نگران وزیر داخلہ کی سختی....!

10 اپریل 2013

نگران وزیر داخلہ ملک حبیب بظاہر سیدھے سادھے انسان معلوم ہوتے ہیں۔ سابق وزیر داخلہ رحمان ملک جیسی چالاکی ہوشیاری دیکھنے میں نہیں آئی شاید اسی وجہ سے ان کا زیادہ دیر وزیر داخلہ رہنا مشکل لگتا ہے۔ سیاستدانوں کو گول مول بیان بازی کی عادت ہے۔ ملک حبیب نے سیدھی بات سیدھے طریقے سے کر دی جو ان کے لئے مشکل کا باعث بن گئی۔ نواز شریف سے متعلق بیان پر دیگر سیاسی پارٹیوں نے ان کی برطرفی کا مطالبہ کر دیا۔ سیاسی پارٹیاں خائف ہیں کہ ملک حبیب نے نواز شریف کی حمایت میں بیان دے کر جانبداری کا ثبوت دیا ہے جبکہ ایک نگران وزیر داخلہ کو غیر جانبدار ہونا چاہئے۔ ملک حبیب پر الزام ہے کہ انہوں نے نواز شریف کو بڑا سیاسی لیڈر قرار دیا اور ان کی سکیورٹی کو خاص اہمیت دی ہے۔ نگران وزیر داخلہ نے حقیقت کو الفاظ میں بیان کر دیا تو لوگ برا مان گئے اور ان کے بیان کو متنازعہ قرار دے دیا۔ نواز شریف اچھا ہے یا بُرا مگر اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیںکہ نواز شریف پاکستان کی سیاست میں ایک بڑا نام ہے اور یہ خدشہ بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ اس وقت سب سے زیادہ خطرہ نواز شریف کی زندگی کو لاحق ہے۔ نگران وزیر داخلہ سے یہ غلطی ہوئی کہ ان کی زبان پھسل گئی اور انہوں نے حقیقت کو لفظوں میں بیان کر دیا۔ نگران وزیر داخلہ پر اعتراضات اٹھے تو انہوں نے وضاحت کر دی کہ ان کے نزدیک تمام سیاسی قائدین یکساں حیثیت رکھتے ہیں اور وہ شفاف الیکشن کی ذمہ داری کے پاپند ہیں۔ انہوں نے اپنے جانبدارانہ رویہ کی سختی سے تردید کی مگر لگتا یہی ہے کہ نگران وزیر داخلہ کو عہدہ راس نہیں آیا۔ نگران حکومت میں بیشتر وہ لوگ بھرتی ہیں جو لفظوں سے کھیلنا جانتے ہیں کوئی غیر جانبدار نہیں، سب کسی نہ کسی سیاسی پارٹی کے ساتھ جذباتی طور پر وابستہ ہیں البتہ کچھ لوگوں کی زبان پھسل جاتی ہے اور کچھ اندر ہی اندر کام دکھا جاتے ہیں۔ جن سیاستدانوں نے پانچ سال نہ صرف زرداری ٹولے کو برداشت کیا بلکہ اس کے اتحادی بنے رہے، انہیں اب معمولی باتوں کو بھی برداشت کرنے کا ظرف پیدا کر لینا چاہئے۔ نگران وزیر داخلہ کی نیت کو ایشو بنا کر قوم کی توجہ ہٹانے کی کوشش نہ کی جائے۔ نگران وزیر داخلہ کی ذمہ داری انتہائی حساس نوعیت کی ہے۔ چاروں طرف خطرات منڈلا رہے ہیں جبکہ نگران وزیراعلیٰ پنجاب نجم سیٹھی بسنت منا رہے ہیں۔ اندیشے ہی تو ہیں جن کے پیش نظر نواز شریف کی زبان اپنے ازلی دشمن مشرف کے خلاف بھی خاموش ہے ورنہ یہ کیوں کر ممکن ہے کہ دشمن گھر میں موجود ہو اور وہ اس کی موجودگی اور دشمنی کو نظرانداز کر دیں۔ خاموشی کا معاہدہ عربی میں ہے یا انگریزی زبان میں مگر حقیقت یہی ہے کہ خاموشی کے پس پشت بیرونی مداخلت کا مکمل عمل دخل ہے۔ نواز شریف تو صرف خاموش ہے جبکہ عوام مشرف کی عقل پر حیران ہیں جو اپنے خلاف زمینی حقائق کو جانتے ہوئے بھی وطن لوٹ آیا ۔جواب بڑا سیدھا ہے کہ موصوف آئے نہیں بھیجے گئے ہیں۔ اس شخص کی زندگی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی زندگی سے قیمتی نہیں۔ جرنیل بھی خداکی مخلوق ہوتے ہیں، ان کی جان کا حساب بھی ہوتا ہے۔ جنرل مشرف کے حساب کے لئے جامعہ حفصہ کی ایک بیٹی کا خون بہا کافی ہے۔ جس ملک کو یہ شخص وطن کہتا ہے اس کی سرزمین پر ڈرون حملوں کا بانی یہی شخص ہے۔ جس جنگ کی وجہ سے وطن کو آگ و خون میں جھونک دیا گیا، اس کا تخریب کار یہی شخص ہے۔ جس وطن کے بیٹے لاپتہ ہیں، ان کا سوداگر یہی شخص ہے۔ جس وطن کی بیٹیوں کو زندہ جلا دیا گیا، اس کی منصوبہ بندی کا ماسٹر مائنڈ یہی شخص ہے۔ بلوچستان کو بھارت کا نوالہ تر بنانے والا سازشی یہی شخص ہے۔ نواز شریف پر طیارہ اغوا کا جرم عدالت میں پیش کیا جاتا، ان کے جلاوطنی کے معاہدہ کو مسترد کر دیا جاتا مگر یہ شخص ایسا کوئی قدم اٹھانے کی حیثیت میں نہ تھا کہ کٹھ پتلیاں آقاﺅں کے حکم کی غلام ہوتی ہیں۔ بادشاہوں نے شریف خاندان پر مہربانی کی وگرنہ اس شخص نے نواز شریف کو بہت پہلے قتل کرا دینا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے پیپلز پارٹی بنائی تو نواز شریف نے مسلم لیگ کو زندہ کیا۔ پاکستان کی تاریخ میں دونوں بڑے سیاسی لیڈر سمجھے جاتے ہیں۔ عمران خان پہلی بار الیکشن لڑنے جا رہے ہیں، ان کی مقبولیت کی زمینی حقیقت کو الیکشن کے نتائج ثابت کریں گے۔ پرویز مشرف کو اس کی موت وطن لائی ہے جبکہ نواز شریف کو اس کی زندگی باہر لے گئی تھی۔ مشرف کا بھارتی میڈیا کے سوالات کا منہ توڑ جواب درحقیقت خود پر لگے الزامات کا ردعمل تھا۔ موصوف آج بھی خود کو جرنیل سمجھتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے مشرف کے بیرون ملک جانے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ مشرف سپریم کورٹ کا مجرم ہے۔ چیف جسٹس کے ساتھ غیراخلاقی اور غیر قانونی سلوک کرنے والا آج اس کی عدالت میں بطور مجرم پیش ہو گا۔ آسمان جب رنگ بدلتا ہے تو زمین پر بادشاہ کو فقیر اور فقیر کو بادشاہ بنا دیتا ہے۔ آسمان نے ابھی بہت رنگ بدلنے ہیں لہذا سیاستدان نگران وزیر داخلہ کے بیان کو ایشو بنانے کی بجائے الیکشن کو یقینی بنانے کی کوشش کریں۔