الحمراءآرٹ گیلری میں ینگ پینٹرز کا میلہ اور نمائش

10 اپریل 2013

علامہ اقبالؒ کو سب سے زیادہ امیدیں نوجوان نسل سے تھیں۔ وہ جوانوں کو پیروں کا استاد دیکھتے تھے اور ہمیشہ اس خواہش کا اظہار کرتے تھے
نہیں ہے نوامید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
لاہور آرٹس کونسل صرف اس مقصد کیلئے قائم کی گئی تھی کہ یہاں نوجوانوں کو فنون لطیفہ کے مختلف شعبوں میں اپنے ٹیلنٹ کو دکھانے اور آزمانے کے مواقع ملیں گے اور یہ بات سچ ہے کہ آرٹ کونسلیں کرایہ جمع کرنے کے لئے قائم نہیں کی گئی ہیں بلکہ ان کے قیام کا بنیادی مقصد فنون لطیفہ کے فروغ کیلئے سازگار ماحول مہیا کرنا ہے۔
اس وقت تانیہ سہیل الحمراءآرٹس گیلری کی کیوریٹر ہیں، نو سال سے وہ مسلسل نئی نسل کے فنکاروں کے فن پاروں کی سالانہ نمائش کر رہی ہیں۔ ان نو سالوں کا جائزہ لیتے ہوئے تانیہ سہیل نے نوائے وقت کو بتایا ”میں خود بھی اچھی پینٹر ہوں اور میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے چین جا کر چینی انداز کی مصوری سیکھنے کا موقع ملا اور جب میں نے چینی سٹائل کی مصوری کا سولو شو کیا تو دیکھنے والے حیران رہ گئے کہ یہ انتہائی مشکل مصوری کا فن تو خود چینیوں کے لئے بھی سیکھنا مشکل ہے لیکن بات یہ ہے کہ جب انسان پر کوئی بھی فن سیکھنے کی دھن ہو تو پھر اسے روک کوئی نہیں سکتا۔
لاہور آرٹس گیلری کی کیوریٹر بننے کے بعد میری خواہش تھی کہ فنون لطیفہ خصوصاً مصوری وغیرہ کو فروغ دینے کے لئے نئی نسل کے فن پاروں پر مشتمل نمائشوں کا اہتمام کیا جائے۔ آج نویں نمائش منعقد ہو رہی ہے اور میں آپ کو اپنے تجربات بتاتے ہوئے فخر محسوس کر رہی ہوں کہ لاہور آرٹس کونسل نے نئی نسل کو اتنے شاندار مواقع ان نمائشوں کے ذریعہ سے فراہم کئے کہ صرف ان نو سالوں میں بہت سے فنکاروں نے گروپ شو سے آغاز کر کے نہ صرف سولو شو کئے بلکہ علی کاظم، نادیہ خان اور عمرہ خان جیسے مصوروں نے تو عالمی سطح پر اپنی پہچان بنا لی ہے۔
معاشی طور پر بھی مصوروں کی خصوصاً ینگ پینٹرز کی بہت حوصلہ افزائی ہوئی ہے کیونکہ نو سال پہلے یہ پوزیشن تھی کہ کسی نئے مصور کا بنایا ہوا نیا فن پارہ زیادہ سے زیادہ بیس ہزار روپے میں فروخت ہوتا تھا لیکن اب حالت یہ ہے کہ دو لاکھ روپے تک میں فروخت ہو جاتا ہے جس سے ینگ پینٹرز کی زبردست حوصلہ افزائی ہو رہی ہے اور وہ اپنے کام کو معیاری بنانے کیلئے دن رات ایک کر رہے ہیں۔
ینگ پینٹرز کی نویں نمائش میں 350 مصوری کے 380 فن پارے رکھے گئے ہیں اور ان کے کام کو بین الاقوامی سطح تک پہنچانے کیلئے ایک بین الاقوامی معیار کی کیٹلاگ بھی شائع کی جاتی ہے جو ہر حصہ لینے والے پینٹر کو فری دی جاتی ہے۔ یہی نہیں بلکہ بلکہ تین ججوں کی جیوری بنا کر دس بہترین ینگ پینٹرز کو منتخب کر کے فی کس دس دس ہزار روپے بطور انعام بھی دیئے جاتے ہیں۔ اس مرتبہ ہماری جیوری کنیئرڈ کالج کی پرنسپل رخسانہ ڈیوڈ، ڈین آف فائن آرٹس این سی اے پروفیسر بشیر احمد اور ویژیل آرٹسٹ عثمان سعید پر مشتمل تھی جس نے 380 فن پاروں کا جائزہ لے کر دس بہترین مصوروں کا انتخاب کیا جن کے نام ہیں: علی بابا، آمنہ منظور، عطیہ رشید، عائشہ صدیقی، کرن ریاض، کرن سلیم، لاریب، رافعہ بٹ، صبا سلیم اور سدرہ لیاقت۔
اتنی بڑی اور کامیاب نمائش کے انعقاد کا سہرا آرٹس گیلری اور لاہور آرٹس کونسل کی پوری ٹیم کو جاتا ہے لیکن خاص طور پر ایگزیکٹو ڈائریکٹر محمد علی بلوچ کی ہرممکن کوشش ہے کہ لاہور آرٹس کونسل نوجوان نسل کو فنون لطیفہ کے میدان میں مکمل حوصلہ افزائی کرے اور انہیں وہ آئیڈیل ماحول مہیا کرے جس میں آ کر ان کی تخلیقی صلاحیتوں میں مزید جلا پیدا ہو۔