حج کرپشن کیس: گیلانی‘ وزارت قانون کو نوٹس‘ استثنیٰ عہدے پر موجود شخصیت کو ہوتا ہے: چیف جسٹس

10 اپریل 2013
حج کرپشن کیس: گیلانی‘ وزارت قانون کو نوٹس‘ استثنیٰ عہدے پر موجود شخصیت کو ہوتا ہے: چیف جسٹس

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت) سپریم کورٹ نے حج کرپشن کیس میں حسین اصغر کو سابق وزیراعظم گیلانی کے خلاف تفتیش سے روکنے کا خط لکھنے پر وزارت قانون کو نوٹس جاری کرتے ہوئے وضاحت طلب کرلی، عدالت نے یوسف رضاگیلانی اور اٹارنی جنرل کو بھی نوٹس جاری کردیا جبکہ نگران وزیر داخلہ کو ہدایت کی گئی کہ ملزم احمد فیض کی حوالگی کےلئے سعودی وزارت داخلہ سے رابطہ کریں، دوران سماعت چیف جسٹس نے کہاکہ عہدے سے ہٹنے کے بعد کسی کو استثنیٰ حاصل نہیں ہوتا ۔ ایف آئی اے کے تفتیشی افسر حسین اصغر نے عدالت کو بتایاکہ حج کرپشن معاملے میں شواہد حاصل کئے ہیں اور کئی گواہ بھی موجود ہیں تاہم رقم اکاﺅنٹ کے بجائے کیش میں دی گئی ۔ تفتیشی افسر کا کہنا تھاکہ ملزمان کے اثاثوں میں اسی عرصے کے دوران ڈرامائی اضافہ ہوا جس وقت حج سکینڈل سامنے آیا۔ جسٹس عظمت نے سوال کیا کہ اکاﺅنٹ کس وقت کھولے گئے اور پیسہ کب منتقل ہوا؟۔ حسین اصغر نے کہاکہ یہ سب اسی دوران ہوا جب کرپشن کا یہ کیس منظر عام پر آیا، تفتیشی افسر کا کہنا تھاکہ برطانیہ سے رقم مقامی اکاﺅنٹس میں منتقل ہوئی اور ملتان میں زمین خریدی گئی، اس کیلئے بینک سے اور کیش ادائیگی کی گئی ہے ، حسین اصغر کا کہنا تھا کہ تمام رقوم کی یہ منتقلی 2009ء اور 2010ءکے دوران ہوئی، تفتیشی افسر نے کہا کہ کیس اب آخری مراحل میں ہے ، چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ مقدمہ اپنے منطقی انجام کی جانب بڑھ رہا ہے ، حسین اصغر نے کہا کہ اسلام آباد میں اس حوالے سے نئی عدالت کا قیام ہوا ہے جس کی وجہ سے تاخیر ہو رہی ہے ، چیف جسٹس نے کہا کہ اسلام آباد میں اس عدالت کے قیام کےلئے سپریم کورٹ نے ہدایت کی تھی۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا احمد فیض اہم ملزم ہے ، اس کو گرفتار کیوں نہیں کیا گیا، حسین اصغر نے کہا کہ وہ مڈل مین ہے ، جس نے رقم لی اور آگے پہنچائی، اس کا اور اس کے اہلخانہ کا پاسپورٹ کینسل ہو چکا ہے ، تفتیشی افسر نے بتایا کہ دو ملزمان زین سکھیرا اور نجیب ملک کے خلاف چالان پیش ہوا، فرد جرم عائد ہو چکی، لیکن وہ ضمانت پر ہیں، حسین اصغر نے بتایا کہ سابق وزیر مذہبی امور حامد سعید کاظمی بھی ضمانت پر ہیں، تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ گیلانی کا بھی اس معاملے میں کردار ہے کیونکہ ڈی جی حج راﺅ شکیل کو انہوں نے لگایا تھا، تاہم وزارت قانون نے ایک خط لکھ کر ان کے خلاف کارروائی سے روک دیا ہے ، چیف جسٹس نے پوچھا کہ وزارت قانون نے کیا خط لکھا ہے ، حسین اصغر نے بتایا کہ یکم مارچ کو وزارت قانون کی جانب سے مجھے لکھے خط میں کہا گیا ہے کہ یوسف رضا گیلانی کو بطور سابق وزیر اعظم آئین کے آرٹیکل 48کے تحت استثنیٰ حاصل ہے اور وہ کسی عدالت کو جوابدہ نہیں، جسٹس گلزار نے کہا کہ جب وہ وزیراعظم نہیں رہے تو کوئی استثنیٰ نہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ استثنیٰ اس وقت تک ہوتا ہے جب کوئی شخص وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہو۔