آئین معطلی ججوں کو ہٹانے کا فیصلہ صحیح تھا انصاف ملنے کی امید ہے: مشرف

10 اپریل 2013

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت + ایجنسیاں) پاکستان کے سابق فوجی صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کا کہنا ہے ملک میں آئین معطل کر کے ہنگامی حالت کا نفاذ اور ججوں کو ہٹانے کا فیصلہ اس وقت کے ماحول کے مطابق ایک صحیح فیصلہ تھا۔ پاکستان کی عدالتوں سے انصاف ملنے کی پوری امید ہے اور وہ عدالت سے انصاف کی امید نہیں رکھیں گے تو کس سے رکھیں گے۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا انہیں ملک کی عدلیہ پر مکمل اعتماد ہے اور وہ امید کرتے ہیں ان سے انتخاب لڑنے کا حق نہیں چھینا جائیگا۔ انہوں نے کہا انہیں ایک ہی وقت میں کئی محاذوں پر لڑنا پڑ رہا ہے ۔ الیکشن لڑنا سب کا حق ہے تو میرا بھی حق ہے ۔ اسلام آباد اور کراچی سے کاغذات نامزدگی منسوخ کئے جانے سے متعلق ان کا کہنا تھاآئین کے آرٹیکل 62‘ 63 کے حساب سے ایسا کوئی بھی معاملہ نہیں بنتا کہ ان کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے جائیں مگر پھر بھی یہ ہوا ہے تو انہوں نے اسے چیلنج کیا ہے ۔ اس سوال پر کہ عدالت نے ان کے پاکستان سے باہر جانے پر پابندی لگا دی ہے تو کیا یہ انہیں قبول ہے ۔ پرویز مشرف نے کہا میں یہاں الیکشن لڑنے اور رہنے کیلئے آیا ہوں‘ اسلئے مجھے باہر جانے سے منع کرنے کی بات ہے تو اس میں مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ این این آئی کے مطابق بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جیتنے کی صورت میں وہ پارلیمان میں بیٹھنے کا فیصلہ حالات دیکھ کر ہی کریں گے‘ میں نہیں چاہوں گا میں پارلیمان میں کسی غیر اہم پوزیشن میں بیٹھوں۔ کوئی پوزیشن بنتی ہے جس میں کوئی اہم کردار کر سکوں تاہم اس بارے میں الیکشن کے بعد سوچیں گے۔ کراچی کی عدالت میں حاضری پر مشرف نے اسے توہین آمیز قرار دیا تھا ۔ اس بارے میں سوال پر انہوں نے کہا وہ ایک ابتدائی ردعمل تھا ۔ پھر میں نے اس پر سوچا اور مجھے غلطی کا احساس ہوا کیونکہ میں خود اکثر کہتا رہا ہوں قانون کے سامنے سب برابر ہیں تو یہ مجھ پر بھی لاگو ہوتا ہے ۔ دوسرے میں نے یہ بھی محسوس کیا میں کسی انسان کے سامنے نہیں بلکہ ایک ادارے کے سامنے گیا ہوں۔