نواز، شہباز شریف کیخلاف نادہندگی کا پروپیگنڈا اپنی موت آپ مر جائے گا: پرویز رشید

10 اپریل 2013

لاہور (خصوصی رپورٹر) مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر پرویز رشید نے کہا ہے نواز شریف اور شہباز شریف کے خلاف نادہندگی کا بے بنیاد پروپیگنڈا اپنی موت آپ مر جائے گا ۔ جھوٹ کے سہارے زندگی مل سکتی ہے تو آج پاکستان پر ایک دہائی تک آمریت نافذ کرنے والا ڈکٹیٹر نہ صرف جمہوری قائدین سے پاکستان کو محروم کر چکا ہوتا بلکہ پاکستانی عوام بھی اپنے حق حکمرانی سے محروم ہی رہتے۔ انہوں نے کہا نواز شریف اور شہباز شریف پر قرض معافی، بنک ڈیفالٹ اور ٹیکس کی عدم ادائیگی کے لگائے جانے والے تمام الزامات نہ صرف اعلی عدالتوں نے رد کر دئیے بلکہ تمام اعلی مالیاتی اور وفاقی محکمے، سٹیٹ بنک، فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور نیب جیسے ادارے بھی اپنے ریکارڈ کی بنیاد پر سچ کو چھپانے میں ناکام ہوئے اور انہیں واضح طور پر یہ اعلان کرنا پڑا نواز شریف اور شہباز شریف کے کاروباری معاملات بغیر کسی داغ اور دھبے کے نہ صرف صاف اور شفاف ہیں بلکہ اپنی انتہائی اچھی ساکھ کی بنا پر مالیاتی اداروں سے اربوں روپے واجبات کے حقدار بھی ہیں۔ یہ ایک ایسا اعزاز ہے جو دنیا بھر میں محنت، دیانت اور صلاحیت کے بنا پر حاصل ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا شریف فیملی کا پاکستانی معیشت میں کردار ناقابل فراموش ہے جو قیام پاکستان سے بھی دو دہائی قبل سے شروع ہوتا ہے اور نواز شریف کے سیاسی کیریئر سے بہت پہلے عروج حاصل کرکے لاکھوں لوگوں کو روزگار فراہم کرنے کے ساتھ قومی معیشت میں اربوں روپے کے محصولات جمع کرانے پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا ریکارڈ گواہ ہے نواز شریف کے سیاست میں آنے سے قبل ان کے خاندان کے کاروبار پر کوئی الزام نہیں لگایا گیا تھا بلکہ مالیاتی ادارے ان سے کاروباری شراکت کے متمنی رہتے تھے۔ انہوں نے کہا ناقدین میں اخلاقی جرات ہے تو وہ اعلی عدالتوں کے فیصلوں کو چیلنج کریں یا انہیں تسلیم کرکے بار بار جھوٹ بولنے کے عذاب سے نجات حاصل کریں۔ شریف خاندان بھی 3 دسمبر 2012ء کو محفوظ کئے گئے فیصلوں کو سننے کا بے تابی سے منتظر ہے۔آن لائن کے مطابق سینیٹر پرویز رشید نے یہاں گفتگو کرتے ہوئے کہا پنجاب میں اوپر سے نیچے تک تمام افسروں کو تبدیل کر دیا گیا مگر سندھ، بلوچستان اور وفاق میں ایسا نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا انتخابات کرانے کی ذمہ داری تین اداروں نیب، نادار اور الیکشن کمشن کی ہے، کیا وفاقی حکومت نے ان اداروں میں اپنے چہیتوں کو تبدیل کیا؟

مری بکل دے وچ چور ....

فاضل چیف جسٹس کے گذشتہ روز کے ریمارکس معنی خیز ہیں۔ کیا توہین عدالت کا مرتکب ...