مشرق وسطی میں ورکروں کا استحصال کیا جاتاہے: اقوام متحدہ

10 اپریل 2013

نیویارک (نمائندہ خصوصی) اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق مشرق وسطی میں 6 لاکھ سے زائد غیر ملکی ورکروں کا استحصال کیا جاتا ہے اور وہ جبری مشقت کے چکر میں پھنسے ہوئے ہیں۔ یہ بات اقوام متحدہ کی انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی طرف سے انسانی سمگلنگ کے بارے میں پہلی عالمی کانفرنس کے موقع پر پیش کی گئی رپورٹ میں کہی گئی۔ اقوام متحدہ کی ایجنسی نے واضع کیا کہ مشرق وسطی کے ممالک میں ویزا سپانسر شپ سسٹم اور ورکروں اور مالکان کے درمیان نظام خرابی کی اصل وجہ ہے کیونکہ اس نظام کے تحت ورکروں اور مالکان کے درمیان طاقت کا توازن ہمیشہ مالکان کے حق میں رہتا ہے۔ دنیا بھر کے ورکر اور مزدور کام کی تلاش میں اس خطے کا رخ کرتے ہیں۔ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے سربراہ سیٹے انوریس نے کہا کہ ہمارے لئے اصل چیلنج یہ ہے کہ اس خطے میں ورکروں کے استحصال کو کیسے روکا جائے۔