لاہور ہائی کورٹ نے آرٹیکل باسٹھ اورتریسٹھ کےمطابق امیدواروں کےکاغذات کی جانچ پڑتال سے متعلق عدالتی معاونین اور فریقوں کو کل طلب کرلیا

10 اپریل 2013 (20:52)

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس اعجازالاحسن کی سربراہی میں تین رکنی فل بنچ نے کیس کی سماعت کی ،عدالتی معاون شہزاد شوکت نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ کوبنیاد بنا کر امیدواروں کی ذاتی زندگی کو زیر بحث نہیں لایاجا سکتا،اس حوالے سے امیدوار کا بیان حلفی جمع کرانا اور ریٹرننگ افسران کی جانب سے انکوائری کے ذریعے اطمینان کر لینا کافی ہے،عدالتی معاون بلال منٹو نے کہا کہ آمروں نے آئین کی اصل شکل کو بگاڑ ڈالا اور اپنی مرضی کی شقیں شامل کیں،انہوں نے کہا کہ ریٹرننگ افسران کو کسی بھی آرٹیکل کی تشریح کا کوئی اختیار نہیں،جس پر فل بنچ کے سربراہ جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی امیدوار اپنا غلط بیان حلفی جمع کرا دے تو ریٹرننگ افسر اس بات کا کیسے اطمینان کرئے گا۔جسٹس سید منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کو آگاہ کیا جائے کہ ریٹرننگ افسران کو سمری انکوائری کرنے کا کس حد تک اختیار حاصل ہے۔عدالتی وقت ختم ہونے کی بناءپر کیس کی مزید سماعت گیارہ اپریل تک ملتوی کر دی گئی۔فل بنچ نے آئین کے آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ کے مطابق امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت گیارہ اپریل تک ملتوی کر دی۔عدالت نے عدالتی معاونین اورفریقین کے وکلاءکو مزید بحث کے لئے طلب کر لیا