کرپٹ حکمرانوں کے خاتمہ کے باوجود لوڈشیڈنگ پر امتیازی سلوک جاری ہے‘ نگران حکومت سلسلہ بند کرے: شہباز شریف

10 اپریل 2013
کرپٹ حکمرانوں کے خاتمہ کے باوجود لوڈشیڈنگ پر امتیازی سلوک جاری ہے‘ نگران حکومت سلسلہ بند کرے: شہباز شریف

لاہور (خصوصی رپورٹر) مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنماءاور خادم پنجاب محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پنجاب کے عوام بدترین لوڈشیڈنگ سے بلبلا اٹھے ہیں، صوبے کی صنعتیں بند ہو گئی ہیںاور شہروں اور دیہاتوں میں بجلی کی بندش کا دورانیہ 8 سے 20 گھنٹے تک پہنچ گیا ہے ۔ آج یہاں ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ملک میں ایک کرپٹ اور نااہل حکومت کے خاتمے کے باوجود بجلی کی فراہمی کے حوالے سے پنجاب سے امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے ۔ ہم نگران حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ یہ سلسلہ اب بند ہونا چاہیے۔ پنجاب میں بسنے والے عوام بھی اتنے ہی پاکستانی ہیں جتنے کسی اور علاقے میں رہنے والے اور ان سے ہونے والی اس ناانصافی کا خاتمہ حکومت وقت کا آئینی، اخلاقی اور قانونی فریضہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنی حکومت کے دوران وزیراعلیٰ ہوتے ہوئے لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج میں عوام کا ساتھ دیا تھا ۔ہم نے جون ، جولائی کی تپتی ہوئی دوپہروں کو آگ برساتے ہوئے سورج میں کھلے میدانوں میں ٹینٹ لگا کر اپنے دفاتر قائم کئے۔انہوں نے کہا کہ اب بھی گرمی کی شدت میں بجلی کی بندش کے ستائے ہوئے عوام مجھے اپنے ساتھ پائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کی نگران حکومت کو چاہیے کہ وہ فی الفور یہ مسئلہ وفاقی سطح پر اٹھائے تاکہ پنجاب کے عوام کے ساتھ ہونے والی اس بدترین ناانصافی اور ظلم کاخاتمہ ہو سکے۔ محمد شہباز شریف نے کہا کہ واپڈا حکام کے جاری شدہ اعدادوشمار کے مطابق قومی سطح پر بجلی کا شارٹ فال ایک تہائی ہے جبکہ لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں فراہم کی جانے والی بجلی کی مقدار نصف سے بھی کم ہے جو ایک کھلی ناانصافی ہے ۔ سابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب میں ٹیکسٹائل انڈسٹری کی ایک شفٹ کے لیے بجلی کی فراہمی مکمل طور پر بند کر دی گئی ہے اور اب باقی شفٹوں کی بجلی بند کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے ، جس سے یہ صنعت مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ جائیگی۔ انہوں نے کہاکہ نگران وزیراعظم فوری طور پر اس صورتحال کا نوٹس لیں اور ٹیکسٹائل کی صنعت کو تباہ ہونے سے بچائیں۔