انتخابات جمہوریت کا حسن ۔۔۔ الیکشن اور اہل قلم

10 اپریل 2013

 خالد یزدانی....
الیکشن 2013ءکی آمد آمد ہے انتخابی سرگرمیاں خیبر سے مہران تک جاری ہیں زندگی کے دیگر شعبوں کی نسبت اہل قلم معاشرہ کا زیادہ حساس طبقہ ہوتا ہے اور ہمارے شاعر ادیب دانشور اور صحافی موجودہ انتخابی عمل کے حوالے سے کیا سوچ رکھتے ہیں ذیل میں ہم نے ملک کے چیدہ چیدہ اہل قلم کی آرا لیں تاکہ قاری الیکشن کے حوالے سے ان کے خیالات سے آگاہ ہو سکے۔
مشکور حسین یاد 
شاعر، ادیب موجودہ الیکشن کے بارے میں یہ سوچ رکھتے ہیں کہ جو شخص نمائندگی کی اہلیت پر پورا اترتا ہے اسے سامنے لانا چاہئے۔ اس بار انتخابی مہم میں بڑا چرچا ہے کہ تبدیلی لائیں گے۔ دعا ہے کہ شفاف اور منصفانہ الیکشن کا حواب پورا ہوسکے کیونکہ ہم اتنے بدنام ہیں کہ اچھے بھلے کام کو بھی خود بگاڑ دیتے ہیں۔ ہمیں ووٹ کا حق ضرور استعمال کرنا چاہئے اور انتظامیہ کو بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہئے کیونکہ شہروں کے حالات تو کسی حد تک ٹھیک رہتے ہیں لیکن دور دراز علاقے جہاں بااثر وڈیروں، جاگیرداروں کا کنٹرول ہے وہاں ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔ کیونکہ لوگوں کے ذہنوں میں اس تبدیلی لانے کی اصل ضرورت یہاں ہے۔ لہٰذا اس بار ووٹر کو تمام دبا¶ سے نکل کر ووٹ کا حق استعمال کرنا چاہئے۔
اسلم کمال
گردشِ روز و شب سے حالات بدلنے کے آثار پیدا ہوئے ہیں اس وقت موسم بہار کی آمد آمد ہے۔ سیاسی پارٹیاں نت نئے وعدوں سے لبالب بھرے ہوئے منشوروں کے ساتھ عوام الناس کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی سرتوڑ کوشش کررہی ہیں۔ ان پارٹیوں کے ورکر اپنے اپنے حلقہ اثر میں ہاتھ پاﺅں مار رہے ہیں۔ سیاست کے میدان کے پرانے جفادری اپنے چغے بدل رہے ہیں اور نوواردان سیاست اپنی اپنی قائدانہ صلاحیتوں کے جوہر آزماتے ہر طرف نظر آتے ہیں ہر کوئی انقلاب تبدیلی اور تغیر کا نعرہ بلند کررہا ہے اور ہر سیاسی پارٹی بڑے سے بڑا جلسہ کرکے دکھا رہی ہے اور ایک سے ایک طویل جلوس نکال کر اپنی برتری ثابت کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ جیسے جیسے انتخابات قریب آ رہے ہیں،اس انتخابی گہما گہمی، چہل پہل اور تگ و دو کو ایک راست سمت دینے کی ضرورت ہے۔ عوام میں بیداری کا یہ شعور قومی امنگوں اور ملی ولولوں سے ہم آہنگ ہو جانا چاہیے۔ اس عالم میں اہل علم و دانش اور اہل قلم کا یہ قومی فریضہ بنتا ہے کہ وہ اس نازک موڑ اور انتہائی اہمیت کے حامل اس مقام پر قوم کو صحیح فیصلہ کرنے میں ممد و معاون ہوں۔
عطاءالحق قاسمی
