پرویز الٰہی کا آمدن سے زیادہ ٹیکس، مشرف کا ریکارڈ موجود نہیں، ویب سائٹ پر تفصیلات

10 اپریل 2013

اسلام آباد (نوائے وقت نیوز + ایجنسیاں) الیکشن کمشن نے امیدواروں کی سکروٹنی کے حوالے سے ایف بی آر، نیب، سٹیٹ بنک سمیت اداروں کی تمام رپورٹس اور ڈیٹا اپنی ویب سائٹ پر جاری کر دیا۔ ویب سائٹ پر ٹیکس تفصیلات کے مطابق پرویز الٰہی نے آمدن سے زیادہ ٹیکس دیا۔ مشرف کا ٹیکس ریکارڈ موجود نہیں۔ تفصیلات کے مطابق نوازشریف کی آمدن میں اضافہ اور عمران خان کی آمدن میں کمی واقع ہوئی۔ فاروق ستار لاکھ پتی بن گئے۔ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کےخلاف راولپنڈی کی احتساب عدالت میں نادہندگی کا کیس زیر التوا ہے جبکہ نوازشریف، عمران خان، اسفند یار ولی اور مولانا فضل الرحمن کسی قسم کے نادہندہ نہیں۔ الیکشن کمشن کے ذرائع کے مطابق الیکشن کمشن نے تمام قوی اور صوبائی اسمبلیوں کے 24094 امیدواروں کی سکروٹنی کے حوالے سے ڈیٹا اپنی ویب سائیٹ پر جاری کر دیا ہے اور امیدوار اور عوام یہ تمام معلومات اور ایف بی آر، نیب، سٹیٹ بنک سمیت تمام اداروں کی رپورٹس بھی ویب سائٹ پر دیکھ سکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق الیکشن کمشن کو اہم سیاسی رہنماو¿ں کے کوائف سے متعلق نیب، نادرا، سٹیٹ بنک اور ایف بی آر کی رپورٹس کل موصول ہوئیں تھی۔ شہباز شریف نے گذشتہ تین برسوں میں 25 لاکھ 92 ہزار روپے جبکہ عمران خان نے 2 لاکھ 67 ہزار 440 روپے ٹیکس ادا کیا۔ پرویز مشرف نے گذشتہ تین برسوں کے ٹیکس گوشوارے جمع نہیں کرائے۔ سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کی 2012ءمیں آمدنی 19 لاکھ 65 روپے تھی جس پر ایک لاکھ 7247 روپے ٹیکس ادا کیا گیا۔ پرویز مشرف کی 2012ءمیں آمدن 15 لاکھ 6864 روپے تھی۔ آئی این پی کے مطابق پنجاب میں کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے بعد صوبائی الیکشن کمشنر نے اہل امیدواروں کی فہرست جاری کر دی۔ صوبائی الیکشن کمشنر محبوب انور کی جانب سے جاری کردہ فہرست کے مطابق پنجاب میں قومی اسمبلی کی جنرل نشستوں کیلئے 3550‘ صوبائی اسمبلی کی نشستوں کیلئے 8552‘ قومی اسمبلی کی مخصوص نشستوں کیلئے 121 اور صوبائی اسمبلی کی مخصوص نشستوں کیلئے 225 خواتین میدان میں ہیں۔ دریں اثناءچیئرمین نادرا طارق ملک نے وفاقی وزیر فیروز جمال شاہ کو ای ووٹنگ سافٹ وئیر پر بریفنگ دی۔ چیئرمین نادرا طارق ملک نے کہا کہ ای ووٹنگ کی حتمی منظوری الیکشن کمشن کی رضامندی سے مشروط ہے۔ ای ووٹنگ انٹرنیٹ پر مبنی محفوظ اور قابل اعتبار سافٹ وئیر ہے۔ فیروز جمال شاہ نے کہا کہ سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کیلئے وزارت ہرممکن اقدامات کریگی۔ علاوہ ازیں الیکشن کمشن میں بیلٹ پیپرز کی چھپائی اور سکیورٹی کے حوالے سے اجلاس ہوا جس میں پرنٹنگ کارپوریشن، پاکستان پریس، پاکستان سکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن اور کراچی کے نمائندوں نے شرکت کی۔ الیکشن کمشن نے پرنٹنگ پریسز کو بیلٹ پیپرز کی تیاری کا کام انتہائی احتیاط سے کرنے کا حکم دیا ہے۔ اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ دینے کی سہولت کے لئے الیکشن کمشن کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں اٹارنی جنرل عرفان قادر نے بھی شرکت کی۔ الیکشن کمشن نے وزارت خارجہ سے بھی و وٹ کا حق دینے سے متعلق رائے آج بدھ تک طلب کی۔ علاوہ ازیں ویب سائٹ پر ٹیکس تفصیلات کے مطابق نوازشریف نے 2010ءمیں ایک کروڑ 49 لاکھ 7 ہزار 988 روپے کی آمدن پر 20 لاکھ 12 ہزار 979 روپے ٹیکس دیا تھا 2011ءمیں ان کی آمدن میں 7 لاکھ روپے کا اضافہ ہوا جو بڑھ کر ایک کروڑ 56 لاکھ 82 ہزار 488 روپے ہو گئی جس پر انہوں نے 21 لاکھ 31 ہزار 224 روپے ٹیکس ادا کیا۔ دوسری جانب عمران خان کے اثاثہ جات میں مسلسل کمی ہورہی ہے 2010ءمیں عمران خان نے 94 لاکھ 45 ہزار 653 روپے آمدن پر 18 لاکھ 56 ہزار 599 روپے ٹیکس دیا ،2011ءمیں عمران خان کی آمدن 29 لاکھ 26 ہزار 620 روپے تھی جس پر انہوں نے 3 لاکھ 8 ہزار 608 روپے ٹیکس دیا، 2012ءمیں ان کی آمدن مزید کم ہو کر 35 لاکھ 95 روپے کی ہے جس پر 2 لاکھ 67 ہزار 440 روپے ٹیکس ادا کیا، عمران خان نے قرض کوئی نہیں لیا۔ تفصیلات میں پرویز الٰہی نے آمدن سے زیادہ ٹیکس دیا۔ انہوں نے سال 2012ءمیں 8 لاکھ روپے کمائے اور 12 لاکھ 63 ہزار 4 سو روپے ٹیکس ادا کیا۔ اسفندیار ولی نے 11 لاکھ 65 ہزار آمدن پر 80 ہزار 200 روپے، شہباز شریف نے 2 کروڑ 41 لاکھ آمدن پر 25 لاکھ 92 ہزار، حمزہ شہباز نے ایک کروڑ 25 لاکھ آمدن پر 35 لاکھ 26 ہزار روپے ٹیکس دیا۔ مخدوم جاوید ہاشمی کا 2011ءکا ٹیکس ریکارڈ موجود نہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے 7 لاکھ 42 ہزار روپے کی آمدن پر 44 ہزار 500 سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے 19 لاکھ 65 ہزار آمدن پر ایک لاکھ سات ہزار پرویز مشرف کی آمدن پندرہ لاکھ ساٹھ ہزار روپے تھی لیکن ان کا انکم ٹیکس ریکارڈ موجود نہیں۔