مشرف کو حراست میں لینے کی استدعا مسترد‘ پنڈورا بکس کھلے یا پردہ نشینوں کے نام آئیں پروا نہیں: سپریم کورٹ

10 اپریل 2013

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت / بی بی سی / اے پی اے) سپریم کورٹ میں درخواست گذاروں کی جانب سے پرویز مشرف غداری کیس میں مشرف کو حراست میں لینے کی استدعا مسترد، مشرف کے وکیل احمد رضا قصوری نے کہا کہ سپریم کورٹ پی سی او ججز کیس میں بری فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کو نوٹس جاری کیوں نہیں کرتی؟ پنڈورا باکس کھل گےا تو بڑے بڑے پردہ نشینوں کے نام آئیں گے۔ عدالت نے سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کے اندراج کیلئے درخواستوں کی سماعت 15اپریل تک ملتوی کرتے ہوئے سابق صدر کو جواب جمع کرانے کیلئے مہلت دیدی۔ سماعت جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس خلجی عارف پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی ۔ احمد رضا قصوری نے کہاکہ پرویز مشرف کو رات 12بجے نوٹس ملا، عدالت چھ ہفتے کی مہلت دے تاکہ درخواست گزاروں کے تمام قانونی سوالات کا تفصیلی جواب دے سکیں۔ وکیل نے کہاکہ پرویزمشرف اپنی مرضی سے ملک واپس آئے ہیں، ان کے خلاف جاری کئے گئے ریڈوارنٹ واپس کردئیے گئے تھے۔ وکیل احمد رضا قصوری نے کہاکہ پرویز مشرف عدالت کا انتہائی احترام کرتے ہیں مگر ان کو بعض ججوں پر تحفظات ہیں۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ پہلے آپ ان ججوں کے نام لیں اور اپنے تحفظات سے آگاہ کریں۔ وکیل نے کہاکہ فی الوقت وہ اس حوالے سے تفصیلی بات نہیں کرسکتے۔ جسٹس جواد نے کہاکہ بلا جھجھک عدالت کو اپنے تحفظات بتائیں۔ احمد رضا قصوری نے کہاکہ عدالت نے جنرل اشفاق پرویز کیانی کو کیوں نوٹس جاری نہیں کیا۔ ؟ جسٹس جواد نے کہاکہ درخواست گزاروں نے ان کو فریق ہی نہیں بنایا۔ پرویز مشرف کے وکیل نے کہاکہ 11 مئی کو ملک میں الیکشن ہورہے ہیں، عدالت اس مقدمے کی سماعت 20مئی تک ملتوی کرے تاکہ انتخابی سرگرمیوں کیلئے یکسوئی کے ساتھ وقت مل سکے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ جواب کےلئے اتنی مہلت نہیں دے سکتے، ہمیں وفاق کے جواب کا بھی انتظار ہے، احمد رضا قصوری نے کہا کہ نگران وزیر داخلہ کا بیان آیا ہے کہ حکومت کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں ، جسٹس جواد نے کہا کہ وزیر داخلہ کا جواب عدالت میں نہیں آیا، احمد رضا قصوری نے کہا کہ پرویز مشرف ملک کو بچانے کےلئے واپس آئے ہیں ان کا کہنا تھا کہ 1970 میں جس وقت بنچ میں شامل جج سکول جاتے ہوں گے میں پارلیمنٹ کا ممبر تھا، اس موقع پر درخواست گزاروں کے وکلا نے عدالت میں احتجاج کیا اور کہا کہ احمد رضا قصوری کو اس فورم پر سیاسی تقریر کی اجازت نہیں دی جاسکتی، درخواست گزاروں کے وکلا نے کہا کہ قصوری عدالتی فورم کو ذاتی تشہیر کےلئے استعمال کرنا چاہتے ہیں، جسٹس جواد ایس خواجہ نے درخواست گزاروں کے وکلا کو اپنی نشستوں پر بیٹھنے کی ہدایت کی اور احمد رضا قصوری کو کہا کہ وہ عدالت کو قانونی نکات سے آگاہ کریں، احمد رضا قصوری کا کہنا تھا کہ مناسب مہلت دئیے بغیر انصاف کے تقاضے پورے نہیں کئے جاسکیں گے، سپریم کورٹ نے مقدمے کی سماعت 15اپریل تک ملتوی کرتے ہوئے قرار دیا کہ جواب دینے کےلئے یہ مناسب مہلت ہے اور ایسا کرتے ہوئے انصاف کے تقاضے پورے کئے جارہے ہیں، عدالت نے اپنے حکم نامے میں لکھا کہ سابق صدر پرویز مشرف کو حراست میں لینے کی درخواست گزاروں کی استدعا پہلے ہی مسترد کی جاچکی ہے اور ان کو سرگرمیوں کی مکمل اجازت ہے، اس لئے جواب دینے کےلئے یہ مہلت مناسب خیال کی جاتی ہے۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ مشرف کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کی ضرورت نہیں اور وہ سیاسی سرگرمیاں جاری رکھ سکتے ہیں۔ احمد رضا قصوری کا کہنا تھا کہ عدالت کو ان درخواستوں کو نمٹانے کی اتنی جلدی کیوں ہے جس پر بنچ میں شامل جسٹس خلجی عارف حسین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تین نومبر 2007ء کے اقدامات کے متعلق فیصلہ تین سال پرانا ہے اور ابھی بھی کہا جا رہا ہے کہ عدالت کو اتنی جلدی کیوں ہے؟ احمد رضا قصوری کا کہنا تھا کہ انصاف صرف اعلان کی حد تک نہیں بلکہ انصاف ہوتا ہوا بھی نظر آنا چاہئے۔ سابق صدر کے وکیل نے کہا کہ اگر یہ معاملہ کھلا تو بات بہت دور تک جائے گی اور اس میں کئی پردہ نشینوں کے بھی نام آئیں گے اور ایک پنڈورا بکس بھی کھل جائے گا جسے بند کرنا شاید بہت مشکل ہو۔ جسٹس خلجی عارف حسین کا کہنا تھا کہ عدالت کو اس سے کوئی غرض نہیں ہے کہ کن پردہ نشینوں کے نام آتے ہیں عدالت تو صرف قانون کے مطابق ہی ان درخواستوں پر فیصلہ دے گی۔ جسٹس جواد نے کہا کہ پنڈورا بکس کھلنے کی پروا نہیں ، احمد رضا قصوری نے مزید کہا کہ ان کے موکل کو اس بنچ پر تحفظات ہیں جس پر عدالت نے کہا کہ وہ دلائل دیں اور اگر وہ ان دلائل سے مطمئن ہوئے تو چیف جسٹس سے درخواست کریں گے کہ بنچ تبدیل کر دیا جائے۔ فیڈریشن کی جانب سے اٹارنی جنرل یا ان کا کوئی بھی نمائندہ عدالت میں پیش نہیں ہوا جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا۔