یہ ملک و قوم کے لیے خوش آئند امر ہے کہ طویل عرصے کے بعد قوم انتخابات کے عمل سے گزر رہی ہے میرے نزدیک پاکستان کو اس وقت جن مسائل کا سامنا ہے ان سب کی اگر وجوہ تلاش کی جائےں تو آمریت اس کی بنیادی وجہ ثابت ہوگی جس سے بار بار قوم کو گزرنا پڑا بلکہ میں تو یہ محسوس کرتا ہوں ہماری موجودہ سیاست اور سیاستدانوں میں جو خرابیاں ہیں وہ بھی انتخابی عمل بار بار معطل ہونے کی وجہ سے پیدا ہوئی ہیں۔ اگر قوم کو اپنے فیصلے خود کرنے کا موقع دیا جاتا تو آج اسے ان حالات سے نہ گزرنا پڑتا جن حالات سے قوم گزر رہی ہے۔
اصغر ندیم سید
الیکشن 2013ءکی تیاری زور و شور سے جاری ہیں‘ اس موقع پر جو سب سوچ رہے ہیں میں بھی سوچ رہا ہوں کہ الیکشن وقت پر ہونے چاہئیں اور آزادانہ و منصفانہ ہونے چاہئیں اور عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ سوچ سمجھ کر ووٹ دے اور دھڑے بندی و گروہی مفاد سے بالاتر ہوکر ملک کے لیے کیا بہتر ہے اس کے حق میں فیصلہ دے۔ کیونکہ اس کے بعد ساری ذمہ داری حکومت بنانے والی جماعت پر آجاتی ہے جو پانچ برسوں تک ملک کیلئے پالیسی تشکیل دیتی ہے۔
امجد اسلام امجد
الیکشن ضرور ہونے چاہئیں اور جس قدر ممکن ہوں فیئر ہونے چاہئیں میں سمجھتا ہوں کہ راتوں رات ساری چیزیں ٹھیک نہیں ہو سکتیں لہٰذا پہلی قسط کے طور پر کرپشن وغیرہ کو دیکھا جائے تو بہتر رہے گا۔ کیونکہ اس وقت یہی ضروری ہے کہ الیکشن کسی نہ کسی طرح مقررہ تاریخ پر ہو جائےں اگر ایسا نہ ہوا تو ساری کی ساری ایکسر سائز بے معنی ہو جائے گی۔ الیکشن 2013ءمیں اگر دس سے پندرہ فیصد تک بھی پازیٹو تبدیلی آجائے تو ہم سب کیلئے یہ ایک بہتر پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
ناہید قاسمی
میں تو ایک شاعرہ ہوں، کیا کہوں، حالیہ الیکشن کے حوالے سے یہ چاہتی ہوں کہ ہم سب ووٹ کا حق استعمال کریں۔ اگر آپ ووٹ نہیں دیتے تو یہ خلاف شعور بات ہے کیونکہ اگر خالی جگہ چھوڑ دی جائے تو نا اہل لوگ بھی آگے آسکتے ہےں جو پاکستان کے لیے ہر گز مفید نہیں۔ میں سمجھتی ہوں کہ ووٹ ضرور دیں مگرسوچ سمجھ کر تاکہ اچھی قیادت سامنے آئے جو وطن عزیز کے لیے اچھے فیصلے کرے تاکہ ارض پاک ترقی کی راہ پر گامزن ہو۔ یہ سب اسی وقت ممکن ہے جب ہم ووٹ کا حق استعمال کریں گے۔
اشرف جاوید
موجودہ الیکشن کی ایک خوبی یہ ہے کہ اس مرتبہ حکومت نے بلکہ جمہوریت نے اپنی مدت بخیر و خوبی مکمل کی ہے اور یہ الیکشن کسی طاغوتی قوت کی مداخلت کے بغیر منعقد ہو رہے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں کئی نشیب و فراز آئے ہیں، کئی نادیدنی طوفانوں نے اس کا چہرہ مسخ کرنے کی کوشش کی ہے لیکن یہ ملک اللہ کے جس پاک نام پر قائم ہوا، وہ اس کا محافظ بھی ہے۔ جمہوریت نے پاﺅں پاﺅں چلنا سیکھ لیا ہے، اسی تسلسل میں اگر دو تین الیکشن اور ہو گئے، دو تین حکومتیں اور اپنی طبعی مدت پوری کرنے میں کامیاب رہیں تو یقینا پاکستان ایک مستحکم جمہوری ریاست کہلائے گا۔ 
