پاکستانی اور امریکی عوام کے نظریات ایک جیسے ہیں: امریکی رکن کانگرس

10 اپریل 2013

واشنگٹن (آن لائن) ا مریکی رکن کا نگرس گریگوری میکس نے کہا ہے کہ پا کستا ن اور امریکی عوا م کے نظریا ت اور خیا لا ت ایک جیسے ہیں ۔ دونوں چاہتے ہیں کہ دنیا میں امن قائم ہوتاکہ ان کے بچوں کو تعلیم، صحت اور جدید دور کی سہولتوں تک رسائی حاصل ہو۔ انہیں روزگار کے بہتر مواقع مل سکیں اور وہ اپنا مستقبل سنوار سکیں۔ امریکی ٹی وی کو دیئے گئے ایک انٹر ویو میں ان کا کہناتھا کہ مجھے پاکستان جا کر یہ احساس ہوا کہ انسان کی جلد کی رنگت مختلف ہوسکتی ہے۔ ان کا مذہب اور عقائد مختلف ہوسکتے ہیں ۔ زبان مختلف ہوسکتی ہے، لیکن دل سب کے ایک جیسے ہوتے ہیں ۔ امن اور ترقی سے محبت کرنے والے۔ انہو ں نے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا اکثر اوقات وہاں سے انتہاپسند لوگوں کو چن کر، جن کی تعداد انتہائی کم ہے، پاکستان کے چہرے کے طورپر دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے۔ اور یہ بھول جاتا ہے کہ انتہاپسند دنیا کے کس ملک اور معاشرے میں نہیں ہوتے۔پاکستانیوں کی اکثریت دنیا کے دوسرے ممالک کے عوام کی طرح سوچتی اور اپنی زندگی گذارتی ہے۔آئندہ کے چند برس جنوبی ایشیا کے اس خطے کے لیے بڑے اہم ہیں ۔ امریکہ اور اس کے اتحادی افغانستان سے اپنے فوجیوں کے انخلا کی تیاری کررہے ہیں اوردوسری کئی طاقتیں علاقے میں اپنا سیاسی اور معاشی اثرورسوخ بڑھانے کی کوششیں بڑھا رہی ہیں ۔ خطے کی تبدیل ہوتی ہوئی صورتحال سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کانگرس مین میکس کا کہناتھا کہ انہیں توقع ہے پاکستان کے عوام اپنے ووٹ کے ذریعے آزاد اور پرامن ماحول میں اپنی پسند کے رہنما منتخب کریں گے، شفاف اور پرامن انتخابات کے انعقاد میں امریکہ ان کی مدد کرےگا۔ افغانستان تبدیلی کے عمل سے گذر رہاہے اور اب وقت آگیا کہ ہم وہاں سے اپنی فوجیں نکال لیں اور افغان عوام کو اپنے پاو¿ں پر کھڑا ہونے، اپنے لیڈر چننے اور اپنے تئیں آگے بڑھنے کا موقع دیں۔

آئین سے زیادتی

چلو ایک دن آئین سے سنگین زیادتی کے ملزم کو بھی چار بار نہیں تو ایک بار سزائے ...