الیکشن 2013 ئ: دیہات میں برادری ازم حاوی رہے گا

10 اپریل 2013

رپورٹ: فرخ سعید خواجہ
پاکستان کی تاریخ میں سب سے لمبی انتخابی مہم 1970ءکے عام انتخابات کی تھی۔ جس کا آغاز جنوری کے پہلے ہفتے میں ہوا اور پولنگ 7 دسمبر کو ہوئی جبکہ الیکشن 2013ءمیں چلنے والی انتخابی مہم کا عرصہ محض ایک ماہ کے قریب ہو گا ۔ 18 دسمبر 2013ءکو جب امیدواران قومی و صوبائی اسمبلی اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے لیں گے اور باقی رہ جانے والے حتمی امیدواروں کی فہرستیں منظر عام پر آ جائیں گی تو بھرپور انتخابی مہم شروع ہو گی جو پولنگ سے 36 گھنٹے پہلے ختم ہو جائے گی۔1970ءکے عام انتخابات کے نتائج غیر متوقع رہے تھے اور مشرقی و مغربی پاکستان میں بڑے بڑے برج الٹ گئے تھے بلکہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ مغربی پاکستان میں شامل پنجاب اور سندھ میں ذوالفقار علی بھٹو کی پاکستان پیپلز پارٹی نے سنگل لارجسٹ پارٹی ہونے کا اعزاز حاصل کیا جبکہ آج کے خیبر پی کے اور بلوچستان میں صورتحال برعکس رہی تھی۔ پشاور سے خان عبدالولی خان‘ غلام فاروق خان‘ مولانا عبدالحق آف اکوڑہ خٹک‘ ہزارہ سے مولانا غلام غوث ہزاروی‘ مولانا عبدالحکیم‘ سردار عنایت الرحمن‘ مردان سے خان عبدالقیوم خان‘ عبدالخالق خان‘ ڈیرہ اسمٰعیل خان سے مولانا مفتی محمود جیسے قدآور لیڈروں نے کامیابی حاصل کی تھی۔ مولانا مفتی محمود جو کہ مولانا فضل الرحمن کے والد ہیں انہوں نے ڈیرہ اسمٰعیل خان میں ذوالفقار علی بھٹو کو شکست دی تھی۔ مولانا عبدالحق اکوڑہ خٹک جمعیت علماءاسلام میں (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق کے والد محترم تھے۔ پنجاب سے بھی اٹک سے مسلم لیگ کونسل کے سربراہ سردار شوکت حیات‘ گجرات سے چودھری ظہور الٰہی‘ نوابزادہ ملک مظفر خان‘ جھنگ سے صاحبزادہ نذیر سلطان‘ ڈیرہ غازی خان سے ڈاکٹر نذیر احمد‘ سردار شیرباز خان مزاری‘ بہاولنگر سے سید رفیق محمد شاہ اور رحیم یار خان سے جمال محمد کامیاب ہو گئے تھے لیکن مجموعی طور پر پنجاب کے شہروں میں بڑے بڑے زمیندار سیاستدان پیپلز پارٹی کے عام امیدواروں کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہو گئے تھے۔ الیکشن 2013ءبھی ایک ایسی فضا میں منعقد ہو رہا ہے جس میں ملک کی سابق حکمران جماعتوں کے مقابلے میں پاکستان تحریک انصاف ایک نئی سیاسی قوت کی حیثیت سے سامنے آ رہی ہے۔ یوں تو تحریک انصاف 1996ءمیں وجود میں آئی تھی اور اس نے اپنی سیاسی زندگی کے پہلے دو الیکشن 1997ءاور 2002ءبہت بری طرح ہارے جبکہ الیکشن 2008ءکا بائیکاٹ کر دیا۔ تاہم اب لوگ پاکستان تحریک انصاف کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ شاید وہ مروجہ سیاسی نظام میں تبدیلی لانے کا سبب بن جائے۔ عمران خان نے یوں تو مسلم لیگ (ق) کے پرویز مشرف کے بے شمار ساتھیوں کو گلے لگا کر اپنی ٹیم میں شامل کر رکھا ہے۔ اس کے باوجود ان کی جماعت میں نیا خون بھی کثرت سے موجود ہے۔ پاکستان تحریک انصاف واحد جماعت نہیں ہے جس میں عام لوگ اور پڑھے لکھے متوسط و غریب طبقے کے نوجوان ہیں ان سے پہلے مسلم لیگ (ن)‘ پیپلز پارٹی‘ جماعت اسلامی‘ متحدہ قومی موومنٹ عام لوگوں کے بچوں کو اسمبلیوں میں پہنچاتے رہے ہیں۔ الیکشن 2013ءمیں مسلم لیگ (ن) کے لاہور سے منتخب ہونے والے بیشتر ممبران قومی و صوبائی اسمبلی متوسط اور غریب طبقے سے تھے۔ ان میں ملک ریاض‘ رانا اقبال خاں‘ ڈاکٹر اسد اشرف‘ بلال یٰسین‘ خواجہ عمران نذیر‘ آجاسم شریف‘ میاں مرغوب‘ رانا مشہود‘ اشتیاق مہر‘ چودھری شہباز‘ نوید انجم‘ اللہ رکھا‘ زعیم قادری‘ نصیر بھٹہ‘ رمضان صدیق بھٹی کی مثالیں سب کے سامنے ہیں۔ پیپلز پارٹی نے جہانگیر بدر‘ اعتزاز احسن‘ طارق وحید بٹ‘ ڈاکٹر حسنات شاہ‘ سید آصف ہاشمی‘ نوید چودھری‘ منور انجم‘ سہیل ملک‘ زبیر کاردار اور جماعت اسلامی نے حافظ سلمان بٹ‘ لیاقت بلوچ‘ فرید پراچہ‘ میاں مقصود احمد‘ امیر العظیم جیسے کارکنوں کو ٹکٹوں سے نوازا اور ان میں سے بیشتر اسمبلیوں میں پہنچے۔ متحدہ قومی موومنٹ کی مثال بھی سب کے سامنے ہے کہ عام گھرانے کے نوجوانوں کو کس طرح انہوں نے اسمبلیوں تک پہنچایا۔ سو شہروں کی حد تک تو تمام سیاسی جماعتیں ہی اپنے کارکنوں‘ پڑھے لکھے سفید پوشوں کو ٹکٹوں سے نوازتی ہیں ان کا اصل امتحان دیہی علاقوں میں ہوتا ہے جہاں سے وہ برادری اور زمینیں‘ سرمایہ دیکھ کر ٹکٹ دیتی ہیں۔ اس سب کے باوجود الیکشن 2013ءسے ہماری امید ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنے زیادہ سے زیادہ حقداروں کو پارٹی ٹکٹ سے نوازیں گی تاکہ وہ ملک کیلئے اثاثہ ثابت ہو سکیں۔