نگران حکومت انتخابات میں الیکشن کمشن پر اثرانداز ہو سکتی ہے: جمشید اقبال چیمہ

10 اپریل 2013

لاہور (سیف اللہ سپرا) پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے 5 سال مفاہمت کے نام پر ایک دوسرے کو کھلی چھٹی دی اور عوام کا استحصال کیا۔ نگران حکومت بھی مفاہمتی پالیسی کے تحت بنی لہٰذا اس بات کا قوی امکان ہے کہ نگران حکومت غیر جانبدارانہ اور شفاف انتخابات نہ کرا سکے۔ الیکشن کمشن کی نیت پر شک نہیں تاہم اس کے پاس اتنا انفراسٹرکچر اور تجربہ نہیں کہ انتخابات کو ٹھیک طرح سے مانیٹر کر سکے۔ نگران وزیر داخلہ ملک حبیب نے مسلم لیگ (ن) کے قائد کے حق میں بیان دے کر اپنی جانبداری ظاہر کر دی۔ مک بحرانوں میں گھرا ہوا ہے صرف تحریک انصاف ہی اسے نکال سکتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار این اے 124 سے امیدوار جمشید اقبال چیمہ نے ایوان وقت میں ”الیکشن 2013ئ: نگران حکومت اور شفاف انتخابات کے تقاضے“ کے موضوع پر گفتگو کے دوران کیا۔ اس بات کا امکان ہے کہ نگران حکومت انتخابات میں الیکشن کمشن پر اثرانداز ہو سکتی ہے ۔ جعلی ڈگری کیسز کے حوالے سے اقدام پر عدلیہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف آئندہ انتخابات میں سادہ اکثریت حاصل کر لے گی اور حکومت بنائے گی۔ انہوں نے کہا کہ توانائی کا بحران، مہنگائی، بےروزگاری، کرپشن، دہشت گردی خصوصاً کراچی اور کوئٹہ میں بدامنی جیسے بڑے مسائل نے ملک کو کھوکھلا کر دیا ہے ۔ پی آئی اے، ریلوے، واپڈا اور دیگر بڑے اداروں میں کرپشن روک کر ان کا خسارہ دور کیا جائے گا اور حاصل ہونے والی آمدنی بجلی کی سبسڈی میں استعمال کی جائے گی۔ ٹیکسوں کا نظام بہتر بنائیں گے۔ تحریک انصاف میں اختلافات کم ہو گئے ہیں، انٹرا پارٹی الیکشن میں سب کو اپنی اپنی حیثیت کا پتہ چل گیا۔