احسان اللہ ثاقب
وطن عزیز ایک مرتبہ پھر انتخابات کے کٹھن مرحلے سے گزرکر نئے جمہوری دور میں داخل ہونے کیلئے انتخابی عمل سے گزر رہا ہے 11مئی کے مجوزہ انتخابات اگرچہ ماضی کی طرح غریب عوام کے استحصال کا ہی آئینہ دار ہوں گے تاہم اس بار عمران خان کی زیرقیادت تحریک انصاف کی شمولیت اور سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے منظرنامے میں آجانے سے صورتحال قدرے مختلف ہو سکتی ہے۔ اس بار الیکشن کمیشن اور نگران حکومتوں نے آئین کی دفعات 62 اور 63 کے تحت امیدواروں کی سکریننگ کا عمل جس شفاف انداز سے کیا ہے اس نے پیشہ ور سیاست دانوں کے لیے خاصی مشکلات پیدا کردی ہیں۔ اس جانچ پڑتال کے نتیجے میں سابق وزیراعظم پرویز اشرف اور ایم این اے جمشید دستی جیسے قانون سازوں کے کاغذات نامزدگی مسترد کردیئے گئے ہیں۔ دوسری جانب جعلی ڈگریوں کا ثبوت مل جانے سے کئی ممبران اسمبلی کا سیاسی کیریئر داﺅ پر لگا دیا ہے۔ مجموعی طور پر امید کی جا سکتی ہے کہ اس بار عوام اپنا ووٹ استعمال کرتے وقت کئی بار سوچیں گے۔
سلمیٰ اعوان
الیکشن کا انعقاد خوش آئند بات ہے کہ حکومت نے اچھا برا جیسا بھی وقت گزرا لیکن آئینی مدت پوری کی ایسا ہماری تاریخ میں پہلی بار ہوا۔ ضرورت اس بات کی تھی کہ اس عمل کو بار بار دہرایا جاتا کیونکہ ایسے عمل سے لوگوں میں شعور آتا ہے اور ووٹ کی اہمیت کا بھی پتہ چلتا ہے ووٹر کو اپنے ووٹ کا حق ضرور استعمال کرنا چاہیے۔
زاہد مسعود
عوام کو پولنگ سٹیشن ضرور جانا چاہیے اور الیکشن کے دن کو ہالیڈے سمجھ کر گھر پر آرام نہیں کرنا چاہیے بلکہ اپنی سوچ اور نظریے کے مطابق ووٹ کاسٹ کرنا چاہیے۔ ہمارے ہاں بیس پچیس فیصد عوام ووٹ ڈالے جاتے ہیں اور پندرہ فیصد ووٹ لینے والا کامیاب ہو جاتا ہے جو قابل فخر بات نہیں ہے دوسری بات ہمارے ووٹر کو یہ دیکھنا چاہیے کہ ان کے حقوق کیا ہیں اور برادری سسٹم سے ہٹ پر ایسے امیدوار کا انتخاب کرنا چاہیے جنہیں ان کے مسائل کا ادراک ہو۔
پروین ملک 
 ہماری دعا ہے کہ الیکشن مقررہ وقت پر ہوں، ہمیں اپنی رائے کے اظہار کا موقع ملے ۔مگر ایسے آثار اور شواہد بھی مل رہے ہیں جس سے لگتا ہے الیکشن آگے جائیں گے ۔ اس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہمارے عوام اب بھی کس حد تک اپنے ملک کے معاملات میں عمل دخل رکھتے ہیں ۔موجودہ الیکشن ایک کسوٹی ثابت ہو سکتے ہیں ۔ ہمیں توقع بھی یہی کرنی چاہئے کہ منصفانہ انتخابات کا انعقاد سب کی توجہ کا مرکز ہونا چاہئے اور ہماری دعا بھی یہی ہے۔