نصاب میں ہندو مت کی تعلیمات شامل کرنا اکھنڈ بھارت کی راہ ہموار کرنا ہے: مذہبی جماعتیں

10 اپریل 2013

 لاہور (خصوصی نامہ نگار) مذہبی و سیاسی جماعتوں کے قائدین، طلباءو اساتذہ تنظیموں اور ماہرین تعلیم نے محکمہ تعلیم پنجاب کے ترجمان کی طرف سے دئیے گئے اس بیان کہ” نئی نصابی کتب میں اسلام اور پاکستان کو مرکزی حیثیت حاصل ہے “ پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے عذر گناہ بدتر از گناہ کے مترادف قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ تعلیمی نصاب میں ہندو مت کی تعلیمات شامل کرنا نوجوان نسل کو قرآن وسنت سے دور اور اکھنڈ بھارت کی راہ ہموار کرنا ہے۔ محکمہ تعلیم کے ترجمان بتائیں کیا انہوںنے ششم کلاس کے نصاب میں چندر گپت موریا کا کردار، اشوک، گپت حکومت کا قیام، سمدر گپت، گپت عہد میں ہندو مت کا احیا، گپت خاندان کے آخری حکمران ہندوستان کی وحدت میں راجا ہرش کا کردار، بدھ مت اور جین مت جیسے اور کئی مضامیں شامل نہیں کئے۔ کلمہ طیبہ کے نام پر حاصل کئے گئے ملک کے نونہالوں کو اسلام کی بجائے ہندو مت کی تعلیم دیکر کس کو خوش کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں؟۔ ان خیالات کا اظہار حافظ عبدالرحمن مکی، مولانا امیر حمزہ، حافظ عبدالغفار روپڑی، پیر سیف اللہ خالد، ڈاکٹر محمد شریف نظامی، رانا محمد ارشد، پروفیسر شاہد سلیم مغل، سیف اللہ خالد، حافظ طلحہ سعید، محمد سلیمان خان، پروفیسر رضوان الحق، غلام مرتضیٰ، ملک محمد طفیل نظامی، عزیز ظفرآزاد، حافظ عبدالوہاب روپڑی، علامہ محمد یونس حسن، انجینئر محمد حارث و دیگرنے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہاکہ پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی تیارکردہ جماعت پنجم کی معاشرتی علوم کو ختم کر دیا گیا ہے ۔ اس کتاب میں اہم شخصیات کے باب میں حضرت محمد، محمد بن قاسم، محمود غزنوی، شاہ ولی اللہ، سرسید احمد خان، قائد اعظم اور علامہ اقبال پر مضامین شامل تھے۔ مذہبی و سیاسی رہنماﺅں اور ماہرین تعلیم نے کہاکہ پانچویں کلاس سے لیکر دسویں جماعت تک کی نئی نصابی کتب سے قرآنی آیات، سیرت رسول ، صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین، نظریہ پاکستان اور اسلامی تاریخ کے مضامین نکال دئیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ غیور پاکستانی قوم نوجوان نسل کو اللہ اور اس کے رسول کی تعلیمات سے دور کرنے کی سازشیں انشاءاللہ کامیاب نہیں ہونے دے گی۔