنے تک ووٹر شناس رہنماﺅں کے جذبات سرد پڑ جائینگے۔ مسلم لیگ (ن) نے بھی شاید نئی تجویز اگلے الیکشن کے پیش نظر ہی دی ہے۔ ہر پارٹی اور اسکے رہنماﺅں کو ملکی معیشت کی زبوں حالی کا پوری طرح علم ہے اسکے باوجود نئے صوبوں کی تشکیل کیلئے سرگرمیوں کو سیاسی مفاد کا حصول قرار نہیں دیا جائیگا تو اور کیا کہا جائیگا۔ الیکشن میں کامیابی کیلئے عوام کو بھوک‘ ننگ اور مہنگائی ختم کرکے اپنی کارکردگی سے متاثر کریں نہ کہ نعرہ بازی‘ لسانیت اور علاقائیت کو ہوا دیکر۔ موجودہ حالات میں ملک اور کوئی بھی صوبہ تقسیم کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اگر کہیں پسماندگی اور پستی کی شکایت ہے تو اسے رفع کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
یورپی ارکان پارلیمنٹ کی
مسئلہ کشمیر کی حمایت
یورپی پارلیمنٹ کے ارکان داﺅد باﺅ، مسٹر کرپس اور مس کیھترین نے گزشتہ روز پیرس میں ایک تقریب کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت ایٹمی طاقتیں ہیں لہٰذا دنیا کے امن کیلئے مسئلہ کشمیر کا حل ہونا ضروری ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ یورپی پارلیمنٹ خطے میں امن کیلئے آزاد کشمیر کی حکومت کے ساتھ ہر قسم کا تعاون جاری رکھے گی اور کشمیریوں کو اُن کے حقوق دلانے اور رائے عامہ ہموار کرنے کیلئے باقاعدہ کانفرنسوں کا انعقاد کرے گی۔مذکورہ ارکان یورپی پارلیمنٹ نے بلا شبہ مسئلہ کشمیر کی سنگینی کا صحیح ادراک کیا ہے کہ کسی ایسے مسئلہ کا حل نہ ہونا جس کے فریقین ایٹمی طاقت ہوں، عالمی امن کیلئے سخت خطرے کا باعث ہے ،بہر حال یہ امر کسی سے پوشیدہ نہیں کہ اگر یہ مسئلہ آج تک حل نہیں ہوسکا تو اس کی بڑی وجہ صرف بھارت کی ہٹ دھرمی ہے جبکہ ان عالمی طاقتوں نے جنہوں نے مسلم دشمنی کے باعث کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلانے میں دلچسپی نہیں لی‘ درپردہ حق و انصاف کے بجائے بھارت کی پشت پناہی کی ہے ورنہ امریکہ، برطانیہ اور اس کے دیگر سرپرست(یعنی ماضی کا سوویٹ یونین) بھارت کو کشمیر بارے عالمی اداروں کی قرار دادوں پر عمل پر مجبور کرتے تو یہ مسئلہ کب کا حل ہوچکا ہوتا اور آج دنیا بھر کے امن اور انصاف پسند با ضمیر لوگوں کو یہ خوف نہ ہوتا کہ دو ایٹمی ملکوں کے درمیان 64 برس سے معلق مسئلہ کشمیر کسی وقت بھی عالمی امن کیلئے خطر ناک ثابت ہوسکتا ہے،ارکان یورپی پارلیمنٹ کے اس حالیہ بیان کے تناظر میں پاکستان کو بھی مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے اپنا کردارادا کرناچاہیے، خاموش نہیں بیٹھناچاہئے اور عالمی سطح پر اُن تمام عناصر کو یکجا کرناچاہئے جو عالمی امن اور حق و انصاف کی سربلندی کے خواہاں ہوں اور جن کے ضمیر زندہ ہیں جو کشمیریوں پر مظالم اور ان کے حقوق کو بھارت کے ہاتھوں غصب ہوتا نہیں دیکھ سکتے۔
بجلی کی بدترین لوڈ شیڈنگ کا خدشہ
ملک میں انڈی پینڈنٹ پاور پر وڈیوسرز (آئی پی پیز) نے حکومت کو دھمکی دی ہے کہ اگر پیپکو نے ان کے 150 ارب روپے کے واجبات ادا نہ کیے تو آئندہ سات سے دس روز میں بجلی کی فراہمی روک دی جائے گی۔ اگرچہ پیپکو کے ذمے 210 ارب روپے واجب الادا ہیں لیکن آئی پی پیز نے 150 ارب کی ادائیگی کیلئے کہا ہے۔
آئی پی پیز سات ہزار سات سو میگا واٹ بجلی پیدا کر رہے ہیں جو کل پیداوار کا نصف ہے۔ عوام کو پہلے ہی بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے۔ بعض علاقوں میں بارہ سے سولہ گھنٹے تک بھی بجلی بند رہتی ہے۔ اگر آئی پی پیز اپنی دھمکی پر عمل کر گزر یں تو قوم ختم نہ ہونےوالے اندھیروں میں ڈوب جائے گی۔ موجودہ حکومت نے دو سو ارب روپے کے رینٹل پاور پلانٹ خریدے لیکن بجلی کی مزید قلت ہو گئی۔ آج سرکاری پیداواری یونٹ کہیں تیل کی کمی کے باعث بند پڑے ہیں کہیں خراب ہیں تو ان کی مرمت نہیں کرائی جا رہی ۔ اوپر سے جو نجی ادارے تسلسل کے ساتھ بجلی پیدا کر رہے ہیں ان کو بروقت ادائیگی نہیں کی جا رہی۔ پیپکو میں کرپشن اور سیاسی مداخلت کی رپورٹیں منظر عام پر آتی رہتی ہیں۔ اس پر قابو پانے اور کرپٹ عناصر کا کڑا احتساب کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت آئی پی پیز کے مطالبے کو محض روایتی دھمکی سمجھ کر نظر انداز نہ کرے۔ وہ دباﺅپر شاید چند دن مزید بجلی پیدا اور فراہم کرتے رہیں۔ لیکن اپنے پاس سے اربوں کے اخراجات کب تک برداشت کر سکتے ہیں۔ حکومت بجلی کی کمی کی صورت میں عوام پر ایک اور عذاب اور آفت سے بچانے کیلئے بر وقت اقدام کرے۔