”بجلی بحران“ پنجاب حکومت نے ہفتے میں 2 چھٹیوں کا اعلان کر دیا‘ وزیراعظم مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بلائیں: نجم سیٹھی

10 اپریل 2013

لاہور (خصوصی رپورٹر + نوائے وقت نیوز + ایجنسیاں) پنجاب کا بینہ کے اجلاس میں صوبے میں غیر اعلاینہ لوڈ شیڈنگ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ صوبہ میں غیر اعلاینہ لوڈ شیڈ نگ فی الفور ختم کی جائے اور پورے ملک میں یکساں لوڈ شیڈنگ ہونی چاہئے۔ موجودہ صورتحال پر قابو پانے کے لئے حالات فوری اقدامات کے متقاضی ہیں۔ گذشتہ روز نگران وزیر اعلیٰ نجم سیٹھی کی زیر صدارت کابینہ کے اجلاس میں مشترکہ مفادات کی کونسل کا فوری طور پر اجلاس بلانے اور وفاقی حکومت سے لوڈ شیڈنگ میں فی الفور کمی کا مطالبہ کیا گیا۔ اجلاس میں وزرا کا کہنا تھا کہ بدترین لوڈ شیڈنگ سے صوبے میں امن و امان کی صورتحال خراب ہو سکتی ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیاگیا کہ صوبہ بھر میں بجلی کے موجودہ بحران کے باعث صوبے کے سرکاری دفاتر اور تعلیمی اداروں میں ہفتہ وار 2 تعطیلات کی جائیںگی اور پنجاب حکومت بجلی کی بچت کے حوالے سے اہم اقدامات اٹھائے گی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نجم سیٹھی نے کہا کہ صوبے کے عوام کے حقوق کا تحفظ کریں گے اور وہ لوڈشیڈنگ کے اہم ایشو پر اپنی ٹیم کے ساتھ جلد نگران وزیراعظم کے ساتھ ملاقات کر رہے ہےں اور وہ وفاقی حکومت کو لوڈ شیڈنگ میں کمی کے حوالے سے ٹھوس تجاویز دےں گے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت عوام کو بجلی کی لوڈشیڈنگ کے حوالے سے درپیش مشکلات سے پوری طرح آگاہ ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ لوڈشیڈنگ پر احتجاج سے اجتناب کریں۔ املاک قوم کا اثاثہ ہیں اس لئے انہیں نقصان نہ پہنچایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کی آڑ میں کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ ہی کسی کو شاہراہیں بلاک کر کے عوام کو مشکلات میں ڈالنے کی اجازت دیں گے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ بجلی کی بچت کے حوالے سے حکومتی اقدامات میں تعاون کریں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کے دفاتر میں اے سی صبح 11 بجے بعد کے بعد یہ چلائے جائیں گے۔ نگران وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پنجاب میں صنعتوں کے لئے بجلی کی لوڈ شیڈنگ کم ہونی چاہئے تاکہ لوگ بےروزگار نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ بجلی بحران انتہائی اہم ہے اور وفاقی حکومت کو اس بحران پر قابو پانے اور عوام کو بروقت ریلیف دینے کے لئے اقدامات کرنے چاہئیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انتخابات کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کے لئے ہرممکن اقدامات کریں گے اور انتخابات کے دوران ایسا ماحول پیدا کیا جائے گا کہ ووٹرز اپنا حق رائے دہی پرامن ماحول میں آزادانہ طور پر استعمال کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ عام انتخابات شفاف اور پرامن انداز سے کرانے کے لئے م¶ثر سکیورٹی پلان ترتیب دیا گیا ہے۔ صوبے بھر میں الےکشن کمشن کے وضع کردہ اصولوں کے تحت ضابطہ اخلاق کی پابندی کو یقینی بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے بھر میں اسلحہ کی نمائش پر پابندی پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ الےکشن ڈیوٹی پر تعینات پولیس اہلکاروں کی تربیت یقینی بنائی جائے اور اس مقصد کے لئے ورکشاپس اور سیمینارزکا انعقاد کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے ممکنہ واقعات کی روک تھام کے لئے سپیشل برانچ اور محکمہ انسداد دہشت گردی کو پوری طرح متحرک کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حساس پولنگ سٹیشن کی نشاندہی کر لی گئی ہے جہاں پر خصوصی سکیورٹی انتظامات کئے جائیں گے۔ اجلاس میں صوبے میں انتخابات کے حوالے سے سکیورٹی پلان کی بھی منظوری دی گئی۔ دریں اثناءوزیر اعلیٰ نے لاہور میں پانی کی قلت کے حوالے سچ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ پانی بنیادی ضرورت ہے اور شہر کے کسی علاقے میں پانی کی قلت ہر گز برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ قلت سے متاثرہ علاقوں میں واٹر ٹینکروں کے ذریعے پانی فراہم کیا جائے اور تمام ٹیوب ویلوں پر جنریٹر چالو حالت میں ہونے چاہئیں۔