اب 62,63 پر کیا اعتراض ہے؟

10 اپریل 2013

اب کیا کہتے ہیں اعتزاز احسن، عاصمہ جہانگیر اور دوسرے لوگ کہ کئی امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے گئے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ 62 ,63 پر پورا اترے ہیں۔ وہ جو کہتے تھے کہ قائداعظم بھی آج کے الیکشن کے لئے ڈس کوالیفائی ہو جائیں گے۔ لوگوں کو صرف اسلام کو بدنام کرنے کا بہانہ چاہئے۔ اس کے لئے جنرل ضیاءکو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں مگر اسے پارلیمنٹ نے منظور کیا ۔ پھر رضا ربانی کی ترمیمی اصلاحات میں بھی کوئی اعتراض نہ کیا گیا۔ جنرل ضیائ، جنرل مشرف نے نواز شریف، بی بی اور صدر زرداری کے آقا امریکہ نے یہ سب کچھ کرایا۔ تب مجاہدین اور اسلام امریکہ کو محبوب تھے پھر مجاہدین کو دہشت گرد امریکہ نے بنایا کوئی امریکہ کو تو نہیں پوچھتا۔ ریٹرننگ افسروں نے بھی جان بوجھ کر یہ تماشا بنایا ہے۔ کیا کسی امیدوار سے پوچھا گیا کہ آپ نے جو اثاثے ظاہر کئے ہیں یہ کیسے بنائے ہیں۔ اس کے لئے کوئی ٹیکس وغیرہ بھی دیا ہے؟ کوئی بنک ڈیفالٹر، کوئی ٹیکس چور، کوئی قرضے معاف کرانے والا زد میں نہیں آیا۔اس کے لئے دو قانون کیوں۔ یہاں بھی بڑے امیر اور ظالم کے لئے کوئی اور قانون ہے چھوٹے امیر اور ظالم کے لئے کوئی اور قانون ہے۔ ہر جگہ دوہرا معیار کیوں ہے؟ لکھی ہوئی ایک بات کے لئے ن لیگ کے ایاز امیر کے کاغذات مسترد کر دئیے گئے مگر عمران خان نے خود اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ میں نے بال ٹمپرنگ کی۔ ایک من چلے نے بال ٹمپرنگ اور بال ٹھاکرے کا موازنہ کیا تھا۔ عمران نے جوا کھیلنے کا بھی اعتراف کیا ۔ اس کے کاغذات منظور کر لئے گئے۔ ایک غیر ملکی صحافی خاتون نے نواز شریف کے لئے بڑی عجیب عجیب باتیں لکھی ہیں۔ ان سے تو کوئی سوال نہیں کیا گیا۔ سیتا وائٹ کے لئے بھی کوئی بات عمران خان سے نہیں پوچھی گئی۔ایک بات بہت پریشانی کا باعث ہے کہ ایک جگہ پر کاغذات مسترد کئے گئے دوسرے حلقے میں منظور کر لئے گئے۔ اس کا مطلب ہے کہ معیار ریٹرننگ افسر کی مرضی پر ہے۔ اس کا دل جس طرف ہوا اسی کے مطابق فیصلہ ہو گیا۔ کسی بڑے سیاستدان یا پارٹی لیڈر کے کاغذات مسترد نہیں ہوئے۔ اس سے سورة فاتحہ بھی نہیں سنی گئی۔ مسرت شاہین سے آیت الکرسی سنی گئی جو اس نے سنا دی۔ مولانا فضل الرحمن سے نہیں سنی گئی۔ مجھے یقین ہے کہ وہ نہ سنا سکتے انہیں صرف کرسی یاد ہے۔ چھوٹے چھوٹے لوگ ہی زد میں آئے ہیں۔ نیب نے شریف برادران پر الزام لگایا پھر واپس لے لیا۔ فصیح بخاری کا بیان سپریم کورٹ کے جسٹس اقبال سے مختلف نہیں ہے۔ بے شک شریف برادران الیکشن لڑ لیں ہم بعد میں فیصلہ کریں گے کہ وہ الیکشن لڑ سکتے تھے یا نہیں لڑ سکتے تھے۔ جنرل مشرف کے لئے کہا گیا تھا کہ وہ صدارتی الیکشن لڑ لیں۔ یہ فیصلہ بعد میں ہو گا کہ وہ ایسا کر سکتے تھے یا نہیں۔ وہ صدر بن گئے تو کیا فیصلہ ہوا؟ نواز شریف کے وزیروں نے ان سے حلف بھی لے لیا۔ کسی حکمران سیاستدان کے بارے میں فیصلہ نہیں ہوا کہ اس نے کرپشن کی ہے؟ صدر زرداری آٹھ نو سال جیل میں رہے مگر کوئی فیصلہ نہیں ہوا پھر جنرل مشرف نے این آر او جاری کر دیا۔ این آر او کے لئے فیصلہ ہوا کہ یہ غلط ہے مگر کیا اس کی زد میں ایک بھی آدمی آیا ہے۔کہا گیا کہ اصغر خان مقدمے کے فیصلے کی زد میں شریف برادران بھی آتے ہیں تو کسی ریٹرننگ افسر نے اس پر غور کرنے کی بھی زحمت گوارا کی۔ یہ سارا کچھ ہو رہا ہے تو لگتا ہے کہ الیکشن ہوں گے بھی؟ کسی جماعت نے ابھی تک ٹکٹوں کا فیصلہ بھی نہیں کیا ۔ کسی پارٹی نے باقاعدہ الیکشن مہم بھی شروع نہیں کی۔ ہر کوئی صرف کاغذات منظور کرنے کے چکر میں پڑا ہوا ہے جیسے یہی انتخاب ہو؟ رحمان ملک نے کہا کہ ملک میں ایک آدمی بھی 62 ,63 کے مطابق صادق اور امین ثابت ہو جائے تو میں سیاست چھوڑ دوں گا۔ اب تو کئی لوگوں کے کاغذات منظور ہو گئے اس کا مطلب ہے کہ کم از کم یہ لوگ تو 62 ,63 کے مطابق صادق اور امین ہیں؟ تو پھر رحمان ملک سیاست چھوڑ دیں۔ وہ سیاست چھوڑ دیں گے مگر حکومت نہیں چھوڑیں گے۔ وہ اب بھی حکومت میں ہیں۔ سیاستدان سمجھتے ہیں کہ سیاست کچھ اور ہے حکومت کچھ اور ہے۔ صدر زرداری ایوان صدر میں ہیں تو رحمان ملک حکومت میں ہیں۔ سپیکر فہمیدہ مرزا کے کاغذات منظور ہو گئے ہیں تو یہ بھی ثابت ہو گیا ہے کہ ان کے ریٹرننگ افسر ان سے زیادہ صادق اور امین نہیں ہیں۔ ان کے جتنے صادق اور امین تو ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ریٹرننگ افسر ڈر گئے ہوں کہ فہمیدہ مرزا کے کاغذات مسترد کئے گئے تو وہ صادق اور امین نہیں رہیں گے۔ حیرت ہے کہ سیاستدانوں میں کسی کے اندر یہ جرات نہیں تھی کہ وہ ریٹرننگ افسر سے پوچھ لیتا کہ جناب مجھے تو دعائے قنوت یاد نہیں ہے آپ ہی سنا دیں یقیناً ریٹرننگ افسر کو یہ دعا نہیں آتی ہو گی۔ ٹیچر نے شاگرد سے پوچھا کہ قائداعظم کی والدہ کا نام کیا تھا۔ اس نے کہا مجھے پتہ نہیں۔ ٹیچر نے بھی فوراً کہہ دیا کہ مجھے بھی پتہ نہیں۔ اس طرح ٹیچر بچ گیا ورنہ اگر یہ سوال بچہ پوچھ لیتا تو ٹیچر کا کیا بنتا۔ایک انسپکٹر سکول گیا اور بچوں سے پوچھا کہ سومنات کا بت کس نے توڑا۔ ایک بچہ جواب دینے کی بجائے رونے لگ گیا خدا کی قسم میں نے نہیں توڑا۔ انسپکٹر ٹیچر پر ناراض ہوا تو اس نے کہا کہ یہ بچہ بڑا شرارتی ہے اسی نے توڑا ہو گا۔ اتنے میں ہیڈ ماسٹر آ گیا۔ اس نے کہا کہ جناب سومنات کا بت ٹوٹنے والی چیز تھی۔ ٹوٹ گئی۔ اب بچے کو معاف کر دیں۔ تو چیف الیکشن کمشنر فخرو بھائی سے گزارش ہے کہ وہ تمام سیاستدانوں کے کاغذات منظور کر لیں اور انہیں معاف کر دیں۔ یہ تو ایسے ہی ہیں۔ اب اچھے بچے یعنی اچھے سیاستدان کہاں سے لائیں۔ اب سیکورٹی کا تکلف بھی ہو گیا ہے۔ اب پہلے کی طرح الیکشن کرائے جائیں اور جس کے جیتنے کا طے ہو گیا ہے۔ اس کو جتواﺅ اور یہ کھیل ختم کرو تاکہ سیاستدان حکومت میں آ کے ”اپنا کام“ کریں۔جس نے نگران حکمران بنوائے ہیں اس کی مرضی کے خلاف پاکستان میں کون حکمران بن سکتا ہے۔ میرا تو اب بھی یقین ہے کہ الیکشن نہیں ہوں گے۔ ابھی جنرل مشرف کے مقدمے کا فیصلہ باقی ہے۔ یہ فیصلہ کیا ہو گا، ہو گا یا نہیں؟ حسین حقانی نے جو کچھ کیا تھا اور جو شور مچا تھا اسے باہر کس نے جانے دیا؟ جنرل مشرف بھی باہر چلا جائے گا۔ این آر او کا کیا ہوا۔ اس کے لئے خط کا معاملہ کتنا پھیلایا گیا۔ وہ سب معاملہ کہاں ہے؟ نااہل اور کرپٹ گیلانی ایوان اقتدار سے گیا مگر اب پھر اس کے آس پاس ہے۔ صدر زرداری کی سیاست کسی کی سمجھ میں نہیں آتی۔ وہ اپنے حریفوں اور حلیفوں سے ایک جیسی سیاست کرتے ہیں۔ اس موقع پر صدر زرداری کی خاموشی ان کی سیاست کی ترجمان ہے۔ جو بات حیران کن ہو اس کے لئے لوگوں کو صدر زرداری کی سیاست کا خیال آ جاتا ہے مگر نگران وزیر اطلاعات عارف نظامی نے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ ”انتخابات ملتوی کرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں۔ میڈیا کی آزادی کو میرے ہوتے ہوئے کوئی خطرہ نہیں لوگوں کا انحصار میڈیا پر بڑھ گیا ہے۔“ انہوں نے نوائے وقت کے دفتر آ کے مجید نظامی سے ملاقات کی۔ عارف نظامی کی طرف سے میڈیا کے لئے دئیے گئے ظہرانے میں رمیزہ نظامی، سعید آسی اور بخاری صاحب نے بھی شرکت کی۔ یہ ایک اچھی ابتدا ہے۔ کچھ ابتدائیں ایسی ہوتی ہیں کہ ان کی کوئی انتہا نہیں ہوتی ہے۔ اللہ مبارک کرے۔وضاحت و معذرتمیں عشق رسولﷺ کو اصل ایمان سمجھتا ہوں۔ آپ کے لئے جان دینا ہی زندگی ہے۔ وہ جو اپنے آپ کو سیکولر کہتے ہیں وہ اسے منفی طور پر اسلام کو بدنام کرتے ہیں۔ رسول کریم سے زیادہ انسانیت سے محبت کرنے والا کوئی نہیں ہے نہ ہو گا۔ وہ سارے جہانوں، سارے زمانوں، سارے انسانوں کے لئے رحمت ہی رحمت ہیں۔ سیکولر کا لفظ سہواًاس تناظر میں مثبت طور پر استعمال ہو گیا ہے اس سے عاشقان رسول کے دل کو تکلیف پہنچی ہے تو میں خدائے محمد روح محمد اور غلامان محمد سے معذرت کرتا ہوں۔