”انتخابی کلچر تبدیل نہیں ہوا‘ الیکشن کمشن کے کمپیوٹر ”ہیک“ ہو رہے ہیں“

10 اپریل 2013

لاہور (خبر نگار) پاکستان میں انتخابی کلچر کی تبدیلی کیلئے تعلیم بیحد ضروری ہے۔ ان خیالات کا اظہار حمید نظامی پریس انسٹی ٹیوٹ میں ”الیکشن کلچر ۔ صورتحال اور تقاضے“ کے موضوع پر ہونیوالے سیمینار سے خطاب کرنیوالے مقررین نے کیا۔ سیمینار سے سابق وفاقی وزیر سنیٹر ایس ایم ظفر، جسٹس (ر) ناصرہ جاوید اقبال، ایڈمرل (ر) جاوید اقبال، فرخ سہیل گوئندی اور فیملی میگزین کے ڈپٹی ایڈیٹر شاہد نذیر چودھری نے خطاب کیا۔ ابصار عبدالعی نے نظامت کے فرائض انجام دئیے۔ ایس ایم ظفر نے کہا کہ ملک میں کرپشن اوپر سے نیچے تک سرایت کر چکی ہے۔ ووٹر بھی نقد یا اشیاءمانگتا ہے۔ بلدیاتی انتخابات نہ کرانے سے بھی خرابیوں میں اضافہ ہوا ۔ الیکشن کمشن بھی آج ایک بات کہتا ہے کبھی دوسری بالکل الٹ بات کر دیتا ہے۔ جھرلو سے معاملہ شروع ہوا ۔ مینو فیکچرنگ اور پھر کمپیوٹرائزڈ دھاندلی تک گیا۔ اب الیکشن کمشن کے کمپیوٹر ”بیک“ ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم سے سیاسی، انتخابی کلچر تبدیل کر سکتی ہے۔ برطانیہ میں پہلے صرف اشرافیہ (پڑھے لکھوں) کو ووٹ کا حق تھا۔ امریکہ میں بھی پڑھے لکھوں کو ووٹ کا حق تھا۔ پاکستان میں امیدوار پڑھے لکھے ہونے کا تجربہ کیا گیا۔ انگریز پاکستان سے جاتے ہوئے ان پڑھ افراد کو ووٹ کا حق دے گیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کسی ایسے مسیحا کا انتظار نہ کریں جو رول ماڈل ہو تاکہ معاملات درست کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ سر ید نے مسلمانوں کے اذہان تبدیل کئے ایسا نہ ہوتا تو 46ءکے انتخابات میں مسلم لیگ نہ جیت سکتی۔ سرسید مسلمانوں کی توجہ تعلیم کی طرف نہ دیتے تو پاکستان نہ بنتا۔ انہوں نے کہ کہ حکومت تعلیم سستی کر دے سب ٹھیک ہو جائے گا۔ ناصرہ جاوید اقبال نے کہا کہ میرا بیٹا اب الیکشن لڑ رہا ہے اس کے باپ نے بھی الیکشن لڑا تھا۔ تب انہیں منع کیا تھا الیکشن ہار کر انہوں نے کہا کہ لڑنا ہی نہیں چاہئے تھا۔ 21 سال کی عمر سے آج تک ہر الیکشن میں ووٹ ڈالا ہے۔ سیاست کا کلچر ہم سب مل کر ہی ٹھیک کر سکتے ہیں۔ ملک میں بار بار مارشل لاءلگنے کی وجہ سے منتخب نمائندے بھی خود کو عوام کا خادم اور نمائندہ سمجھنے کی بجائے فوجی حکمرانوں کی طرح حکمران سمجھنے لگے ہیں۔ بیگم نصرت بھٹو کا یہ کہنا یاد ہے کہ ”حکومت کرنے کے لئے پیدا ہوئے ہیں“۔ سیاست میں وراثت سب سے بڑی خرابی کی جڑ ہے۔ بلدیاتی انتخابات کے ذریعے سیاسی اور انتخابی کلچر بہتر کیا جا سکتا ہے۔ بلدیاتی الیکشن ہو جاتے تو آج انتخابی ماحول بہتر ہوتا۔ یہاں تو ووٹ مانگنے کے لئے ساتھ چلنے والے بھی پیسے مانگتے ہیں۔ نادہندگان کو الیکشن لڑنے سے روکنا چاہئے تھا مگر وہ الیکشن لڑ رہے ہیں۔ وفاداریاں تبدیل کرنے کا کلچر تبدیل نہیں ہوا۔ اسی لئے ابھی تک امیدواروں کا اعلان نہیں کیا گیا۔ الیکشن 11 مئی کو نہ ہوئے تو سنگین نتائج برآمد ہونگے۔ قائداعظم کو کافر، پاکستان کو کافرستان کہنے والے اقتدار کی باگ دوڑ سنبھالنے کیلئے بے چین ہیں۔ ووٹ اسے دے جو ملک سے مخلص ہو ۔ ایڈمرل جاوید اقبال نے کہا کہ سیاست میں سب ایک تھالی کے چٹے بٹے ہیں۔ یہاں برداشت کا کلچر ہی نہیں ہے۔ فوج کی تعداد 10 لاکھ ہے جبکہ پاکستان کی آبادی 18 کروڑ ہے۔ پاکستان فوج کا حصہ نہیں ۔ فوج پاکستان کا حصہ ہے۔ اگر سپہ سالار نے حکمران بننا ہوتا تو حضرت خالد بن ولیدؓ پانچویں خلیفہ ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ جن دو جماعتوں کو ان کے ”رہنما¶ں“ کی وجہ سے جوائن کیا۔ راہنما¶ں سے ”مایوس“ ہونے کے بعد چھوڑا۔ انہوں نے کہا کہ ہم منافقوں، بے ایمانوں کی قوم بن چکے ہیں۔ ہمیں ایماندار آدمی سوٹ ہیں کرتا۔ تحریک 30 اکتوبر تک صاف پانی کا گلاس تھی۔ بعد میں پانی میں غلاضت شامل کر دی گئی۔ فرخ سہیل گوئندی نے کہا کہ ہم علامہ اقبال نہیں صرف جاوید اقبال کے فلسفے کو سمجھ لیں تو پاکستان کے مسائل حل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ صرف خدا کے پسندیدہ لوگ ہیں۔ حالانکہ خدا کو ماننے والے اور نہ ماننے والے سب اس کے پسندیدہ بندے ہیں۔ علم سب سے بڑی طاقت ہے۔ علم بانٹنے سے قوم کی صورتحال بدل جائے گی۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں تعلیم تجارت بن گئی ہے۔ ریاست کی طاقت علم ہوتا ہے۔ شاہد نذیر چودھری نے کہا کہ الیکشن کلچر بہتر کرنے کیلئے اپنے گلی محلے کے کلچر کو بہتر کرنا ہو گا۔ مقامی لیڈر شپ (کونسلر۔ ناظم) کو مثالی ہونا چاہئے مگر بدقسمتی سے ہماری مقامی لیڈر شپ جرائم پیشہ ہے۔ 63-62 بلدیاتی انتخابات پر بھی لاگو ہونی چاہئے تاکہ وہاں سے بہتر لیڈر شپ آگے جا سکے۔ بدقسمتی سے عوام بھی اپنے قومی فریضے سے لاعلم ہیں۔ بدقسمتی یہ بھی ہے سیاست دان سیاست کو کاروبار بنا چکے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر اپنا کھیل کھیل رہے ہیں۔