بھگت سنگھ کا مقدمہ ری اوپن کرنے کےلئے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر

10 اپریل 2013

لاہور (وقائع نگار خصوصی) لاہور ہائیکورٹ میں بھگت سنگھ کے مقدمہ کو ری اوپن کرنے کے لئے رٹ درخواست دائر کر دی گئی۔ جس کی سماعت ہونے کا امکان ہے۔ بھگت سنگھ میموریل فاﺅنڈیشن کے چیئرمین امتیاز رشید قریشی کی طرف سے بیرسٹر ڈاکٹر فاروق حسن کے توسط سے دائر رٹ میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ بھگت سنگھ برصغیر کی آزادی کا حریت پسند تھا۔ آزادی کی تحریک کی پاداش میں اسے پہلے عمرقید اور پھر سزائے موت سنائی گئی۔ درحقیقت 1930 میں بھگت سنگھ کو ایک جھوٹے مقدمے میں غلط طور پر ملوث کیا گیا۔ گورنر جنرل پنجاب نے ایک آرڈیننس جاری کرکے ٹربیونل تشکیل دیا۔ آرڈیننس کی مدت 4 ماہ تھی۔ جب یہ مدت ختم ہونے میں صرف چھ روز باقی تھے تو مقدمہ کی سماعت کا آغاز ہوا۔ 450 گواہان کو گواہی کا حق استعمال کرنے ہی نہیں دیا گیا۔ اس کے علاوہ جرح اور بحث بھی نہیں ہوئی۔ قانونی بددیانتی کی اس سے بڑی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ نے سینٹرل اسمبلی میں بھگت سنگھ کو دوبارہ خراج تحسین پیش کیا۔