فیصل آباد:22 صوبائی حلقوں میں امیدواروں کی ادھوری نامزدگی ‘ سیاسی منظر نامہ دھندلانے لگا

10 اپریل 2013

فیصل آباد (انتخابی منظر نامہ: احمد کمال نظامی) سٹی ڈسٹرکٹ فیصل آباد کے پنجاب اسمبلی کے 22 حلقوں میں سیاسی جماعتوںکے امیدواروں کی نامزدگی نہ ہونے کی وجہ سے زیادہ تر حلقوں میں سیاسی منظر واضح نہیں ہے اور یہ دھندلانے لگا ہے البتہ یہ بات درست ہے کہ رانا ثناءاللہ خاں‘ راجہ ریاض احمد خاں‘ چودھری ظہیرالدین‘ چودھری زاہد نذیر اور چودھری محمد افضل ساہی لازمی طور پر فیصل آباد سے پنجاب اسمبلی کے امیدواروں میں شامل ہوں گے۔ سٹی ڈسٹرکٹ فیصل آباد سے پنجاب اسمبلی کے حلقوں سے الیکشن لڑنے والوں میں فیصل آباد سے پنجاب اسمبلی کے پہلے حلقہ پی پی51 سے مسلم لیگ (ن) کے متوقع امیدواروں میں سابق سپیکر پنجاب اسمبلی افضل ساہی اور سابق ناظم ضلع فیصل آباد زاہد نذیر کے ناموں کے علاوہ (ق) لیگ کی طرف سے سابق ناظم سٹی ڈسٹرکٹ فیصل آباد رانا زاہد توصیف کے کاغذات نامزدگی کلیئر ہو چکے ہےں اس حلقہ میں سابق صدر ڈسٹرکٹ بار چودھری فواداحمد چیمہ کانام بھی امیدواروں کی فہرست میں ہے لیکن انہیں این اے 75 سے تحریک انصاف اپنا امیدوار نامزد کر چکی ہے۔ این اے 75 میں پی پی 51 کے علاوہ پی پی 52 شامل ہے۔ افضل ساہی الیکشن 2002ءمیں (ق) لیگ کے امیدوار کے طور پر اس حلقہ سے پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ اس وقت زاہد نذیر ناظم ضلع فیصل آباد اور افضل ساہی نائب ناظم ضلع فیصل آبادتھے۔ یہ الیکشن پیپلز پارٹی کے رانا لیاقت علی نے کلوز مارجن سے ہارا تھا۔ لیکن الیکشن 2008ءمیں انہوں نے سابق سپیکر پنجاب اسمبلی کو شکست سے دو چار کر دیا تھا۔ ایک سابق رکن پنجاب اسمبلی چودھری منظور احمد کا نام بھی ان امیدواروں میں شامل ہے جن کے کاغذات نامزدگی کلیئر ہو چکے ہیں۔ چودھری منظور احمد ماضی میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر اس حلقہ سے پنجاب اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ رانا لیاقت نذر نے چونکہ گذشتہ پانچ برسوں کے دوران این اے 75 سے پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی طارق باجوہ کے ساتھ پارٹی کاموں میں تعاون روا نہیں رکھا لہٰذا وہ اس مرتبہ چودھری منظور احمد کو پارٹی ٹکٹ دلوانا چاہتے ہیں۔ چودھری افضل ساہی نے پی پی 52 میں بھی اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرا رکھے ہیں اور غالباً یہ اس لئے ہے کہ اگر پارٹی قیادت ان کے بھائی اور سابق رکن قومی اسمبلی کرنل (ر) غلام رسول ساہی کو این اے 75 سے اور انہیں پی پی 52 سے پارٹی امیدوار نامزد کرتی ہے تو پارٹی قیادت کیلئے پی پی 51 سے چودھری زاہد نذیر کو اپنا امیدوار نامزد کرنے کی گنجائش موجود ہو گی۔ چودھری زاہد نذیرنے الیکشن 2008ء(ق) کی طرف سے این اے 76 میں پیپلز پارٹی کے نواب شیر وسیر کے مقابلے میں انتہائی کلوز مارجن سے ہارا تھا۔ زاہد نذیر اور افضل ساہی کے خاندان نے کئی ماہ پہلے (ق) لیگ کو چھوڑ کر مسلم لیگ (ن) اختیار کرلی تھی۔ زاہد نذیر کے چھوٹے بھائی چودھری عاصم نذیر نے دونوں عام انتخابات میں این اے 77 سے (ق) لیگ کے امیدوار کے طور پر حصہ لیا تھا اور قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہو گئے تھے اور دونوں مرتبہ انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے چودھری محمد طلال کو شکست دی تھی۔ اب چودھری محمد طلال ان کے مقابلے میں این اے 77 میں بھی پارٹی امیدوار ہیں اور انہوں نے اپنے کاغذات نامزدگی این اے 76 میں بھی جمع کرا رکھے ہیں گویا وہ اس حلقہ سے بھی پارٹی ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کے لئے تیار ہیں۔ چودھری عاصم نذیر نے پی پی 51 میں چودھری زاہد نذیر کے کورنگ امیدوار کے طور پر کاغذات نامزدگی داخل کرا رکھے ہیں۔ پی پی 52 سے الیکشن 2008ءظفر ذوالفقرنین ساہی نے جیتا تھا۔ قومی و صوبائی اسمبلی کے سابق امیدوار ڈاکٹر محمد شفیق مسلم لیگ (ن) کے نامزد امیدوار تھے اور ظفر ذوالفقرنین کے مقابلے میںشکست کھا گئے تھے۔ انہوں نے اپنے والد کرنل (ر) غلام رسول ساہی اور چچا افضل ساہی کے ہمراہ دو برس پہلے جاتی عمرہ رائے ونڈ میں نواز شریف سے ملاقات کر کے انہیں مسلم لیگ (ن) میں شامل ہونے کی یقین دہانی کرا دی تھی۔ وہ (ق) کے یونیفکیشن بلاک میں شامل ہو گئے تھے۔ ساہی فیملی این اے 75 سے کرنل غلام رسول ساہی‘ پی پی 51 سے افضل ساہی اور پی پی 52 سے ظفر ذوالفقرنین ساہی کے لئے پارٹی ٹکٹ کی خواہاں ہے لیکن زیادہ امکان ہے کہ مسلم لیگ (ن) پی پی 51 سے زاہد نذیر کو پارٹی ٹکٹ دینے کیلئے افضل ساہی کو پی پی 52 سے پارٹی ٹکٹ جاری کرے گی جبکہ این اے 75 کا پارٹی ٹکٹ کرنل غلام رسول ساہی کو جاری کیا جائے گا۔ زاہد نذیر فیملی سابق رکن قومی اسمبلی عاصم نذیر کیلئے این اے 77 کا پارٹی ٹکٹ چاہتی ہے اور گماں غالب ہے کہ یہ پارٹی ٹکٹ ان کو جاری ہو جائے گا اور اس طرح ساہی فیملی اور نذیر فیملی دونوں کو قومی اسمبلی کے ایک ایک حلقہ کے ساتھ پنجاب اسمبلی ایک ایک سیٹ دے دی جائےگی۔ این اے 77 میں پنجاب اسمبلی کے ذیلی حلقے 55 سے (ق) لیگ پنجاب کے جنرل سیکرٹری چودھری ظہیرالدین خاں الیکشن 2002ءاور الیکشن 2008ءکے فاتح ہیں ۔ وہ سابق صوبائی وزیر اور سابق اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی بھی ہیں اور ماضی میں چودھری عاصم نذیر اور وہ ایک دوسرے کی کامیابی کیلئے اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ اس حلقہ سے چودھری ظہیرالدین کے علاوہ سابق صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ خاں کے کاغذات نامزدگی بھی جمع ہو چکے ہیں اور قومی و صوبائی اسمبلی کے سابق رکن ڈاکٹر محمد شفیق کے کاغذات نامزدگی بھی اس حلقہ سے کلیئر ہیں لیکن ابھی تک یہ بات واضح نہیں ہے کہ کس پارٹی کی طرف سے الیکشن لڑنا چاہتے ہیں۔ این اے 77 سے چودھری عاصم نذیر کے کاغذات نامزدگی کلیئر ہو چکے ہیں جبکہ چودھری زاہد نذیر نے بھی ان کے کورنگ امیدوار کے طور پر اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرارکھے ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ چوہدری ظہیر الدین خان اس حلقہ سے بھی (ق) لیگ کے متوقع امیدوار ہیں اور اس سے بھی زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس حلقہ سے سابق صوبائی وزیر رانا ثناءاللہ خاں کے کاغذات نامزدگی بھی کلیئر ہیں۔ کیا رانا ثناءاللہ خاں پی پی 55 یا این اے 77 کے امیدوار ہوںگے تو عاصم نذیر کس پارٹی کی طرف سے الیکشن لڑیں گے۔ اگر عاصم نذیر این اے 77 سے تحریک انصاف کے امیدوار بنتے ہیں تو پی پی 51 سے زاہد نذیر بھی تحریک انصاف کے امیدوار ہوں گے۔ رانا ثناءاللہ خاں نے اپنے سابقہ حلقہ انتخاب پی پی 70 سے بھی کاغذات نامزدگی جمع کرا رکھے ہیں۔ سابق سینئر صوبائی وزیر راجہ ریاض احمد نے اپنے سابق حلقہ انتخاب پی پی 65 سے کاغذات نامزدگی داخل کرا رکھے ہیں۔ پیپلز پارٹی این اے 82 میں سنی اتحاد کونسل کے امیدوار صاحبزادہ حاجی محمد فضل کریم کے مقابلے میں اپنا امیدوار کھڑا نہیں کر رہے۔ پی پی 65 اور پی پی 66 این اے 82 کے ذیلی ادارے ہیں اور پی پی 66 سے مسلم لیگ (ن) کے گذشتہ دونوں انتخابات کے رکن پنجاب اسمبلی رانا محمد افضل خاں اس مرتبہ صاحبزادہ فضل کریم کے مقابلے میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار ہوں گے۔ مسلم لیگ ن نے بھی پی پی 65 اور پی پی 66 سے اپنے امیدواروں کی نامزدگی کرنی ہے۔ پی پی 66 سے سابق رکن صوبائی اسمبلی قمرالزمان اعوان کو مسلم لیگ (ن) کا ٹکٹ ملنے کے امکانات ہیں۔ پی پی 65 سے سابق تحصیل نائب ناظم الیاس انصاری کا نام مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ پیپلزپارٹی کی طرف سے پی پی 65 سے راجہ ریاض احمد امیدوار ہوں گے جبکہ پی پی 66 سے ابھی امیدوار سامنے آناہے۔ تحریک انصاف نے صاحبزادہ فضل کریم اور رانا محمد افضل خاں کے مقابلے میں این اے 82 سے محمد طارق چودھری کو پی پی 65 سے میاں ذوالفقار شاہد کے بیٹے اور سابق یوسی ناظم میاں روزی کو اور پی پی 66 سے راجپوت خاندان کی ایک فعال شخصیت نجم الحسن کو اپنے امیدوار نامزد کیا ہے۔ قومی اسمبلی کے سابق رکن کیپٹن نثار اکبر بھی این اے 82 سے تحریک انصاف کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنا چاہتے ہیں اور پرامید ہیں کہ پارٹی ٹکٹ کافیصلہ ان کے حق میں ہو جائے گا۔ جڑانوالہ سے قومی اسمبلی کے حلقہ 76 کے ذیلی حلقوں پی پی 53 اور پی پی 54 سے بھی متعدد نامی گرامی شخصیات نے کاغذات نامزدگی جمع کرا رکھے ہیں۔ پی پی 53 سے مسلم لیگ کے متوقع امیدوار پنجاب اسمبلی کے سابق رکن میجر (ر) رانا عبدالرحمن ہیں۔ سابق وفاقی وزیر بیرسٹر وصی ظفر کے بیٹے عمیر وصی کا نام بھی امیدواروں کی فہرست میں ہے اور پیپلز پارٹی کے این اے 76 کے متوقع امیدوار نواب شیر وسیر نے بھی اس حلقہ سے اپنے کاغذات نامزدگی داخل کرا رکھے ہیں۔ پی پی 54 سے مسلم لیگ (ن) کے متوقع امیدوار رانا اظہر حسین‘ تحریک انصاف کے متوقع امیدوار غلام حیدر باری کے نام امیدواروں میں شامل ہیں۔ غلام حیدر تحریک پاکستان کے رہنما اور طبل حریت میاں عبدالباری کے پوتے ہیں اور الیکشن 2002ءمیں پنجاب اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں۔ این اے 81 سے الیکشن 2002ءاور الیکشن 2008ءمیں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہونے والے رانا آصف توصیف نے الیکشن 2013ءکے لئے این اے 81 اور ذیلی حلقہ پی پی 63 سے کاغذات نامزدگی داخل کرائے ہیں۔ ابھی تک یہ بات واضح نہیں ہوئی کہ وہ کس پارٹی کی طرف سے الیکشن لڑیں گے اور انہوں نے اپنا حلقہ انتخاب کیوں تبدیل کیا ہے۔ این اے 81 سے جہاں زیب امتیاز گل نے بھی کاغذات نامزدگی داخل کر رکھے ہیں۔ وہ پیپلز پارٹی کے سابق رکن صوبائی اسمبلی ہیں۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ وہ این اے 81 یا پی پی 69 سے تحریک انصاف کے ٹکٹ کے امیدوار ہیں اور انہی حلقوں کا یہ خیال بھی ہے کہ قومی اسمبلی کے سابق رکن رانا آصف توصیف این اے 81 سے مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ کے امیدوار ہیں اور اگر انہیں اس حلقہ سے مسلم لیگ (ن) کا ٹکٹ مل تو رانا زاہد توصیف پی پی 52 سی اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے لیں گے۔ پی پی 71 سے دو مرتبہ رکن صوبائی اسمبلی رہنے والے ملک محمد نواز کا مسلم لیگ (ن) کا ٹکٹ کنفرم ہے اور اس حلقہ کی صورتحال واضح کر رہی ہے کہ اس مرتبہ بھی ملک محمد نواز کی کامیابی کے روشن امکانات ہیں۔